رسائی کے لنکس

جسٹس عیسیٰ کیس: 'جائیدادیں جج کی اہلیہ کی ہیں اور کٹہرے میں حکومت کھڑی ہے'


سپریم کورٹ آف پاکستان (فائل فوٹو)

سپریم کورٹ میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے حکومت کی جانب سے ان کے خاندان کے افراد کی جائیدادوں کو مختلف ویب سائٹس کے ذریعے ڈھونڈنے کے مؤقف کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے میرے اہل خانہ کی جاسوسی کر کے جائیدادوں کی معلومات حاصل کی ہیں۔

دوسری جانب کیس کی سماعت کے دوران جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ اگر ججز قابل احتساب ہیں، تو حکومت بھی قابل احتساب ہے۔

دوران سماعت حکومتی وکیل فروغ نسیم نے کہا کہ جائیدادیں جج کی اہلیہ کی ہیں اور لگتا ہے کہ حکومت کٹہرے میں کھڑی ہے۔

جسٹس فائز عیسیٰ کا حکومتی مؤقف پر جواب

جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے اپنے وکیل منیر اے ملک کے ذریعے حکومتی مؤقف پر اپنا جواب عدالت میں جمع کرایا ہے۔ جس میں جسٹس فائز عیسٰی کا کہنا تھا کہ شہزاد اکبر اور ضیا المصطفیٰ نے عدالت کو اپنے پہلے مؤقف کے ذریعے گمراہ کرنے کی کوشش کی۔

جسٹس فائز عیسی کا دوران سماعت مزید کہنا تھا کہ شہزاد اکبر اور ضیا المصطفیٰ نے عدالت کو گمراہ کرنے پر معافی مانگنے کی بجائے 14 ماہ بعد ایک نیا مؤقف اپنا لیا۔ فریقین کی جانب سے نیا مؤقف یکم جون اور چھ جون کو جمع کرائے گئے دستاویزات میں اپنایا گیا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ نئے مؤقف کے مطابق میرے اہل خانہ کی جائیدادیں مختلف ویب سائٹس یا سرچ انجنز کے ذریعے تلاش کی گئیں۔ ویب سائٹس یا سرچ انجن کے ذریعے جائیدادوں کی تلاش عام ویب سائٹ طرز کی نہیں۔ سرچ انجن کے ذریعے جائیدادوں کو تلاش کرنے کے لیے ادائیگیوں سمیت مختلف مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت نے جائیدادوں کو سرچ انجن کے ذریعے تلاش کیا ہے۔ تو اس کے دستاویزی شواہد فراہم کیے جائیں۔ حکومت سرچ انجن کو ادائیگی کی تفصیلات فراہم کرے۔

جسٹس قاضی فائز عیسی (فائل فوٹو)
جسٹس قاضی فائز عیسی (فائل فوٹو)

دوران سماعت جسٹس فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ عدالت میں ثابت کر چکا ہوں کہ درخواست گزار وحید ڈوگر کو میرے اہل خانہ کے درست نام تک نہیں معلوم، درست نام کے اندراج کے بغیر جائیداد کی تلاش نہیں کی جا سکتی۔ درحقیقت جاسوسی کے ذریعے جائیدادیں ڈھونڈی گئیں۔

جسٹس فائز عیسیٰ نے درخواست کو کیس کا حصہ بنانے کی استدعا بھی کی ہے۔

جسٹس فائز عیسیٰ کی درخواست کی سماعت

دوسری جانب سپریم کورٹ میں جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 10 لارجر رکنی بینچ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس سے متعلق درخواستوں پر سماعت کی۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر یہ الزام ہے کہ اُنہوں نے اپنے اہل خانہ کے نام بیرونِ ملک جائیداد ٹیکس ریٹرنز میں ظاہر نہ کر کے ججز کے لیے طے شدہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی۔

سماعت کے دوران حکومتی وکیل فروغ نسیم نے کہا کہ آرٹیکل 63 کے تحت جائیدادیں ظاہر نہ کرنے والا رکن اسمبلی اپنی رکنیت سے محروم ہو جاتا ہے۔ جج بھی ‘سروس آف پاکستان’ میں آتا ہے۔ آرٹیکل 209 میں اہلیہ کو زیر کفالت یا خود کفیل رکھنا بلا جواز ہے۔ کسی جج کا اپنے یا اہلیہ کے نام جائیداد ظاہر نہ کرنا قابل سزا جرم ہے۔

فروغ نسیم کا دوران سماعت مزید کہنا تھا کہ ہمارا مرکزی مقدمہ یہ ہے کہ کن وسائل سے یہ جائیدادیں خریدی گئیں۔ آرٹیکل 116 کی خلاف ورزی ایک چھوٹا سا نکتہ ہے۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے دوران سماعت ریمارکس دیے کہ آپ کی دلیل یہ تھی کہ ہمارا مقدمہ شوکاز نوٹس جاری ہونے کا ہے۔ آپ کا نکتہ یہ تھا کہ مواد کونسل کے سامنے آنے کے بعد باقی چیزوں کی اہمیت نہیں رہی۔ جج کے مس کنڈیکٹ کو کسی قانون کی خلاف ورزی تک محدود نہیں کرسکتے۔

انہوں نے سوال کیا کہ ہمارے ملک میں 1990 کے بعد ایسا میکانزم بنایا گیا۔ جس کے تحت کوئی حساب نہیں۔ الزام یہ ہے کہ لندن کی جائیدادیں کیسے خریدی گئیں۔ آرٹیکل 10 اے پر بھی مطمئن کریں۔ صدارتی ریفرنس میں تشویش جائیداد خریدنے کے ذرائع پر ہے۔

جسٹس فائز عیسی کا دوران سماعت کہنا تھا کہ شہزاد اکبر اور ضیا المصطفی نے عدالت کو گمراہ کرنے پر معافی مانگنے کی بجائے14 ماہ بعد ایک نیا مؤقف اپنا لیا۔ (فائل فوٹو)
جسٹس فائز عیسی کا دوران سماعت کہنا تھا کہ شہزاد اکبر اور ضیا المصطفی نے عدالت کو گمراہ کرنے پر معافی مانگنے کی بجائے14 ماہ بعد ایک نیا مؤقف اپنا لیا۔ (فائل فوٹو)

جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ اگر ایف بی آر کہہ دے کہ اہلیہ نے جائیدادیں اپنے وسائل سے حاصل کی ہیں۔ تو پھر صورت حال کیا ہوگی؟ کیا اس بات کا امکان ہے کہ ایف بی آر اہلیہ سے ذرائع پوچھ لے؟

اس پر فروغ نسیم نے جواب میں کہا کہ ایف بی آر پوچھے اور اہلیہ جواب دے دیں تو کیس ختم ہو جائے گا۔ جس پر جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ پھر اس بات پر اصرار کیوں کر رہے ہیں کہ جواب قاضی فائز عیسی ہی دیں؟

فروغ نسیم نے کہا کہ وضاحت دینی ہے کہ پراپرٹیز کیسے خریدی گئیں، لیکن آج کے دن تک اس سوال کا جواب نہیں دیا گیا۔

جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ اہلیہ زیر کفالت ہو۔ اہلیہ کو اپنے والدین سے کچھ ملےتو کیا وہ بتانا بھی خاوند کی ذمہ داری ہے؟

دوران سماعت جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ کسی عمارت کی بنیاد غلط ہو تو غلط ڈھانچے پر عمارت کھڑی نہیں ہو سکتی۔

دوران سماعت فروغ نسیم نے کا کہنا تھا کہ اہلیہ کے اثاثے آمدن سے زائد ہیں۔

جسٹس منصور نے سوال کیا کہ اہلیہ کے اثاثے آمدن سے زیادہ ہیں تو اس کا تعین کس فورم پر ہوگا؟

جس کے جواب میں فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ سروس آف پاکستان کے تحت یہ جواب خاوند نے دینا ہے۔

جسٹس منیب اختر نے دوران سماعت کہا کہ آپ کا مقدمہ پراپرٹیز کی ملکیت سے ہے۔ کسی رہنے سہنے کے انداز کا مقدمہ آپ کا نہیں ہے۔ ریفرنس میں منی لانڈرنگ اور فارن ایکسچینج کی منتقلی کی بات کی گئی ہے۔

جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ایسا کون سا ریکارڈ ہے جس سے اہلیہ کے اثاثے آمدن سے زیادہ لگتے ہیں۔

فروغ نسیم نے بھارت میں ایک کیس کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ بھارت میں 6 لاکھ کی وضاحت نہ کرنے پر جج کو گھر بھیج دیا گیا۔ اسی مقدمے کی بنیاد پر بھارت میں عدالتی تاریخ رقم ہوئی۔

جس پر جسٹس مقبول باقر نے ریمارکس دیے کہ بھارت میں جج کے خلاف کارروائی کے وقت مکمل مواد پیش کیا گیا۔

جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ کیا جج صاحب ایف بی آر سے اپنی اہلیہ کا ٹیکس ریکارڈ لے سکتے ہیں۔ اگر ایف بی آر راز داری کی وجہ سے جج کو اہلیہ کا ریکارڈ نہیں دے گا تو جج انضباطی کارروائی کا سامنا کیسے کرے گا۔ اگر ایف بی آر شوہر کو اہلیہ کے گوشوارے یا ٹیکس معلومات دینے سے انکار کر دے تو پھر راستہ کیا ہوگا؟

جسٹس منصور علی شاہ کا کہنا تھا کہ ججز قابل احتساب ہیں تو حکومت بھی قابل احتساب ہے۔ عدالت اس نتیجے پر پہنچی کہ ریفرنس ٹھیک نہیں بنا تو ہو سکتا ہے حکومت کا احتساب ہو۔

فروغ نسیم نے کہا کہ بالکل وزیرِ قانون، وزیرِ اعظم، صدرِ مملکت سب قابل احتساب ہیں۔ جائیدادیں جج کی اہلیہ کی ہیں۔ لیکن لگتا ہے کٹہرے میں حکومت کھڑی ہے۔

جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ اگر بیگم صاحبہ ایف بی آر کو مطمئن نہ کر پائیں۔ تو اثاثے چھپانے کا کیس اہلیہ پر بنے گا۔ جج صاحب پر سارا الزام کیسے آئے گا؟

ان کا کہنا تھا کہ قانون دکھا دیں کہ خود کفیل اہلیہ وسائل بتانے میں ناکام ہوتی ہیں تو پھر بوجھ جج پر آئے گا۔ انضباطی کارروائی کا قانون بدل نہیں سکتا۔ سوشل میڈیا کا دور ہے جج پر جو مرضی کیچڑ اچھال دیں۔ آپ کہیں گے کہ جج کی ساکھ خراب ہو گئی۔

حکومتی وکیل فروغ نسیم نے کہا کہ جائیداد کی خریداری کی وضاحت نہ آنا بڑا اہم ہے۔ جھوٹی خبر شیئر ہوتی ہے۔ لیکن زیادہ دیر نہیں چل سکتی۔ یہاں پر جج کی اہلیہ اور بچوں کی لندن میں مہنگی جائیدادیں ہیں۔ یہ تاثر غلط ہوگا کہ جج صاحب اہلیہ کی جائیداد پر وضاحت نہیں دے رہے۔ جج صاحب نے جائیداد کی خریداری کے حوالے سے لاعلمی کا اظہار نہیں کیا۔

جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ قانون کے مطابق اہلیہ اور بچوں سے پوچھ لیں جائیداد کیسے خریدی؟

فروغ نسیم نے کہا کہ مجھے دلائل دینے میں مزید 2 دن لگ سکتے ہیں۔ جس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ لگتا نہیں 2 دن میں آپ دلائل مکمل کر پائیں گے۔

بعد ازاں کیس کی سماعت منگل تک ملتوی کر دی گئی۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس ہے کیا؟

وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور سندھ ہائی کورٹ کے جج جسٹس کے کے آغا کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کیے تھے۔ ریفرنس میں جسٹس فائز عیسیٰ اور کے کے آغا پر بیرونِ ملک جائیداد بنانے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

صدارتی ریفرنسز پر سماعت کے لیے سپریم جوڈیشل کونسل کا پہلا اجلاس 14 جون 2019 کو طلب کیا گیا تھا۔ اس حوالے سے اٹارنی جنرل آف پاکستان اور دیگر فریقین کو نوٹسز بھی جاری کیے گئے تھے۔

سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنسز کی سماعت اختتام پذیر ہو چکی ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے صدر مملکت کو خط لکھنے پر سپریم جوڈیشل کونسل میں ایک اور ریفرنس دائر کیا گیا تھا جسے گزشتہ دنوں کونسل نے خارج کر دیا تھا۔

بعد ازاں جسٹس فائز عیسیٰ نے عدالتِ عظمٰی میں سپریم جوڈیشل کونسل میں دائر کردہ ریفرنس کے خلاف ایک پٹیشن دائر کی جس پر عدالت نے فل کورٹ بینچ تشکیل دیا تھا۔ جسٹس عمر عطا بندیال اس بینچ کی سربراہی کر رہے ہیں۔

جسٹس فائز عیسیٰ کے وکیل منیر اے ملک اور بابر ستار نے دلائل مکمل کر لیے ہیں جن میں انہوں نے حکومتی ریفرنس کو بدنیتی قرار دیا ہے۔

اس ریفرنس میں اٹارنی جنرل انور منصور کے مستعفی ہونے کے بعد خالد جاوید کو اٹارنی جنرل بنایا گیا تھا۔ لیکن انہوں نے بھی فروری میں اس کیس کی سماعت کے دوران وفاق کی نمائندگی کرنے سے معذرت کرلی تھی۔

اس کے بعد وزیر قانون فروغ نسیم نے اپنی وزارت سے مستعفی ہوکر عدالت میں دلائل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG