رسائی کے لنکس

logo-print

زینب قتل کیس کے مجرم کی سزائے موت کے خلاف اپیل خارج


پولیس حکام کے زینب کے قاتل کی گرفتاری کے بعد ایک پریس کانفرنس میں صحافیوں کو اس کے متعلق تفصیلات بتا رہے ہیں۔ (فائل فوٹو)

سماعت کے بعد زینب کے والد امین انصاری نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مجرم عمران کی سرِ عام پھانسی کا مطالبہ دہرایا۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے قصور میں آٹھ سالہ بچی زینب کو زیادتی کے بعد قتل کرنے کے مجرم عمران کی سزائے موت کے خلاف اپیل خارج کرتے ہوئے پھانسی کا حکم برقرار رکھا ہے۔

سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے منگل کو لاہور رجسٹری میں سماعت کے دوران لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے سزائے موت کا فیصلہ برقرار رکھنے کے خلاف مجرم عمران کی اپیل خارج کردی۔

بینچ کی سربراہی جسٹس آصف سعید کھوسہ کر رہے تھے جس میں جسٹس منظور احمد ملک اور جسٹس منصور علی شاہ شامل تھے۔

مقتولہ بچی زینب کے والد امین انصاری کے وکیل اشتیاق احمد نے سماعت کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا ہے کہ مجرم عمران علی کسی رعایت کا مستحق نہیں۔

سماعت کے بعد زینب کے والد امین انصاری نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مجرم عمران کی سرِ عام پھانسی کا مطالبہ دہرایا۔

انہوں نے کہا کہ وہ حکومتِ پاکستان اور عدلیہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ان کی بیٹی کے قاتل کو سرِ عام پھانسی دی جائے تاکہ مستقبل میں پورے پاکستان میں کسی اور کی بیٹی کے ساتھ ایسا واقعہ پیش نہ آئے۔

معصوم زینب کے قتل کے خلاف ملک بھر میں احتجاج اور مظاہرے ہوئے تھے (فائل فوٹو)
معصوم زینب کے قتل کے خلاف ملک بھر میں احتجاج اور مظاہرے ہوئے تھے (فائل فوٹو)

لاہور کی انسدادِ دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے 17 فروری کو زینب قتل کیس کے مرکزی ملزم عمران کو چار مرتبہ سزائے موت کا حکم سنایا تھا۔

مجرم نے عدالت کے اس حکم کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا لیکن ہائی کورٹ نے بھی 20 مارچ کو اس کی اپیل خارج کردی تھی۔

مجرم عمران نے رواں سال جنوری میں پنجاب کے ضلع قصور میں معصوم بچی زینب کو زیادتی کے بعد قتل کردیا تھا اور اس کی لاش کچرے کے ایک ڈھیر پر پھینک دی تھی۔

بچی کی لاش برآمد ہونے کے بعد قصور میں ہنگامے پھوٹ پڑے تھے اور ملک بھر میں اس بہیمانہ واقعے کے خلاف احتجاج کیا گیا تھا۔

مجرم عمران کے خلاف قصور کی ديگر سات بچيوں کے ساتھ زيادتی، ان کے قتل اور اقدامِ متقل کے مقدمات بھی زيرِ سماعت ہيں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG