رسائی کے لنکس

logo-print

کراچی میں فوج کی زمینوں پر کمرشل سرگرمیاں ختم کرنے کا حکم


سپریم کورٹ کراچی رجسٹری کی عمارت (فائل فوٹو)

عدالت نے ریمارکس میں کہا ہے کہ کیا فوج کا کام شادیاں کرانا رہ گیا ہے؟ فوج کو کیا ہوگیا ہے؟ سمندر اور سڑکوں پر تجاوزات قائم کی جارہی ہیں اور عدالت میں آ کر ہمیں لوریاں سنائی جاتی ہیں۔

سپریم کورٹ نے کراچی میں دفاعی مقاصد کے لیے الاٹ زمینوں پر تمام تجارتی سرگرمیاں فوری طور پر ختم کرنے کا حکم دیا ہے۔

عدالت نے ریمارکس میں کہا ہے کہ کیا فوج کا کام شادیاں کرانا رہ گیا ہے؟ فوج کو کیا ہوگیا ہے؟ سمندر اور سڑکوں پر تجاوزات قائم کی جارہی ہیں اور عدالت میں آ کر ہمیں لوریاں سنائی جاتی ہیں۔

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں جمعرات کو جسٹس گلزار احمد اور جسٹس سجاد علی شاہ پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کراچی میں تجاوزات اور رہائشی علاقوں میں کمرشل سرگرمیوں سے متعلق کیس کی سماعت کی۔

عدالت نے ملک کے سب سے بڑے شہر میں غیر قانونی تعمیرات پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور فوری طور پر تمام غیر قانونی تعمیرات کو ختم کرنے کا حکم دیا۔

دورانِ سماعت سپریم کورٹ نے کارساز، شاہراہِ فیصل اور راشد منہاس روڈ کے اطراف فوجی زمینوں پر قائم تمام شادی ہالز ختم کرنے کا حکم دے دیا۔

عدالت نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ فوجی علاقوں میں تمام سنیما، کمرشل پلازے اور قائم مارکیٹس کو بھی ختم کیا جائے۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ کیا فوجیوں کا کام شادیاں کرانا ہے؟ فوج کو کیا ہو گیا ہے؟ یہ کن کاموں میں پڑ گئے ہیں؟ ان کا بس چلے تو یہ سڑکوں پر بھی شادی ہالز بنا ڈالیں۔ نیوی اور ایئر فورس کے اسلحہ ڈپو کے قریب شادی ہالز بن رہے ہیں۔ مہران ایئر بیس جہاں دہشت گردوں کا حملہ ہوا تھا، وہاں بھی شادی ہالز چل رہے ہیں۔

عدالت نے کہا کہ کراچی ائیرپورٹ پر حملہ ہوا اور وہاں پر بھی سول ایوی ایشن کے تحت شادی ہال قائم ہیں۔ فوجی اسلحہ ڈپو کے قریب کس طرح شادی ہالز بن سکتے ہیں؟ یہ سب کیا اور کیوں ہو رہا ہے؟

عدالت نے اپنے ریمارکس میں مزید کہا کہ شہر کی مصروف ترین سڑک شاہراہِ فیصل پر غیر قانونی دیواریں تعمیر کی گئیں اور جب عدالت نے حکم دیا کہ اسے گرایا جائے تو مشکل اس لیے آئی کیوں کہ وہ ایک میجر کی خواہش پر بنی تھیں۔

جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ ایک میجر بیٹھ جاتا ہے اور جو اس کا دل چاہتا ہے وہ کرتا پھرتا ہے۔ میجر صاحب کی خواہش تھی کہ دیواریں بنا کر اشتہارات سے آمدنی حاصل کریں۔

سپریم کورٹ نے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی کی کارکردگی پر بھی شدید برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ سمندر میں مٹی ڈال کر سمندر کو بھی بیچا جارہا ہے۔ کیا ڈی ایچ اے والے سمندر کو امریکہ سے ملانا چاہتے ہیں؟ لاہور میں بھی ڈی ایچ اے نے اتنی عمارتیں بنا ڈالی ہیں کہ بھارت تک جا پہنچے ہیں۔

جسٹس گلزار احمد نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کیا ان کا کام یہی رہ گیا ہے؟

عدالت نے سماعت کے دوران رہائشی پلاٹس کو کمرشل میں تبدیل کرنے اور تجاوزات کے خاتمے سے متعلق ادارۂ ترقیات کراچی کی رپورٹ بھی مسترد کردی۔

عدالت نے صوبائی افسران پر بھی برہمی کا اظہار کیا اور ایڈوکیٹ جنرل سندھ سلمان طالب الدین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ رپورٹ لوریاں سنانے کے مترادف ہے۔ رپورٹ کا مطلب یہ ہے کہ لوریاں سنو اور سوتے جاؤ۔ لیکن ہم یہاں لوری سن کر سونے کے لیے نہیں بیٹھے ہیں۔ اگر اس رپورٹ پر ہم نے آرڈر کیا تو آپ کی پوری حکومت ہل جائے گی۔

عدالتِ عظمیٰ کے ججز کا سماعت کے دوران مزید کہنا تھا کہ بیورکریٹ صرف اپنی ذات کے لیے سوچ رہے ہیں۔ عوام سے ان کا کیا تعلق؟

سماعت کے دوران عدالت نے شہر کو اس کے اصل ماسٹر پلان پر بحالی کے لیے آرکیٹیکٹس کے ساتھ مشاورت کرکے جامع رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے کہا کہ یہ بتایا جائے کہ کراچی کو اس کے اصل ماسٹر پلان کے تحت کیسے بحال کیا جائے گا؟

عدالتِ عظمیٰ نے کراچی کے کینٹونمنٹ بورڈز میں عسکری اداروں کی جانب سے کمرشل تعمیرات سے متعلق آئندہ سماعت پر اٹارنی جنرل، تمام کینٹونمنٹ بورڈز کے چیف ایگزیکٹوز اور منتخب نمائندوں کو بھی طلب کر لیا ہے۔

عدالت نے ایئرپورٹ سیکورٹی فورس، کراچی پورٹ ٹرسٹ، پی آئی اے، سول ایوی ایشن اتھارٹی اور دیگر اداروں کے سربراہوں کی طلبی کے نوٹسز بھی جاری کردیے ہیں۔

عدالت نے کراچی کو ماسٹر پلان کے تحت بحال کرنے کے لیے وزیرِ اعلیٰ سندھ کو بھی کابینہ کا اجلاس بلا کر اس پر فیصلہ کرنے کا حکم دیا ہے جب کہ اس حوالے سے دو ہفتوں میں عمل درآمد رپورٹ طلب کرلی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG