رسائی کے لنکس

اطلاعات کے مطابق، عدالت نے اس سال کے اواخر میں مقدمے پر دلائل سننے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ ٹرمپ کے حکم نامے میں چھ مسلمان اکثریتی ملکوں کے شہریوں اور تمام مہاجرین کے سفر پر عبوری پابندی لگا دی گئی تھی

امریکی عدالت عظمیٰ نے کہا ہے کہ سفری پابندی کو محدود کرنے کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے انتظامی حکم نامے کی سماعت پر غور کیا جائے گا، اور یہ کہ فی الحال حکم نامے کا کافی حصہ نافذ العمل ہوگا۔

ٹرمپ کے نظر ثانی حکم نامے کے تحت، جسے سفری پابندی کے نام سے جانا جاتا ہے، زیادہ تر مسلمان آبادی والے چھ ملکوں پر 90 دن کی سفری پابندی لگا دی گئی تھی؛ جب کہ مہاجرین کے پروگرام پر 120 دِن کے لیے روک عائد کی گئی تھی۔

حکم نامے میں کہا گیا تھا کہ سکیورٹی اسکریننگ پر نظرثانی کے لیے یہ اقدامات ضروری ہیں تاکہ ملک کو بیرونی خطرات سے تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

سفری حکم نامے پر ریاست ہوائی اور میری لینڈ کی عدالتوں نے دو حکم امتناعی جاری کیے تھے؛ جن فیصلوں کو دو مختلف عدالتوں نے بحال کیا تھا۔

لیکن، ملک کی اعلیٰ ترین عدالت نے ایک وسیع تر توجیہ پیش کر دی ہے؛ جس کے تحت لیبیا، ایران، صومالیہ، سوڈان، شام اور یمن کے شہریوں اور مہاجرین کے پروگرام پر پابندی لگائی گئی ہے۔

تاہم، ججوں نے کہا ہے کہ اُس صورت میں سفری پابندی پر عمل درآمد نہیں ہو سکتا، اگر کسی غیر ملکی شہری کو امریکہ میں موجود کسی فرد یا ادارے کے ساتھ ضابطوں کے تحت کوئی قابل بھروسہ تعلق ثابت ہوتا ہو۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG