رسائی کے لنکس

logo-print

صوفیانہ کلام و لوک موسیقی کا پاکستانی ثقافت سے اٹوٹ رشتہ


صوفیانہ کلام، لوک موسیقی اور لوک کلچر بھی ہماری ثقافت کا ہی حصہ ہے۔۔ اور بقول سندھی لوک فنکارہ شازیہ خشک اور صوفیانہ کلام میں اپنا ثانی نہ رکھنے والی سنگر عابدہ پروین ۔۔۔’یہ بہت روشن حصہ ہے، جو انمٹ بھی ہے‘

’ثقافتی دنیا‘، کسی بھی ملک کی ہو، اس کی وسعت کو پہنچنا ناممکن نظر آتا ہے۔ پاکستان کی ثقافت بھی اتاہ گہرائیاں لئے ہوئے ہے۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ ’سندھی اجرک، ملتانی کھسہ، میانوالی کی کھیڑی، خدا جانے کیا کیا ہماری ثقافت میں شامل ہیں۔ ہمارے ہنرمند، اپنے ہنر کو ’فن لطیف‘ بنا دیتے ہیں۔ پھر ایسے بھی ہیں جو فن کو ’فسوں‘ بنا دیتے ہیں۔

صوفیانہ کلام، لوک موسیقی اور لوک کلچر بھی ہماری ثقافت کا ہی حصہ ہے ۔۔ اور بقول سندھی لوک فنکارہ شازیہ خشک اور صوفیانہ کلام میں اپنا ثانی نہ رکھنے والی سنگر عابدہ پروین ۔۔۔’یہ بہت روشن حصہ ہے، جو انمٹ بھی ہے‘

پیس جیم 2014: ایک شام صوفیانہ موسیقی کے نام
’صوفیانہ کلام اور لوک کلچر میں رچی بسی موسیقی‘ مٹی کی خوشبو لئے دلوں کو چھوتی اور مقبولیت پاتی ہے۔ اس کی تانیں سننے والوں کو اپنے سحر میں جکڑ لیتی ہیں ۔‘پچھلے دنوں، رفیع پیر کلچرل کمپلیکس لاہور میں ان الفاظ کو زندہ جاویداں بنانے والی ایک خصوصی شام منعقد ہوئی جس نام تھا ’پیس جیم 2014‘۔۔ اور جسے سجایا تھا ’وال نٹ اسٹوڈیوز‘ نے۔

’انسائیکلومیڈیا پی آر‘ فرم نے وائس آف امریکا کو اس محفل سے متعلق تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ محفل میں ملک کے جانے مانے گلوکاروں نے شرکت کر کے اسے چار چاند لگا دئیے۔

لوک موسیقی کے بڑے بڑے نام اس محفل کو سجانے پہنچے تھے جن میں سائیں ظہور اور صنم ماروی سے لے کر ثریا خانم، فیصل آباد کے رضوان معظم قوال، لاہور کے اسرار نبی بخش، گلگت بلتستان کی بزم لائقہ، ٹانک کی زرسانگہ، بھٹ شاہ کے ’شاہ جو راگ‘ کے فقیر اور لاہورکے پپو سائیں بھی شامل تھے جنہوں نے اپنی جادوئی آواز سے سماع باندھ دیا۔

محفل کے شرکا ڈوبتی ابھرتی تانوں کے ساتھ جھوم جھوم اٹھتے تھے۔ عقیدت کے رنگ میں ڈوبے عارفانہ کلام کی مختلف ویڈیوز بھی تیار کی گئیں جسے رمضان کے مہینے میں ہی ڈیجیٹل پر ریلیز کیا جائے گا۔

سرزمین سندھ: فقیروں کے راگ رنگ کی امین
پاکستان میں جہاں تفریحی سرگرمیاں کم ہوتی ہیں خاص کر موسیقی کی محفلیں ۔۔۔وہاں اگر کوئی صوفیانہ کلام اور پاکستان کی لوک موسیقی کو آگے لانے کے لئے کچھ کرتا ہے تو یہ یقیناً بہت زیادہ قابل تحسین ہے۔

شازیہ خشک بھی اس حقیقت کو تسلیم کرتی ہیں۔ اسی لئے یہ نظریہ رکھتی ہیں کہ ’دنیا بھر میں لوک موسیقی سننے والوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے جبکہ صوفیانہ کلام امن اور محبت کا پیغام ہے۔ اس وقت ہمیں ایسے ہی کلام کی ضرورت ہے جو لوگوں کو امن محبت اور قومی یکجہتی کا پیغام دے سکے۔‘

سندھ کی سرزمین فقیروں کے راگ رنگ کی امین ہے۔۔۔اور یہ ’راگ رنگ‘ہماری صدیوں پرانی ثقافت کا حصہ ہے۔ سندھ میں اسے ’کافی‘ یا ’وائی‘ کی شکل میں آگے بڑھایا جاتا ہے کیوں کہ یہاں ’کافی‘ ہی اصل میں ’وائی‘ کا روپ دھارے ہوئے ہے۔ صنف وہی ہے، مگر حضرت شاہ لطیف نے ’کافی‘ کو ’وائی‘ کا نام دے دیا۔ یہ نام پورے سندھ میں پھیل گیا۔ شیخ ایاز بھی ’وائی‘ لکھتے رہے۔ اسی طرح پنجابی میں ’جَس‘ ، ’ڈھولا‘ اور ’ماہیا‘ لکھا جاتا ہے۔

سرحد کے دونوں جانب نئی نسل کے کچھ گلوکاروں نے پھر سے صوفیانہ کلام اور لوک موسیقی کو جدید طرز میں ڈھال کر پھر سے گانا شروع کر دیا ہے، جس کے سبب نئی نسل کے باقی افراد بھی ان اصناف سے واقف ہورہے ہیں ورنہ ’قصوری ٹھمری‘ میں ’کافی‘ گانے والوں کی ہی مثال لے لیں۔۔اب اس کی سننے اور گانے والے کم ہی رہ گئے ہیں۔

صورتحال کچھ بھی ہو سچ یہی ہے کہ یہ سب پاکستانی موسیقی اور ثقافت کا حصہ ہے۔ دیہات میں تو یہ سب ابھی بھی کہیں کہیں اور کبھی کبھی ہی سہی گایا۔۔اور سنا جاتا ہے۔ لیکن، شہروں میں صورتحال ذرا مختلف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے پاس جتنے بھی بڑے لوک فنکار اور گلوکار و موسیقار ہیں ان میں سے بیشتر کا تعلق دیہات سے جڑا ہوا ہے۔

XS
SM
MD
LG