رسائی کے لنکس

سوڈان: حکومت کا خواتین کے ختنہ پر پابندی کا فیصلہ


فائل فوٹو

سوڈان کی رہائشی حاکم ابراہیم صرف سات برس کی تھیں جب انہیں ختنہ کے عمل سے گزرنا پڑا تھا۔ ایسا صرف انہی کے ساتھ نہیں ہوا تھا بلکہ ان کے ملک میں اکثر لڑکیوں کو کم عمری میں اس عمل سے گزرنا پڑتا ہے۔

سوڈان میں لڑکیوں کے ختنہ کا رواج عام ہے جسے اب وہاں کی نئی حکومت بدلنے کی کوشش کر رہی ہے۔

اب حاکم ابراہیم کی عمر 40 برس سے زائد ہو چکی ہے اور وہ چار بچوں کی والدہ بھی ہیں۔ انہیں ختنہ کے عمل سے گزرے کئی سال بیت چکے ہیں لیکن اب بھی وہ اسے یاد کرتی ہیں اور اسے انتہائی تکلیف دہ تجربہ قرار دیتی ہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق خواتین کے ختنہ کا رواج افریقہ، مشرق وسطٰی اور ایشیا کے کچھ ممالک میں بہت عام ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں اس عمل کے خلاف ہیں اور اس کے خلاف مہم بھی چلا رہی ہیں۔

حاکم ابراہیم اپنے اس تجربے سےمتعلق بتاتی ہیں کہ جس دن انہیں ختنہ کے عمل سے گزرنا پڑا تھا، اس سے ایک رات قبل دارالحکومت خرطوم میں ان کی محلہ دار خواتین ان کے گھر جمع ہو کر گانے گا رہی تھیں اور خوشی کا اظہار کر رہی تھیں۔ انہوں نے حاکم کے ہاتھوں پر مہندی بھی لگائی تھی۔

پھر وہ دن آیا جب انہیں ایک چھوٹے سے کمرے میں لے جایا گیا جہاں ایک خاتون نے ان کے ختنہ کیے۔ حاکم ابراہیم کے بقول "میں ایک بستر پر لیٹی ہوئی تھی اور بے انتہا درد سے گزر رہی تھی۔ یہ درد مجھے ایک ہفتے تک رہا تھا۔"

فائل فوٹو
فائل فوٹو

اقوامِ متحدہ کے مطابق سوڈان میں ہر 10 میں سے نو خواتین کو ختنہ کے عمل سے گزرنا پڑتا ہے۔ یہ عمل لڑکیوں میں جنسی خواہشات کے خاتمے کے لیے کیا جاتا ہے۔ بعض اوقات بے ہوشی یا غنودگی کی دوا دیے بغیر ہی انہیں اس عمل سے گزارا جاتا ہے۔

ختنہ سے گزرنے والی خواتین کو ازدواجی زندگی میں بھی جنسی عمل یا بچوں کی پیدائش کے دوران شدید تکلیف سے گزرنا پڑتا ہے اور اکثر خواتین کو مختلف انفیکشنز کا بھی سامنا رہتا ہے۔

انسانی حقوق کے لیے سرگرم تنظیمیں خواتین کے ختنہ کو ظالمانہ عمل قرار دیتی ہیں جو ان کے بقول خواتین کو جسمانی، نفسیاتی اور جنسی مسائل کا شکار کرتا ہے۔ حتٰی کے کچھ کیسز میں خواتین کی موت بھی ہو جاتی ہے۔

خواتین کے ختنہ کے خلاف سوڈان کی کابینہ نے گزشتہ ہفتے جرائم کے قوانین میں ترامیم کی منظوری دی ہے۔ جس کے تحت خواتین کے ختنہ کرنے والوں کو سزا دی جا سکے گی۔ انہیں تین سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔

توقع کی جا رہی ہے کہ سوڈانی حکام جلد ہی قانون میں ان ترامیم کی توثیق کر دیں گے۔

یہ اقدام سوڈان میں جاری ان اصلاحات کا ایک حصہ ہے جو ایک سال قبل بڑے پیمانے پر مظاہروں کے نتیجے میں سوڈان کے طاقتور حکمران عمر البشیر کی معزولی کے بعد کی جا رہی ہیں۔ عمر البشیر کے 30 سالہ طویل دور حکومت خلاف 2019 میں بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے تھے اور اس تحریک میں خواتین نے اہم کردار ادا کیا تھا۔

فائل فوٹو
فائل فوٹو

سوڈان میں خواتین کے ختنہ پر پابندی سے متعلق اقدام کو انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی سراہ رہی ہیں۔ خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم زینب بدرالدین کہتی ہیں کہ یہ فیصلہ سوڈانی خواتین کے لیے بہت اہم ہے۔

تاہم بدرالدین کا کہنا تھا کہ سزاؤں کا دائرہ کار ان خاندانوں تک بھی بڑھانا چاہیے جو اپنی رشتہ دار خواتین کو اس عمل سے گزارنے کے لیے دباؤ میں رکھتے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کی بچوں سے متعلق ذیلی تنظیم 'چلڈرنز فنڈ' نے بھی سوڈان میں خواتین کے ختنہ پر پابندی کے اقدام کا خیر مقدم کیا ہے۔

اقعوامِ متحدہ کے مطابق خواتین کے ختنہ کا رواج افریقہ، مشرق وسطیٰ اور ایشیا کے بعض ممالک میں وسیع پیمانے پر پھیلا ہوا ہے جس سے لاکھوں لڑکیوں اور خواتین کی زندگیاں متاثر ہو رہی ہیں۔

حاکم ابراہیم بھی اس تبدیلی سے خوش ہیں اور امید رکھتی ہیں کہ ان اصلاحات کے بعد لوگوں کو میں یہ آگہی بڑھے گی کہ وہ اپنی بچیوں کو اسی جسمانی حالت میں رکھیں جس میں وہ پیدا ہوتی ہیں۔

سوڈان کے پڑوسی ملک مصر اور کئی دیگر ممالک، جہاں خواتین کے ختنہ کا رواج عام تھا، نے بھی اس عمل پر پابندی لگا دی ہے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG