رسائی کے لنکس

logo-print

ریپ کا شکار خواتین کے ٹیسٹ کا طریقۂ کار عدالت میں چیلنج


فائل فوٹو

پاکستان میں ریپ کا نشانہ بننے والی خواتین کے ورجنیٹی ٹیسٹ (کنوار پن جانچنے) کے طریقۂ کار کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے اِسے تبدیل کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔

اس ٹیسٹ کے خلاف حزبِ اختلاف کی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کی رکن قومی اسمبلی شائستہ پرویز ملک نے عدالت سے رجوع کیا ہے۔

درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ریپ کے کیسز میں میڈیکل ٹیسٹ کا مروجہ طریقۂ کار توہین آمیز ہے اور ملک کی اعلیٰ عدالتیں بھی اس ٹیسٹ کے نتائج پر انحصار نہیں کرتیں۔ لہذا اس ٹیسٹ کا طریقۂ کار تبدیل کیا جائے۔

شائستہ پرویز نے اپنی درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ آئین کا آرٹیکل 14، تمام شہریوں کے ذہنی و جسمانی تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔ لیکن جنسی زیادتی کے کیسز میں مروجہ میڈیکو لیگل طریقۂ کار زیادتی کی شکار خواتین اور بچیوں کے ساتھ دوبارہ وہی مکروہ عمل دہرانے کے مترادف ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے شائستہ پرویز ملک نے بتایا کہ جنسی زیادتی کا شکار ہونے والی خواتین کا کنوار پن چیک کرنے کا عمل طبی اعتبار سے ناقابلِ اعتماد ہے اور اس کی کوئی ٹھوس سائنسی بنیاد نہیں ہے۔

اُن کے بقول اِس ٹیسٹ کے دوران متاثرہ خواتین کو بہت زیادہ تذلیل کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے وہ مزید ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتی ہیں۔

ورجنیٹی ٹیسٹ کیا ہے؟

پنجاب کے ایک سرکاری اسپتال میں تعینات سینئر سرجن ڈاکٹر اعجاز احمد بتاتے ہیں کہ پاکستان میں ریپ کی شکار خواتین کے 'ورجنیٹی ٹیسٹ' مختلف طریقوں سے کیے جاتے ہیں جن میں پردۂ بکارت کی جانچ پڑتال، خون کے نمونے اور 'ٹو فنگر' کا طریقۂ کار شامل ہے۔

ڈاکٹر اعجاز نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ جنسی زیادتی کا شکار ہونے والی خواتین کے ساتھ زیادتی کی تصدیق کے لیے پردۂ بکارت کو انگلی کی مدد سے چیک کیا جاتا ہے کہ ٰآیا وہ پھٹا ہے یا نہیں۔ اگر پردہ پھٹا ہوا ہے تو کیا اُس سے خون بہا ہے؟

ڈاکٹر اعجاز کے بقول ورجنیٹی ٹیسٹ کی بنیاد اس مفروضے پر قائم ہے کہ پردۂ بکارت صرف انٹر کورس کے نتیجے میں ہی پھٹتا ہے جو ان کے بقول درست نہیں۔

جنسی زیادتی کےخلاف شعور اجاگر کرنے کے لئے آرٹ
please wait

No media source currently available

0:00 0:02:05 0:00

واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل اور عالمی ادارۂ صحت بھی ورجنیٹی ٹیسٹ کو تکلیف دہ، توہین آمیز اور اذیت ناک قرار دیتے ہوئے اس پر پابندی کا مطالبہ کرچکے ہیں۔ لیکن پاکستان سمیت دنیا کے کئی ملکوں میں یہ بدستور رائج ہے۔

پاکستان میں ورجنیٹی ٹیسٹ کیسے ہوتا ہے؟

جناح اسپتال لاہور کی سابقہ میڈیکو لیگل افسر اور شعبہ گائنی کی ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر ریحانہ کنول کہتی ہیں کہ ویمن ورجنیٹی ٹیسٹ صرف سرکاری اسپتالوں سے ہی ہوتا ہے اور اس بارے میں نجی اسپتالوں کی رپورٹ قابلِ قبول نہیں ہوتی۔

ڈاکٹر ریحانہ کنول نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ویمن ورجنیٹی ٹیسٹ میں سب سے پہلے متاثرہ خاتون کا ماضی معلوم کیا جاتا ہے کہ زبردستی ریپ کتنی بار ہوا، ریپ کرنے والے کتنے افراد تھے، کتنے عرصے سے ریپ ہو رہا تھا، آخری بار ریپ کب ہوا، آخری بار ریپ ہونے کے بعد کیا متاثرہ خاتون نے غسل کیا یا نہیں؟ جس کے بعد سر سے پاؤں تک جانچ پڑتال کی جاتی ہے۔

ڈاکٹر ریحانہ کے بقول متاثرہ خاتون سے یہ معلوم بھی کیا جاتا ہے کہ آیا اس نے دوسرے فریق کو روکنے کی کوشش کی تھی یا نہیں۔ اس پورے عمل کے بعد ڈاکٹر کو سر سے پاؤں تک کا جائزہ لے کر تفصیل لکھنی ہوتی ہے۔

ان کے بقول متاثرہ خاتون کے ٹیسٹ میں یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ اس کے جسم کے اندر مردانہ جرثومہ موجود ہے یا نہیں۔ اگر جرثومہ موجود ہو تو اسے ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے بھیجا جاتا ہے۔

ڈاکٹر ریحانہ کہتی ہیں کہ میڈیکو لیگل افسر کسی کو بھی تعینات کیا جا سکتا ہے اور اُس کے لیے صرف گائناکالوجسٹ ہونا ضروری ہے۔ لیکن ان کے بقول قواعد کے مطابق اگر مرد ڈاکٹر کسی متاثرہ خاتون کا ورجنیٹی ٹیسٹ کرے گا تو اُس کے لیے خاتون نرس کا پاس ہونا ضروری ہوتا ہے۔

'ٹو فنگر' ٹیسٹ پر اعتراضات

قانونی ماہرین کے مطابق پاکستان میں جنسی زیادتی کے بہت سے کیسز رپورٹ ہی نہیں ہوتے جس کی ایک وجہ ان کیسز کی ٹریٹمنٹ بھی ہے جن میں سرِ فہرست ورجنیٹی ٹیسٹ کا نامناسب طریقۂ کار ہے۔

واضح رہے کہ بھارت کی سپریم کورٹ بھی 2013 میں خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کی تصدیق کے لیے مستعمل 'ٹو فنگر' ٹیسٹ کی درستگی پر سوال اٹھاتے ہوئے اسے متاثرہ خاتون کی نجی، جسمانی اور نفسیاتی وقار کے منافی ٹھیرا چکی ہے۔

لاہور ہائی کورٹ کے سینئر وکیل محمد شفیق بلوچ کہتے ہیں کہ اس پورے عمل میں سب سے قابلِ اعتراض بات یہ ہے کہ قانون کے مطابق اگر کوئی خاتون 'ٹو فنگر' ٹیسٹ پر پورا نہ اترے تو ٹیسٹ کرنے والے ڈاکٹر اپنی رپورٹ میں یہ لکھنے کے مجاز ہیں کہ متاثرہ خاتون کے ساتھ ریپ (زبردستی جنسی زیادتی) نہیں ہوا۔

شفیق بلوچ کے بقول ریپ کے بعد بہت سی خواتین اپنا ٹیسٹ خوف کے مارے بھی نہیں کراتیں کیوں کہ اُنہیں خدشہ ہوتا ہے کہ اسپتال میں اُن کے ساتھ اچھا سلوک نہیں ہوگا اور دوران ٹیسٹ بھی اُنہیں اسی اذیت سے سے گزرنا ہے جس سے وہ ریپ کے دوران دوچار ہوئیں۔

شفیق بلوچ کے مطابق بعض اوقات مرد ڈاکٹر بھی ورجنیٹی ٹیسٹ کرتے ہیں اور ایسی شکایات بھی رپورٹ ہوئی ہیں کہ ورجنیٹی ٹیسٹ کے دوران خواتین کی تصاویر لے کر جاری کردی گئیں یا طبی عملے نے دورانِ ٹیسٹ خواتین کے ساتھ بدتمیزی کی کوشش کی۔

پاکستان میں خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی سماجی رہنما فرزانہ باری کہتی ہیں کہ ملک میں ورجنیٹی ٹیسٹ کا مروجہ طریقۂ کار غلامی کے دور کا عکاس ہے جسے پاکستان میں بہت پہلے تبدیل ہو جانا چاہیے تھا۔

ان کے بقول پاکستان میں کام کرنے والے میڈیکو لیگل افسران کی اِس حوالے سے کوئی خاص تربیت بھی نہیں ہے۔ ان کے بقول پاکستان میں ڈی این اے ٹیسٹ کے نتائج تسلیم کیے جاتے ہیں تو ایسے میں اس طرح کے ٹیسٹ کا جواز باقی نہیں رہتا جس سے کسی کی پرائیویسی بھی متاثر ہوتی ہو۔

لاہور ہائی کورٹ میں ٹیسٹ کے خلاف دوسری پٹیشن

لاہور ہائی کورٹ نے تاحال شائستہ پرویز ملک کی یہ درخواست سماعت کے لیے مقرر نہیں کی ہے۔ البتہ اِس سے قبل بھی عدالتِ عالیہ میں ایسا ہی ایک کیس قابل سماعت قرار دیا جا چکا ہے جس پر لاہور ہائی کورٹ کی جج جسٹس عائشہ اے ملک نے سماعت کرتے ہوئے وفاقی اور صوبائی حکومت سمیت دیگر اداروں سے جواب بھی طلب کیا ہے۔

اس کیس کی سماعت چار اپریل کو ہونا تھی، لیکن کرونا وائرس کے باعث یہ سماعت نہیں ہو سکی کیوں کہ عدالتیں ان دنوں صرف فوری نوعیت کے مقدمات کی سماعت کر رہی ہیں۔

مذکورہ کیس بعض خواتین سماجی کارکنوں کی جانب سے دائر کیا گیا تھا جس میں جنسی زیادتی کا شکار بننے والی خواتین کے ورجنیٹی ٹیسٹ کرنے کے اقدام کو چیلنج کیا گیا ہے۔

درخواست میں استدعا بھی کی گئی ہے کہ ورجنیٹی ٹیسٹ کو خواتین کے بنیادی آئینی حقوق، تقدس اور وقار کے منافی ہونے پر غیر آئینی قرار دیا جائے اور اس ٹیسٹ کے امتیازی سلوک پر مبنی ہونے کے باعث اس پر پابندی عائد کی جائے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG