رسائی کے لنکس

سیاسی معاملات کو پارلیمان میں حل ہونا چاہیے: قائدِ حزبِ اختلاف


قائد حزب اختلاف خورشید شاہ (فائل فوٹو)

حکمران مسلم لیگ ن کے راہنما اور وزیر مملکت برائے خزانہ رانا افضل کا کہنا ہے کہ اعلیٰ عدلیہ کو آرٹیکل 62 ون، ایف کی تشریح خود کرنے کی بجائے اس معاملے کو  پارلیمان کو بھیج دینا چاہیے تھا۔

پاکستان کی پارلیمان کے ایوان زیریں' قومی اسمبلی' میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے کہا ہے کہ حکمران جماعت مسلم لیگ( ن) کے راہنما اور وزیر خارجہ خواجہ آصف کی نااہلی پر کوئی بھی سیاستدان خوش نہیں ہے اور ان کے بقول پارلیمان کو اپنے فیصلے خود کرنے چاہیں۔

واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے جمعرات کو 2013 کے عام انتخابات میں سیالکوٹ سے منتخب مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی خواجہ آصف کو اثاثے چھپانے کا مرتکب قرار دیتے ہوئے نااہل قرار دے دیا۔

اسلام ہائی کورٹ نے خواجہ آصف کو آئین کے آرٹیکل 62 ون۔ایف، کے تحت نااہل قرار دیا ہے جو پارلیمان کے رکن کے لیے صادق و امین ہونا لازمی قرار دیتا ہے۔

پپیلز پارٹی کے راہنما خورشید شاہ نے جمعے کو اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئےخواجہ آصف کو نااہل قرار دینے کے عدالتی فیصلے پر اپنے ردعمل میں کہا کہ پارلیمان کو اپنے فیصلے خود کرنے چاہیئیں۔

" اپنے فیصلے ہم خود نہیں کرتے ہیں، یہ بدقسمتی ہے کہ یہ ( آئین کا آرٹیکل) 62، 63 (سابق فوجی حکمران) ضیاالحق کا دیا ہوا قانون ہے، میں اس کا شمار کالے قوانین میں کرتا ہوں۔"

انہوں نے مزید کہا،" میں سیاسی کارکنوں جن کا تعلق چاہیے کسی بھی جماعت سے ہے ان میں سے میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ پاکستان کی بقا پارلیمانی سیاست میں ہے۔"

دوسری طرف بعض قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ سیاست دان اپنے معاملات خود حل کرنے کی بجائے خود عدلیہ کے پاس لے کر گئے اور عدلیہ آئین و قانون کے مطابق فیصلے کرنے کی پابند ہے۔

سپریم کورٹ کے سینئر وکیل کامران مرتضیٰ نے جمعے کو وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی قانون سے متعلق تحفظات کو پارلیمان میں قانون سازی کے ذریعے دور کیا جاسکتا ہے۔

جمعے کو وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا " پارلیمان بااختیار ہے اور بہتر ہوتا کہ اس ادارے کے لوگ پارلیمان میں اپنے معاملات کو حل کر لیتے۔ اگر 62 ون ۔ایف میں کوئی ابہام ہے یا اس میں کوئی بات مناسب نہیں ہے تو اس معاملے کو اسی طرح خود پارلیمان میں حل کر لیتے۔"

انہوں نے کہا اب بعد از خرابی بسیار وہ کہہ رہے کہ عدالت کی بجائے یہ معاملہ پارلیمان میں حل ہونا چاہیے۔

تاہم حکمران مسلم لیگ ن کے راہنما اور وزیر مملکت برائے خزانہ رانا افضل کا کہنا ہے کہ اعلیٰ عدلیہ کو آرٹیکل 62 ون، ایف کی تشریح خود کرنے کی بجائے اس معاملے کو پارلیمان کو بھیج دینا چاہیے تھا۔

انہوں نے کہا " اس قانون کی تشریح کا معاملہ تھا اور تشریح کے لیے یہ معاملہ پارلیمان کےبھیج دیاجانا چاہیے تھا لیکن جج صاحبان نے اس کی خود تشریح کی کہ یہ پارلیمان کی منشا تھی کہ ساری زندگی کے لیے نااہل قرار دے دیا جائے۔ "

انہوں نے مزید کہا " یہ غلط تشریح ہے۔ پارلیمان کے کسی بھی پرانے یا نئے رکن سے پوچھ لیں۔ ( آرٹیکل ون ایف )کی تشریح ان کی رائے میں کبھی بھی یہ نہیں تھی کہ (اس قانون کے تحت ) تاحیات کسی کو نااہل کر دیا جائے۔"

واضح رہے کہ پاکستان کی سپریم کورٹ، سابق وزیر اعظم نواز شریف اور حزب مخالف کی جماعت تحریک انصاف جہانگیر ترین کو بھی اثاثے چھپانے کی جرم میں آرٹیکل ون۔ایف کے تحت تاحیات نااہل قرار دے چکی ہے اور بعض قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس قانون کو تبدیل نہ کیا گیا تو مزید قانون ساز بھی اس سے متاثر ہو سکتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG