رسائی کے لنکس

ارکانِ پارلیمان کے سر پر تلوار نہیں لٹکنی چاہیے، سپریم کورٹ


فائل

چیف جسٹس نے واضح کیا کہ عمران خان نا اہلی کیس کی سماعت مکمل نہیں کی صرف دلائل مکمل ہوئے ہیں۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ ارکانِ پارلیمان ہمارے نمائندے ہیں اور ان کے سر پر تلوار نہیں لٹکنی چاہیے۔

بدھ کو پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما جہانگیر ترین کی نااہلی کے لیے دائر درخواست کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ سب کو ایک ترازو میں پرکھنا ہے، غلطی نہ ہو اس لیے تحمل سے مقدمات سن رہے ہیں۔

جہانگیر ترین کی نااہلی سے متعلق مسلم لیگ (ن) کے رہنما حنیف عباسی کی درخواست کی سماعت کے دوران چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ فیصلہ سنانے میں تاخیر نہ ہو۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان اور اب جہانگیر ترین نااہلی کیس میں کسی وکیل نے اس نکتے پر عدالت کی معاونت نہیں کی کہ بے ایمانی ہوتی کیا ہے؟

سماعت کے دوران جہانگیر ترین کے وکیل سکندر بشیر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ جہانگیر ترین کے خلاف درخواست عوامی مفاد میں نہیں بلکہ سیاسی مقاصد کے لیے دائر کی گئی، درخواست پاناما کیس کا ردِ عمل ہے۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ کیا جہانگیر ترین نہیں چاہتے کہ اسکروٹنی کے جو پیرامیٹر پانام کے مقدمے میں طے ہوئے انکا اطلاق ان پر بھی ہو؟

چیف جسٹس نے کہا نواز شریف کے عمران خان سیاسی حریف ہو سکتے ہیں، لیکن درخواست کو بد نیتی نہیں کہہ سکتے۔

وکیل سکندر بشیر مہمند نے کہا کہ جہانگیر ترین آف شور کمپنی کے بینی فیشل مالک نہیں۔ انہوں نے بینک سے قرض معاف نہیں کرایا۔ قرضہ 2007ء میں معاف کرایا گیا۔ جہانگیر ترین 2010ء میں کمپنی کے ڈائریکٹر بنے اور 2013ء میں مستعفی ہوگئے تھے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ ایسا کوئی ثبوت نہیں کہ جہانگیر ترین بطور وزیر کمپنی کا قرض معاف کرانے پر اثر انداز ہوئے۔ دیکھنا ہے عوامی عہدہ رکھنے والے نے کرپشن یا دھوکہ دہی تو نہیں کی۔ پاناما کیس میں آف شور کمپنیوں سے متعلق درخواست کو ایک ساتھ سنا جانا چاہیے تھا۔

سکندر بشیر مہمند نے کہا پاناما کیس میں نااہلی تسلیم شدہ حقائق پر ہوئی۔ جہانگیر ترین 2013ء کے کاغذات نامزدگی پر نہیں، 2015ء کے ضمنی الیکشن میں قومی اسمبلی کے رکن بنے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ جہانگیر ترین نے ٹیکس گوشوارے 2013ء سے پہلے بھرے، الیکشن گوشوارے مئی 2013ء میں بھرے گئے۔ جہانگیر ترین کے انتخابی اور ٹیکس گوشواروں میں یکسانیت نہیں۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ میڈیا میں کہا گیا کہ مقدمہ کی 36 سماعتیں ہو چکی ہیں، لیکن ہم چاہتے ہیں کہ غلطی نہ ہو۔ اس لیے تحمل سے کیس کو سن رہے ہیں۔ ارکان پارلیمان ہمارے نمائندے ہیں۔ ان کے سر پر تلوار نہیں لٹکنی چاہیے۔ سب کو ایک ترازو میں پرکھنا ہے۔

جسٹس عمر عطا نے کہا کہ پاناما فیصلے کے بعد الیکشن گوشواروں کی اسکروٹنی کے معیار مزید سخت ہو گئے ہیں۔

حنیف عباسی کے وکیل اکرم شیخ نے کہا کہ عدالت نے عمران خان نا اہلی کیس کی سماعت مکمل کی لیکن فیصلہ محفوظ نہ کرنا عدالتی رولز کے برعکس ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں جتنی جلدی ہو یہ بوجھ ہمارے کندھوں سے اتر جائے۔ جج ہر روز امتحان میں ہو تا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عمران خان نا اہلی کیس کی سماعت مکمل نہیں کی صرف دلائل مکمل ہوئے ہیں۔

بعد ازاں عدالت نے جہانگیر ترین نا اہلی کیس کی سماعت جمعرات تک ملتوی کردی۔

سپریم کورٹ آف پاکستان میں عمران خان نااہلی کیس کے بعد حنیف عباسی کی دائر کردہ درخواست کی سماعت ہورہی ہے جس میں پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل جہانگیر خان ترین کی نااہلی کی درخواست کی گئی ہے۔

دائرہ کردہ پٹیشن میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ جہانگیر خان ترین نے بینکوں سے قرضے معاف کرائے اور ان کی آف شور کمپنیاں بھی ہیں جس کی بنا پر ان کو قومی اسمبلی کی نشست سے نااہل قرار دیا جائے۔

سپریم کورٹ میں عمران خان نااہلی کیس میں فریقین کے دلائل مکمل کرلیے ہیں لیکن بینچ نے اب تک فیصلہ محفوظ نہیں کیا۔

امکان ہے کہ جہانگیر خان ترین کے خلاف دائر پٹیشن کی سماعت مکمل ہونے کے ساتھ ہی دونوں درخواستوں کا فیصلہ محفوظ کرکے آئندہ چند روز میں سنایا جائے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG