رسائی کے لنکس

logo-print

پرویز مشرف کو وطن واپسی کے لیے جمعرات تک کی مہلت


سابق صدر پرویز مشرف گزشتہ دو سال سے دبئی میں مقیم ہیں (فائل)

پاکستان کی سپریم کورٹ نے ملک کے سابق صدر پرویز مشرف کو وطن واپسی کے لیے جمعرات کی دوپہر تک کی مہلت دے دی ہے۔

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے بینچ نے بدھ کو سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کی سماعت کی۔

سابق صدر پرویز مشرف کو جمعرات کی دوپہر دو بجے تک واپسی کا ٹائم دیا گیا۔

سماعت کے دوران پرویز مشرف کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے مؤکل بغاوت کے مقدمے کا سامنا کرنے کو تیار ہیں۔ لیکن، انہیں تحفظ کی ضمانت دی جائے۔

اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عدالت پہلے ہی کہہ چکی ہے کہ پرویز مشرف واپس آئیں، انہیں تحفظ دیں گے۔ تاہم، عدالت لکھ کر گارنٹی دینے کے پابند نہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ پرویز مشرف سیاست دانوں کی طرح "میں آرہا ہوں، میں آرہا ہوں" کی گردان مت کریں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’’انہیں کس بات کا تحفظ چاہیے اور وہ کس خوف میں مبتلا ہیں؟ اگر وہ کمانڈو ہیں تو آکر دکھائیں۔ اتنا بڑا کمانڈو کیسے خوف کھا گیا؟‘‘

چیف جسٹس نے کہا کہ ’’پرویز مشرف جمعرات کی دوپہر دو بجے تک وطن واپس آجائیں ورنہ قانون کے مطابق فیصلہ کر دیں گے‘‘۔

عدالت نے خبردار کیا کہ ’’اگر پرویز مشرف وطن واپس نہ آئے تو ان کے کاغذاتِ نامزدگی کی جانچ پڑتال نہیں ہونے دی جائے گی‘‘۔

اس پر پرویز مشرف کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کے مؤکل کو رعشہ کا مرض ہے جس کے لیے میڈیکل بورڈ ہونا ہے۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ’’وہ ایئر ایمبولینس میں آجائیں، ہم میڈیکل بورڈ بنا دیتے ہیں‘‘۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ایک موقع پر یہ بھی کہا کہ ’’اگر پرویز مشرف کو رعشہ کی بیماری ہے تو وہ الیکشن میں آ کر مکا کیسے دکھائیں گے؟‘‘

بینچ میں شامل جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ ’’پرویز مشرف وطن واپس آ جائیں۔ آنے سے پہلے شرائط نہ رکھیں‘‘۔

بعد ازاں، عدالت نے معاملے کی سماعت جمعرات تک کے لیے ملتوی کردی۔

سپریم کورٹ نے گزشتہ ہفتے پرویز مشرف کو انتخابات لڑنے کی اجازت دیتے ہوئے ریٹرننگ افسران کو ان کے کاغذاتِ نامزدگی وصول کرنے کا حکم دیا تھا۔

تاہم، عدالت نے پرویز مشرف کے کاغذاتِ نامزدگی کی جانچ پڑتال ان کی وطن واپسی سے مشروط کرتے ہوئے انہیں کہا تھا کہ اگر وہ وطن واپس آجائیں تو انہیں گرفتار نہیں کیا جائے گا۔

پشاور ہائی کورٹ نے 2013ء کے عام انتخابات سے قبل اپنے ایک فیصلے میں کہا تھا کہ پرویز مشرف نے ملک کا آئین توڑا تھا جس پر عدالت نے اُن پر انتخابات میں حصہ لینے پر تاحیات پابندی عائد کر دی تھی۔

اس فیصلے کے خلاف پرویز مشرف نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر رکھی تھی جس پر چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے گزشتہ ہفتے اپنا فیصلہ سنایا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG