رسائی کے لنکس

logo-print

عمر البشیر کے گھر پہ چھاپہ، بھاری غیر ملکی نقدی برآمد


فائل

سوڈان کے پبلک پراسیکیوٹر نے اقتدار سے سبک دوش کیے گئے صدر عمر البشیر کے خلاف تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔ ایک عدالتی ذریعے نے ہفتے کے روز ’رائٹرز‘ کو بتایا کہ اُن کے خلاف منی لونڈرنگ اور کسی قانونی جواز کے بغیر بھاری مالیت کی غیر ملکی کرنسی رکھنے کا الزام ہے۔

ذریعے نے بتایا کہ ملٹری انٹیلی جنس نے بشیر کے گھر کی تلاشی لی جس دوران اہلکاروں کو نقدی سے بھری بوریاں ملی ہیں جن میں سے 351000 سے زائد ڈالر، 60 لاکھ یوروز کے علاوہ 50 لاکھ سوڈانی پاؤنڈ برآمد ہوئے۔

ایک عدالتی ذریعے نے ’رائٹرز‘ خبر رساں ادارے کو بتایا کہ ’’چیف پبلک پراسیکیوٹر نے (سابق) صدر کو فوری طور پر حراست میں لینے اور پوچھ گچھ کرنے کا حکم دیا، تاکہ ان کے خلاف مقدمے کی کارروائی کی جا سکے‘‘۔

ذریعے نے مزید کہا ہے کہ ’’پبلک پراسیکیوٹر سابق صدر سے کوبار قیدخانے میں پوچھ گچھ کریں گے‘‘۔

تفتیش کے بارے میں رد عمل معلوم کرنے کے لیے ہفتے کے روز فوری طور پر اُن کے رشتہ داروں سے رابطہ نہیں ہو سکا۔

عمر البشیر ملک کے مغرب میں واقع دارفر علاقے میں قتل عام کے الزامات پر بین الاقوامی عدالت انصاف کو بھی درکار ہیں۔ اُنھیں 11 اپریل کو فوج نے برطرف کیا تھا، جس سے قبل کئی ماہ تک ان کے دور حکومت کے خلاف احتجاج جاری رہا، جنھیں اپنے گھر نظر بند کر دیا گیا تھا۔

بشیر کے اہل خانہ نے گذشتہ ہفتے بتایا تھا کہ سابق صدر کو خرطوم میں سخت سیکورٹی والے قیدخانے میں بند کر دیا گیا ہے۔

بشیر کا تعلق ایک غریب خاندان سے تھا۔ وہ خود کہا کرتے تھےکہ ان کا تعلق ’ہوش بناغہ‘ نامی ایک چھوٹے سے گاؤں سے تھا اور اُن کے والدین زرعی پیشے سے وابستہ تھے۔

ان کا کچا گھر دریائے نیل کے کنارے سادہ مٹی اور گارے سے بنا ہوا تھا، جو خرطوم کے شمال میں 150 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG