رسائی کے لنکس

logo-print

سوڈانی صدر کا وارنٹ گرفتاری کے باوجود کینیا کا دورہ


سوڈان کے صدر عمر البشیر

سوڈان کے صدر عمر البشیر نے عالمی عدالت کی جانب سے نسل کشی اور دیگر جنگی جرائم کے الزام میں جاری ہونے والے اپنے وارنٹ گرفتاری کے باوجود جمعہ کے روز کینیا کے نئے آئین کے حوالے سے نیروبی میں منعقدہ ایک تقریب میں شرکت کی ۔

عالمی عدالت برائے جنگی جرائم نے سوڈان کے علاقے دارفر میں انسانیت کے خلاف جرائم کے ارتکاب اور دیگر الزامات کے تحت گذشتہ سال سوڈانی صدر کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔ جبکہ گذشتہ ماہ عدالت کی جانب سے سوڈانی صدر کے خلاف چارج شیٹ میں نسل کشی کے الزام کا بھی اضافہ کردیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ کینیا عالمی عدالت کا رکن ملک ہے جو عدالت کے چارٹر کی رو سے اس کے احکامات پر عمل درآمد کا پابند ہے۔

حقوقِ انسانی کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کی ایک ترجمان نے واقعے پہ تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر عمر البشیر کی جانب سے کینیا کے نئے آئین کے حوالے سے منعقدہ تقریب میں شرکت نے "کینیا کی اس تاریخی پیش رفت کو ہمیشہ کے لیے داغدار کردیا ہے"۔

عالمی عدالت سے وابستہ استغاثہ کی جانب سے سوڈانی صدر پہ دارفر میں مقیم شہریوں کے خلاف قتل، زنا بالجبر اوردیگر جنگی جرائم پر مشتمل تحریک کی منصوبہ بندی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں، جبکہ سوڈانی حکومت نے الزامات کی تردید کرتے ہوئے عالمی عدالت کے دائرہ اختیار کو تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے۔ سوڈان کی سرکاری افواج ملک کے جنوبی خطے دارفر میں مصروف ِعمل مقامی باغیوں کے خلاف 2003 سے کاروائی میں مشغول ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق دارفر میں متحارب گروپوں کے درمیان جاری لڑائی اور اس سے منسلک تشدد کے واقعات میں اب تک تین لاکھ افراد ہلاک جبکہ 27 لاکھ بے گھر ہوچکے ہیں، جبکہ سوڈانی حکومت علاقے میں ہلاکتوں کی تعداد10000 بتاتی ہے۔

XS
SM
MD
LG