رسائی کے لنکس

logo-print

سانحۂ تربت: ایف آئی اے اور بلوچستان حکومت سے رپورٹ طلب


فائل فوٹو

چیف سیکرٹری بلوچستان نے عدالت کو بتایا کہ تمام ایجنسیاں انسانی اسمگلنگ کے معاملے پر رابطے میں ہیں۔ ایجنسیوں کی کارروائیوں کے باعث شرپسند صرف دو اضلاع تک محدود ہوگئے ہیں۔

سپریم کورٹ آف پاکستان میں صوبۂ بلوچستان کے علاقے تربت میں 20 افراد کے قتل پر ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا ہے کہ اگر سرکاری افسران کارکردگی دکھائیں تو عدلیہ کندھا دینے کا تیار ہے۔

کیس کی سماعت چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں عدالتِ عظمیٰ کے تین رکنی بینچ نے جمعرات کو کی۔

سماعت کے موقع پر وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف ئی اے) کے ڈائریکٹر جنرل اور چیف سیکرٹری بلوچستان عدالت میں پیش ہوئے۔

اس موقع پر ڈی جی ایف آئی اے نے عدالت میں وسائل کی کمی کا شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس تفتیش کے لیے مطلوبہ وسائل نہیں ہیں۔

اس پر چیف جسٹس نے کہاکہ وسائل نہیں تو تسلیم کرلیں کہ آپ کچھ نہیں کرسکتے۔ کیا وسائل کا بہانہ سن کر ہم چپ کرکے بیٹھ جائیں؟

جسٹس عمر عطا بندیال نے ڈی جی ایف آئی اے سے سوال کیا کہ کونسی سرکاری ایجنسی آپ سے تعاون نہیں کر رہی؟

چیف جسٹس نے کہا کہ ڈی جی ایف آئی اے تسلیم کریں کہ انسانی سمگلنگ ختم نہیں کرسکتے۔ جرم ہونے سے پہلے روکنا ہی مہارت ہے۔ عدالت چاہتی ہے کہ ڈی جی یقین دہانی کرائیں کہ آئندہ ایسا واقعہ نہیں ہوگا۔

ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے بشیر میمن نے عدالت کو بتایا کہ 20 افراد کو لسانیت کی بنیاد پر دہشت گرد تنظیم نے قتل کیا۔ انہوں نے کہا کہ انسانی اسمگلنگ کے بین الاقوامی گینگ پاکستان، ایران اور ترکی میں بھی کام کرتے ہیں۔

چیف سیکرٹری بلوچستان نے عدالت کو بتایا کہ تمام ایجنسیاں انسانی اسمگلنگ کے معاملے پر رابطے میں ہیں۔ ایجنسیوں کی کارروائیوں کے باعث شرپسند صرف دو اضلاع تک محدود ہوگئے ہیں۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے دونوں افسران کو کہا کہ عدلیہ کندھا دینے کو تیار ہے، آپ کارکردگی دکھائیں۔

چیف جسٹس نے انسانی اسمگلنگ کے معاملے پر ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے اور بلوچستان حکومت سے تفصیلی رپورٹ طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت فروری کے پہلے ہفتے تک ملتوی کردی۔

بلوچستان کے علاقے تربت کے ایک پہاڑی علاقے سے گزشتہ ماہ 20 افراد کی لاشیں برآمد ہوئی تھیں جنہیں گولی مار کر قتل کیا گیا تھا۔

ہلاک ہونے والے تمام افراد کا تعلق صوبۂ پنجاب سے تھا جنہیں انسانی اسمگلر غیر قانونی طریقے سے ایران کے راستے یورپ لے جارہے تھے کہ وہ بلوچستان میں سرگرم ایک علیحدگی پسند تنظیم کے دہشت گردوں کی فائرنگ کا نشانہ بن گئے تھے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG