رسائی کے لنکس

logo-print

مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال غلطی تھی: سوڈانی فوج


فائل فوٹو

سوڈان میں حکمراں فوجی کونسل نے اعتراف کیا ہے کہ تین جون کو خرطوم میں فوجی ہیڈکوارٹر کے باہر حکومت مخالف دھرنے کو طاقت کے ذریعے منتشر کرنا غلطی تھی۔

خیال رہے کہ سوڈان میں فوج نے حال ہی میں طویل عرصے سے بر سر اقتدار عمر البشیر کا تختہ الٹنے کے بعد ملک کا نظم و نسق سنبھال لیا تھا تاہم اب جمہوریت نواز قوتیں اقتدار کی عوام کو جلد منتقلی کے لیے سراپا احتجاج ہیں۔

فوجی کونسل کے ساتھ مذاکرات کی ناکامی پر تین جون کو فوج نے مظاہرین پر دھاوا بول دیا تھا جس کے نتیجہ میں ڈاکٹرز کے مطابق 120 افراد ہلاک ہو گئے تھے، تاہم سرکاری طور پر 61 افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق ہوئی تھی۔

فوج کے ترجمان شمس الدین کباشی نے نیوز کانفرنس کے دوران بتایا کہ 'منصوبہ یہ تھا کہ فوجی مرکز کے باہر سے دھرنا ختم کیا جائے تاہم بدقسمی سے کچھ غلطیاں ہوئیں جس سے نقصان ہوا.'

انھوں نے بتایا کہ واقعے کی تحقیقاتی رپورٹ ہفتے کو جاری کی جائے گی۔

فوجی ترجمان نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ حالیہ دنوں میں فوج کے اندر سے بغاوت کی دو کوششوں کا ناکام بنا کر کچھ فوجی افسران کو حراست میں لیا گیا ہے۔

فوجی کونسل کے مخالفین نے ملک بھر میں 'سول نافرمانی' تحریک چلانے کی کال واپس لے کر فوجی حکام سے ایک بار پھر مذاکرات شروع کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

حالیہ پرتشدد واقعات کے بعد سوڈان میں اب معمولات زندگی بحال ہو رہے ہیں، دارلحکومت خرطوم میں ٹریفک کا دباؤ بڑھ گیا ہے، جبکہ اہم کاروباری مراکز بھی کھل گئے ہیں۔

شمالی ضلع 'بہاری' میں اب بھی فوج تعینات ہے جہاں منگل کے روز سابق حکمران عمرالبشیر پر کرپشن الزامات کے تحت کارروائی شروع کی گئی ہے۔

تنازعے کے حل لیے امریکی کوششیں

افریقی ملک ایتھوپیا کی جانب سے ثالثی کی کوششوں کے بعد امریکہ نے بھی افہام و تفہیم کے ذریعے معاملہ حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

سوڈان کے لیے امریکہ کے ایلچی ڈونلڈ بوتھ نے فوجی حکام اور جمہوریت نواز رہنماؤں سے ملاقاتیں بھی کی ہیں۔

ڈونلڈ بوتھ کا کہنا تھا کہ امریکہ کی خواہش ہے کہ فریقین کسی ایسے قابل عمل سمجھوتے پر پہنچ جائے جو سوڈان کی عوام کی توقعات کے مطابق ہو۔

جمہوریت نواز جماعتوں کے اتحاد نے امریکی ایلچی سے ملاقات کے دوران زور دیا ہے کہ تین جون کی ہلاکتوں اور فوج کی دیگر کارروائیوں کی شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں۔

XS
SM
MD
LG