رسائی کے لنکس

سابق مشیر ہوا بازی کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا حکم


پی آئی اے کا ایک تیار اسلام آباد کے بے نظیر بھٹو انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر لینڈ کرنے والا ہے (فائل فوٹو)

چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ پی آئی اے کو نقصان پہنچانے کے کسی بھی ذمہ دار کو نہیں چھوڑیں گے۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی مجوزہ نجکاری سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران سابق مشیر ہوا بازی شجاعت عظیم کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ پی آئی اے کو نقصان پہنچانے کے کسی بھی ذمہ دار کو نہیں چھوڑیں گے۔

چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے منگل کو کیس کی سماعت کی۔ اس موقع پر وزیرِ اعظم کے مشیر برائے ہوا بازی سردار مہتاب عباسی اور سابق مشیر ہوا بازی شجاعت عظیم عدالت میں پیش ہوئے۔

دورانِ سماعت ماہرِ معاشیات اور کیس میں عدالتی معاون ڈاکٹر فرخ سلیم نے عدالت کو بتایا کہ گزشتہ نو برسوں کے دوران قومی ایئر لائن کو مجموعی طور پر 360 ارب روپے کا نقصان ہوا۔

فرخ سلیم نے عدالت کو بتایا کہ آمدن سے زیادہ اخراجات خسارے کی اصل وجہ ہے۔ ایئرلائن کا 88 فی صد خسارہ گزشتہ 10 سال کا ہے۔ نقصان کی وجہ سیاسی اثر و رسوخ، پیکج اور ایوی ایشن پالیسی ہے۔ گزشتہ 10 سال میں پی آئی اے میں تقرریاں سیاسی بنیادوں پر ہوئیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ٹیکس کے پیسے کو پی آئی اے والے کھاتے جا رہے ہیں۔ 2013ء سے 2016ء تک جہاز لیز پر لیے گئے اور لیز پر لے کر گراؤنڈ کر دیے گئے۔

ڈاکٹر فرخ سلیم نے عدالت کو بتایا کہ لیز کے جہاز گراؤنڈ ہونے سے 6.67 ارب روپے نقصان ہوا۔ ان کے بقول 2013ء میں پی آئی اے کے دو لاکھ 87 ہزار ٹکٹس مفت بانٹے گئے جس سے پانچ ارب کا نقصان ہوا۔ صرف 2016ء میں پی آئی اے کے میڈیکل اخراجات تین ارب روپے کے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ پی آئی اے کو نقصان پہنچانے کے ذمہ داروں کو نہیں چھوڑیں گے۔ قومی احتساب بیورو (نیب) کے پراسیکیوٹر یہاں موجود ہیں، آپ بھی معاملے کو دیکھیں۔ کیا پی آئی اے کے سابق ایم ڈیز ان سوالات کا جواب مجموعی طور پر دیں گے یا الگ الگ؟ کیا یہ معاملہ نیب کو بھیج دیں؟

اس دوران چیف جسٹس نے کمرۂ عدالت میں موجود شجاعت عظیم کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ شجاعت عظیم، آپ عدالت میں جیب سے ہاتھ نکال کر کھڑے ہوں۔ آپ ملک سے باہر نہیں جا سکتے۔ یہ سب نقصان آپ کے دور میں ہوا۔ عدالت تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دے گی۔ پی آئی اے کا بیڑا غرق کر کے رکھ دیا۔ ہر آدمی کہتا ہے ملک کا نقصان نہیں کیا۔ کیا آسمان سے فرشتے آکر اربوں روپے کھا گئے؟ شجاعت عظیم! آپ کو بتانا پڑے گا کہ آپ کی مشیر ہوا بازی تقرری کیسے ہوئی؟ اس ملک کا ایک پیسہ جانے نہیں دیں گے۔ کیٹرنگ کے ٹھیکے کس کو دیے گئے ہیں، معلوم ہے۔ کس نے ہاؤسنگ سوسائٹی بنائی، ہمیں سب معلوم ہے۔

شجاعت عظیم نے اس موقع پر عدالت کی اجازت سے کہا کہ وہ دو سال وزیرِ اعظم کے مشیر رہے۔ اپنے دور کی کارکردگی بتانا چاہتا ہوں۔

شجاعت عظیم نے عدالت کو بتایا کہ اسلام آباد ایئرپورٹ پر صرف چار بیت الخلا تھے جو اب 32 ہیں۔ صرف اسلام آباد ایئرپورٹ پر میں نے 32 واش روم بنوائے۔ ملک میں پہلی ایوی ایشن پالیسی میں نے بنائی۔

عدالت نے ڈاکٹر فرخ سلیم کی 10 سالہ جائزہ رپورٹ پر پی آئی اے کے سابق ایم ڈیز سے تحریری جواب طلب کرتے ہوئے شجاعت عظیم کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ڈالنے کا حکم دے دیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ شجاعت عظیم کے خلاف تحقیقات کرکے ریفرنس فائل کیا جائے۔

چیف جسٹس نے کمرۂ عدالت میں موجود مہتاب عباسی کو مخاطب کرتے ہوئے سوال کیا کہ کیا میں آپ کو تحقیقاتی کمیٹی کا چیئرمین بنا دوں؟ اس پر مہتاب عباسی نے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ میں کمزور آدمی ہوں، یہ کام نہیں کر سکتا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہو سکتا ہے تحقیقاتی کمیٹی کا چیئرمین خود بن جاؤں۔ بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت دو ہفتوں تک ملتوی کردی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG