رسائی کے لنکس

'بلوچستان کو خود سے حکمرانی کی اجازت کیوں نہیں دی جاتی؟'


فائل فوٹو

دورانِ سماعت صوبے کے سابق وزرائے اعلیٰ ثناء اللہ زہری اور عبدالمالک بلوچ عدالت میں پیش ہوئے۔

سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ بلوچستان کو خود سے حکمرانی کی اجازت کیوں نہیں دی جاتی؟ وہاں کے لوگ سیاسی طور پر طاقت میں نہیں۔ صوبے کو کسی جید رہنما کی ضرورت ہے۔

چیف جسٹس نے یہ ریمارکس بدھ کو سپریم کورٹ میں بلوچستان میں پانی کی قلت سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران دیے۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔

دورانِ سماعت صوبے کے سابق وزرائے اعلیٰ ثناء اللہ زہری اور عبدالمالک بلوچ عدالت میں پیش ہوئے۔

چیف جسٹس نے دونوں سابق وزرائے اعلیٰ سے استفسار کیا کہ کیا آپ اپنے صوبے میں پانی کی صورتِ حال سے مطمئن ہیں؟ بلوچستان میں جھیلیں سوکھ گئی ہیں۔ آپ نے کیا اقدامات کیے؟ ہمیں بلوچستان کی بہت فکر ہے۔ آپ نے حکومت کو فعال کرنے کی کوشش کی؟

سابق وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے جواب دیا کہ حکومت کو فعال کرنے کی بہت کوشش کی۔ امن و امان صحیح کیے بغیر کچھ درست نہیں ہوسکتا۔

انہوں نے کہا کہ 2013ء سے 2015ء تک صوبے میں جرائم کی شرح میں کمی ہوئی۔

چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا ان دنوں ہزارہ برادری کے قتلِ عام میں کمی ہوئی؟ اس پر سابق وزیرِ اعلیٰ نے بتایا کہ ہزارہ افراد کی ٹارگٹ کلنگ میں کمی ہوئی تھی۔ جب اقتدار سنبھالا تو فرقہ واریت سے متعلق واقعات میں 248 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ بعد ازاں ٹارگٹ کلنگ 248 سے کم ہو کر 48 پر آگئی تھی۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ صوبے میں 6054 اسکولوں کی دیواریں اور بیت الخلا نہیں ہیں۔ سو اسکولوں کو بھی سالانہ اپ گریڈ کریں گے تو چھ ہزار اسکولوں کو اپ گریڈ کرنے میں 60 سال لگیں گے۔ کوئٹہ کے ہسپتالوں میں سی سی یو اور دیگر سہولتیں نہیں ہیں۔ اسپتالوں کی حالت انتہائی خراب ہے جس کو دیکھ کر دکھ ہوا۔ جب میں نے دورہ کیا تو اسپتالوں کا عملہ کئی روز سے ہڑتال پر بیٹھا تھا۔ بلوچستان پسماندہ نہیں بلکہ دولت سے مالامال ہے۔ آپ قوم کے رہنما ہیں۔ بلوچستان کو جید رہنما کی ضرورت ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں بتائیں کہ عدلیہ بلوچستان کے حالات کے حوالے سے کیا کردار ادا کر سکتی ہے؟ عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ بلوچستان میں غیر جانب دارانہ الیکشن ہونا چاہیے۔ آج تک غیر جانب دار الیکشن نہیں ہوا۔ بلوچستان کو وفاق سے اس کا حصہ نہیں ملتا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہم سیاسی بات نہیں کرتے۔ آپ وزیرِ اعلیٰ تھے تو وفاق میں آپ کی حکومت تھی۔ بلوچستان میں پانی ختم ہو رہا ہے۔ یہی صورتِ حال رہی تو لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوں گے۔ تمام معاملات کو اس وقت زیرِ بحث نہیں لا سکتے۔ کل رات کوئٹہ رجسٹری میں سماعت کر لیتے ہیں۔ جنہوں نے کام نہیں کیا ان پر ذمہ داری عائد کرنا پڑے گی۔

بعد ازاں عدالت نے نوٹس کی سماعت جمعے تک ملتوی کرتے ہوئے بلوچستان کے جنوبی اور شمالی آئی جیز ایف سی کو طلب کر لیا۔ کیس کی آئندہ سماعت کوئٹہ میں ہوگی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG