رسائی کے لنکس

logo-print

سوڈان: فوجی حکومت کے خلاف مظاہرے، 7 افراد ہلاک


سوڈان میں فوج کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ گزشتہ کئی ماہ سے جاری ہے۔

سوڈان کے دارلحکومت خرطوم سمیت ملک بھر میں ہزاروں افراد فوجی اقتدار کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے۔ مظاہرین اور سیکورٹی اہل کاروں کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں سات افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔

سوڈان میں تین ماہ قبل طویل عرصے سے اقتدار پر براجمان عمر البشیر کا تختہ الٹ کر فوج نے حکومت سنبھال لی تھی، تاہم ملک بھر کی جمہوری قوتیں اقتدار دوبارہ عوام کو منتقل کرنے کے لیے سراپا احتجاج ہیں۔

سوڈان میں اس سے قبل بھی فوج کے خلاف مظاہروں کے نتیجے میں درجنوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

مقامی حکام کے مطابق تازہ جھڑپوں میں اب تک سات افراد ہلاک اور دو سو سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔

عمر البشیر کے اقتدار کے خاتمے کے بعد حکومتی نظم و نسق فوجی کونسل چلا رہی ہے۔ اقتدار کی پرامن منتقلی کے لیے فوجی کونسل اور جمہوریت نواز قوتوں کے درمیان مذاکرات جاری تھے جو تعطل کا شکار ہو گئے ہیں۔

گزشتہ ماہ کے آغاز میں خرطوم میں فوجی ہیڈکوارٹر کے باہر دھرنا دینے والے مظاہرین پر فوج نے دھاوا بول دیا تھا جس میں متعدد افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

مظاہرین نے دعویٰ کیا تھا کہ فوجی کارروائی کے نتیجے میں 128 افراد ہلاک ہوئے تھے جب کہ حکام کے مطابق اس واقعے میں 61 افراد ہلاک ہوئے۔

محکمہ صحت کے حکام کے مطابق اتوار کی شب ہونے والی جھڑپوں میں سات افراد ہلاک جب کہ 181 زخمی ہوئے ہیں۔ 27 زخمی افراد کو گولیاں لگیں ہیں۔

سوڈان میں احتجاج کا سلسلہ گزشتہ سال دسمبر میں شروع ہوا تھا۔ اس وقت مظاہرین ملک میں معاشی بحران کے باعث 30 سال سے اقتدار پر موجود صدر عمر البشیر کے خلاف سراپا احتجاج تھے۔

رواں سال اپریل میں فوج نے عمر البشیر کا تختہ الٹ کر اقتدار سنبھال لیا تھا۔ تاہم اب مظاہرین فوج کو اقتدار چھوڑنے اور اسے عوام کو منتقل کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG