رسائی کے لنکس

logo-print

خواجہ آصف کی تاحیات نااہلی کا فیصلہ کالعدم


خواجہ آصف (فائل فوٹو)

خواجہ آصف کی اپیل کی سماعت سپریم کورٹ کے جج جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کر رہا تھا۔ بینچ نے چند سماعتوں کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا تھا جو جمعے کو سنایا گیا۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے سابق وزیرِ خارجہ اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ آصف کو تاحیات نااہل قرار دینے کے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے انہیں عام انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دے دی ہے۔

خواجہ آصف کو گزشتہ ماہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے دبئی کا اقامہ اور ملازمت کی تفصیلات ظاہر نہ کرنے پر آئین کی دفعہ 62 ون ایف کے تحت نااہل قرار دیا تھا جس کے خلاف انہوں نے دو مئی کو سپریم کورٹ میں نظرِ ثانی کی اپیل دائر کی تھی۔

خواجہ آصف کی اپیل کی سماعت سپریم کورٹ کے جج جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کر رہا تھا۔ بینچ نے چند سماعتوں کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا تھا جو جمعے کو سنایا گیا۔

بینچ نے اپنے متفقہ فیصلے میں کہا ہے کہ فیصلے کی وجوہات بعد میں بیان کی جائیں گی۔

جمعے کو فیصلہ سنائے جانے سے قبل سپریم کورٹ کے بينچ نے خواجہ آصف کی تاحیات نااہلی کے فیصلے کے خلاف درخواست کی آخری سماعت کی۔

اس موقع پر عثمان ڈار کے وكيل نے دلائل میں کہا کہ خواجہ آصف وفاقى وزير ہوتے ہوئے غير ملكى كمپنى ميں ملازمت كرتے رہے لہذا ان کا یہ اقدام مفادات كا ٹکراؤ ہے۔

بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ كيا مفادات كے ٹكراؤ سے نا اہلى ہو سكتى ہے؟ دنيا ميں مفادات كے ٹكراؤ پر بہت بحث ہوئى۔ امریکی صدر ٹرمپ كى بيٹى حكومتى معاملات ميں ذمہ دارياں سر انجام ديتى ہے اور ان کا داماد اپنا كام كرتا ہے۔ لہذا كيا مفادات كے ٹكراؤ پر نا اہلى ہونى چاہيے يا عوامى عہدے داروں كو وارننگ دى جائے؟

وکیل خواجہ آصف نے کہا کہ آرٹیکل 184 تھری کے مقدمے میں شواہد کا بوجھ درخواست گزار کے کندھوں پر ہوتا ہے۔ ہر بھول یا غلطی پر آرٹیکل 62 ون ایف کا اطلاق نہیں ہوتا اور جہاں حقائق تسلیم کر لیے جائیں تو پینلٹی نااہلی ہوسکتی ہے۔ قانون کے تحت اثاثوں کے ذرائع بتانا لازمی نہیں۔ اثاثہ وہی ہوگا جو تنخواہ سے بچت ہوگی۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس میں کہا کہ گیارہ بجے بتائیں گے کہ فیصلہ سنانا ہے یا محفوظ کرنا ہے۔ کسی نتیجے پر پہنچے تو فیصلہ سنا دیں گے اور اگر کسی نتیجے پر نہ پہنچے تو فیصلہ محفوظ کر لیں گے۔

وقفے کے بعد جب سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو عدالت نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے خواجہ آصف کی تاحیات نااہلی کو ختم کردیا اور اس بارے میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل تین رکنی لارجر بینچ نے گزشتہ ماہ تحریکِ انصاف کے رہنما عثمان ڈار کی درخواست پر وزیرِ خارجہ خواجہ آصف کو نااہل قرار دیا تھا۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا تھا کہ خواجہ آصف کو آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہل کیا گیا اور وہ 2013ء کا الیکشن لڑنے کے اہل بھی نہیں تھے۔

ہائی کورٹ کے تفصیلی فیصلے میں کہا گیا تھا کہ خواجہ آصف این اے 110 سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہونے کے اہل نہیں تھے۔ عدالت کو منتخب نمائندوں کو نااہل کرنے کے عدالتی اختیار کا استعمال اچھا نہیں لگتا۔ سیاسی قوتوں کو اپنے تنازعات سیاسی فورم پر حل کرنے چاہئیں۔

فیصلے میں کہا گیا تھا کہ سیاسی معاملات عدالتوں میں آنے سے سائلین کا وقت ضائع ہوتا ہے۔ پارلیمنٹ فیڈریشن کے اتحاد کی علامت ہے اور عزت و تکریم کی حق دار ہے۔ عوام کا پارلیمنٹ پر اعتماد اراکین کے کردار پر منحصر ہے۔ درخواست گزار کی سیاسی جماعت عدالت آنے کی بجائے پارلیمنٹ میں معاملہ اٹھاتی تو مناسب تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG