رسائی کے لنکس

logo-print

دولت باہر بھیجنے کی پالیسیاں بنانا حکومت کی ناکامی ہے، چیف جسٹس


سپریم کورٹ، فائل فوٹو

سپریم کورٹ نے بیرون ملک پاکستانیوں کی جائیداد سے متعلق کیس میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور بینک افسران کے زیر استعمال بڑی گاڑیاں واپس لینے کا حکم دیتے ہوئے ایک سال کی غیر ملکی ترصیلات کی تفصیلات بھی طلب کرلیں ہیں۔

سپریم کورٹ میں پاکستانیوں کے غیر ملکی اکاؤنٹس سے متعلق کیس کی سماعت چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے جمعرات کے روز کی۔

سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کسٹم حکام جو نان کسٹم پیڈ گاڑیاں پکڑ تے ہیں ان کی تفصیلات دی جائیں۔ نان کسٹم پیڈ گاڑیاں افسران خود استعمال کرتے ہیں۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اسٹیٹ بینک بھی بتائے ان کے پاس کتنی بڑی گاڑیاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مجھے معلوم ہے چیئرمین ایف بی آر کے پاس 1300 سی سی گاڑی ہے۔ یہ قوم کا پیسہ ہے قوم کے لئے مشعل راہ بنیں۔

گورنر اسٹیٹ بینک طارق باجوہ نے کہا کہ میرے پاس ایک جیپ بھی ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ جیپ آپ کیسے استعمال کر سکتے ہیں؟ میں نے تمام چیف جسٹس صاحبان سے بھی تفصیل مانگی ہے۔ پالیسی بنائیں گے اور تمام بڑی گاڑیوں کا معاملہ دیکھیں گے کیا کرنا ہے۔

چیئرمین ایف بی آر نے مؤقف پیش کیا کہ کچھ گاڑیاں یوایس ایڈ نے دیں۔ ڈبل کیبن آپریشنل گاڑیاں ہیں۔ سپریم کورٹ نے ایف بی آر اور بینک افسران کے زیر استعمال بڑی گاڑیاں واپس لینے کا حکم بھی دیا۔

غیر ملکی اکاؤنٹس سے متعلق چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ حکومت نے خود پیسہ باہر لے جانے کے لئے پالیسیاں بنائیں۔ یہ ریاست کی ناکامی ہے۔ اب اگر کوئی اثاثے چھپائے تو حکومت مفلوج ہے۔ ملک کی بقا بیرون ملک اثاثوں اور پانی سے وابستہ ہے۔ ملک میں پینے کے لئے بھی پانی نہیں مل رہا۔ میں کسی کی سفارش پر دی جانے والی نوکری پر بات کروں تو وہ ناراض ہو جاتا ہے۔

چیف جسٹس نے گورنر اسٹیٹ بینک طارق باجوہ سے استفسار کیا کہ کتنے پاکستانیوں کے سوئٹزر لینڈ اور دیگر ممالک میں اکاؤنٹس ہیں؟ بیرون ملک املاک بھی خریدی گئی ہیں۔ جہانگیر ترین نے کتنے ملین ڈالرز بیرون ملک بھیج دیئے؟ اور باہر اثاثے بنا لیے ہیں۔ لیکن انہوں نے گوشواروں میں کچھ اور بتایا ہے۔ ہمیں بتا دیں وہ رقم واپس کیسے آ سکتی ہے؟

گورنر اسٹیٹ بینک نے جواب دیا کہ ٹی او آر میں اس کا طریقہ کار شامل ہے کہ غیر قانونی طریقے سے منتقل رقم واپس کیسے لائی جا سکتی ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کیا ہم انتظار کریں حکومت اثاثے واپس لانے کے لئے پہلے معاہدہ کرے اور پھر عدالتی کارروائی ہو؟، کیا ایف بی آر اپنے ٹیکس ہولڈر سے نہیں پوچھ سکتا کہ ان کے بیرون ملک اکاؤنٹ ہیں یا نہیں؟، اگر ٹیکس ادا کرنے والا معلومات نہ دے تو ہم فارن اکاؤنٹس کا معلوم نہیں کر سکتے؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارا سسٹم مفلوج ہے۔ ایک سال میں جتنی رقم باہر بھیجی گئی ساری معلومات لیں۔

جسٹس عمر عطاء بندیال نے ریمارکس دیئے کہ اگر ایف بی آر کے پاس کوئی چھڑی نہیں تو ایمنسٹی اسکیم کیوں دیتے ہیں۔ گورنر اسٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ ایمنسٹی اسکیم میں جو لوگ سہولت سے فائدہ اٹھائیں گے تو ان کی معلومات سامنے آ جائے گی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اب مقصد یہ ہے کہ ستمبر سے قبل ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ اٹھا لیں۔

عدالت نے ایک سال میں 50 ہزار ڈالر سے اوپر ٹرانزیکشنز کے ریکارڈ سے متعلق طلب کرلی ہے۔ عدالت نے ہدایت کی کہ تفصیلات سر بمہر لفافے میں پیش کی جائے جس کے بعد عدالت نے کیس کی سماعت ایک ہفتے کے لیے ملتوی کردی گئی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG