رسائی کے لنکس

کیا بچے ماں کی وفات کے بعد نانا کی وراثت میں حصے دار ہو سکتے ہیں؟


فائل فوٹو

پاکستان کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ نے ریمارکس دیے ہیں کہ کوئی خاتون اپنے والدین کے چھوڑے ہوئے اثاثوں میں وراثت کا دعویٰ صرف اپنی زندگی میں کر سکتی ہے۔

عدالتِ عظمیٰ کے یہ ریمارکس ایک ایسے کیس میں سامنے آئے ہیں جس میں دو خواتین کے بچوں نے اپنے نانا کی جائیداد میں حصہ لینے کے لیے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا۔

رپورٹس کے مطابق سپریم کورٹ کے جج جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے نانا کی جائیداد میں حق کے دعوے سے متعلق اپیل پر سماعت 22 ستمبر کو کی۔

عدالت نے نانا کی جائیداد میں حق کا دعویٰ مسترد کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ 'خواتین زندگی میں اپنا حق نہ لیں تو ان کی اولاد جائیداد کے حصول کے لیے دعویٰ نہیں کر سکتی۔'

یاد رہے کہ عیسیٰ خان نامی ایک شخص نے سنہ 1935 میں اپنی جائیداد اپنے بیٹے عبد الرحمٰن کے نام پر منتقل کر دی تھی اور اس جائیداد میں انہوں نے اپنی دونوں بیٹیوں کو کوئی حصہ نہیں دیا تھا۔

عیسیٰ خان کی دونوں بیٹیوں نے اپنی زندگیوں میں جائیداد کی اس تقسیم پر کوئی اعتراض نہیں اٹھایا تھا اور نہ ہی اسے چیلنج کیا تھا۔ ان دونوں بہنوں میں سے ایک کا انتقال سنہ 1980 اور دوسری کا انتقال 1984 میں ہو گیا تھا۔

البتہ سال 2004 میں ان کے بچوں نے اپنے نانا کی وراثت میں حق کا دعویٰ دائر کیا تھا جس پر پشاور کی مقامی عدالت نے ان کے حق میں فیصلہ دیا تھا۔ جسے بعد ازاں پشاور ہائی کورٹ نے کالعدم قرار دے دیا تھا۔

عدالتِ عالیہ کے فیصلے کو دونوں بہنوں کے بچوں نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا اور اب عدالتِ عظمیٰ نے بھی پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا ہے۔ البتہ اس کیس کا تفصیلی فیصلہ ابھی نہیں آیا ہے۔

'عدالتی ریمارکس کو سیاق وسباق سے ہٹ کر نہیں دیکھنا چاہیے'

قانونی ماہرین عدالتی ریمارکس اور مختصر فیصلے کو مختلف انداز میں دیکھتے ہیں۔

پاکستان کے سابق اٹارنی جنرل اور سینئر قانون دان اشتر علی اوصاف سمجھتے ہیں کہ عدالتی ریمارکس کو اُس سیاق وسباق سے ہٹ کر نہیں دیکھنا چاہیے، جس سیاق وسباق میں یہ فیصلہ دیا گیا ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ ہر کیس کی اپنی ایک نوعیت ہوتی ہے اور جس کیس میں یہ فیصلہ دیا گیا اُس میں یہ کہا گیا تھا کہ ایک خاتون نے اپنے والد کی جائیداد میں اپنا حصہ مانگنے سے انکار کر دیا تھا جس کے بعد اُن کے بچوں نے کہا کہ یہ حصہ اُن کو ملنا چاہیے تھا۔

اُن کے مطابق جو خاتون اپنا حصہ لینے سے خود سے انکار کردے تو اس کے بچے وراثتی جائیداد میں حصہ نہیں لے سکتے۔ ان کے بقول اگر اُس خاتون کے ساتھ مروجہ قوانین کے مطابق کوئی دھوکہ دہی ہوئی ہوتی یا خاتون کے بھائی نے کوئی تحریر لکھوا لی ہوتی کہ وہ اپنے حصے سے دست بردار ہو رہی ہیں تو کیس کی نوعیت بدل سکتی تھی۔

سابق اٹارنی جنرل کہتے ہیں کہ اس کیس میں عدالت کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ جو بھی وراثتی جائیداد حاصل کرنے والا شخص ہے چاہے وہ خاتون ہے یا مرد، اگر وہ اپنی وراثت کے حق سے دست بردار ہو جاتا ہے تو اس کے بچوں کو یہ استحقاق حاصل نہیں کہ وہ یہ کہیں کہ اگرچہ ان کی والدہ یا والد اپنے حق سے پیچھے ہٹ گئے تھے لیکن انہیں حصہ ملنا چاہیے، تو اس کا کوئی حاصل نہیں ہو گا۔

اشتر اوصاف سمجھتے ہیں کہ پاکستانی قوانین پی ایل ڈی 1990 کے پہلے صفحے پر یہ واضح لکھا ہے کہ جب کوئی وفات پاجائے تو اُس کی اولاد خواہ وہ خاتون ہے یا مرد، ان کے نام پر مذکورہ شخص کی جائیداد کا انتقال ہونا لازم ہے۔

ان کے بقول، قانون کے مطابق محکمہ ریونیو اِس بات کا پابند ہے کہ وہ ایسے کسی بھی کیس میں کام کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ قوانین اُس وقت کے بنے ہوئے ہیں جب نادرا پوری طرح سے فعال نہیں تھا۔ البتہ موجودہ صورتِ حال میں نادرا میں خاندان کا (فیملی ٹری) آ گیا ہے۔ جس کے مطابق وراثت کا کوئی بھی انتقال مانگنے جائے گا وہ نادرا کا فیملی ٹری کا سرٹیفکیٹ ساتھ لگائے گا۔

اشتر اوصاف کہتے ہیں کہ موجودہ دور میں کوئی بھی شخص اپنے بہن بھائی کو وراثتی جائیداد کے حق سے محروم نہیں رکھ سکتا۔ ان کے بقول، عدالتِ عظمٰی کا مذکورہ کیس میں فیصلہ نہ کوئی گراؤنڈ بریکنگ ججمنٹ ہے نہ یہ گراونڈ الٹرنگ ججمنٹ ہے۔ عدالت نے اپنا فیصلہ مذکورہ کیس کے حقائق کو سامنے رکھ کر دیا ہے۔

'عدالتِ عظمیٰ نے ایک ابہام دور کیا ہے'

دوسری جانب سابق وزیرِ قانون اور سینئر وکیل ڈاکٹر خالد رانجھا سمجھتے ہیں کہ مذکورہ کیس میں عدالتِ عظمیٰ نے جائیداد کے حوالے سے ایک ابہام دور کیا ہے۔ پہلے جو قانون تھا اُس کے مطابق ایک پوتا اپنے دادا کی جائیداد سے محروم ہو جاتا تھا اُسی قانون کو خاتون کے مطابق دیکھا جا رہا تھا۔ جس میں عدالت نے یہ واضح کر دیا کہ متعلقہ قانون دادا اور پوتے کے درمیان ہے۔ جس کا اطلاق دوسرے قوانین پر نہیں ہو گا۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر خالد رانجھا نے کہا کہ اسلامی قوانین کے مطابق اگر کوئی شخص بطور بیٹا وفات پا جاتا تھا تو اُس کی اولاد دادا کی جائیداد سے محروم ہو جاتی تھی۔ اِسی اصول کو خواتین پر بھی لاگو کیا جا رہا تھا جس پر عدالت نے واضح کیا ہے کہ متعلقہ قانون دادا اور پوتے کے درمیان ہے۔ اس میں نانی کا کوئی کردار نہیں ہے۔

ان کے بقول، یہ قانون پرانا بنا ہوا ہے اور اسلامی قوانین کے مطابق جو سب سے قریبی رشتے دار ہے وہ دیگر رشتے داروں کو جائیداد میں حصہ نہیں دیتا۔ جس کے بعد ایک ایکٹ بنایا گیا کہ خواہ چچا زندہ بھی ہو تو پوتے کو وہی حق ملے گا جو اُس کے والد کو ملنا تھا۔

ڈاکٹر خالد کے خیال میں جائیداد سے متعلق ایکٹ دادا اور پوتے کی بات کرتا ہے اور وہ نانی اور نواسے کی بات نہیں کرتا جس پر مذکورہ کیس میں عدالت نے ایک ابہام دور کر دیا ہے۔

'بہت سے لوگوں نے عدالتی فیصلے کی غلط تشریح کی ہے'

ادھر خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم رکن اور ماہرِ قانون حنا جیلانی سمجھتی ہیں کہ بہت سے لوگوں نے عدالتی فیصلے کی غلط تشریح کی ہے جب کہ حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے حنا جیلانی نے کہا کہ عدالتِ عظمیٰ نے ایسا ہر گز نہیں کہا کہ خواتین کو وراثتی جائیداد میں حصہ نہیں دیا جا سکتا۔ عدالتِ عظمٰی نے ایک خاص مسئلے میں اپنا فیصلہ دیا ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ عدالت نے ایسا ہر گز نہیں کہا کہ اگر کوئی خاتون اپنی زندگی میں جائیداد میں حصہ نہیں لیتی تو اُس کے بچے اُس جائیداد میں حصہ نہیں لے سکتے۔

حنا جیلانی نے کہا کہ مذکورہ کیس ایک الگ نوعیت کا ہے۔ جس پر عدالت کا تفصیلی فیصلہ نہیں آیا اور جب تک وہ عدالت کا فیصلہ نہیں پڑھ لیتیں مزید گفتگو نہیں کر سکتی۔

البتہ ڈاکٹر خالد رانجھا کہتے ہیں کہ پاکستان میں بیٹیوں (خواتین) کو جائیداد میں ایک چوتھائی حصہ دینے کا قانون تو موجود ہے جس کے تحت اگر کوئی بھائی اپنی بہن کو جائیداد کے حق سے محروم کرتا ہے تو اُس کو دس سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ لیکن معاشرے کی اکثریت اِس قانون پر عمل نہیں کرتی۔

سابق اٹارنی جنرل اشتر اوصاف کے بقول، قانون کے مطابق اگر کسی بھی خاتون یا مرد نے اپنی مرضی سے اپنے والدین کی جائیداد میں حصہ نہیں لیا تو اُس کی اولاد اُس جائیداد میں حصہ دار نہیں بن سکتی۔ وہ سمجھتے ہیں کہ آئندہ کسی بھی کیس میں اِس کیس کو بطور حوالہ پیش کیا جا سکے گا، جس سے کیس میں قدرے ابہام پیدا ہو گا۔

اُنہوں نے کہا کہ یہ کیس اُسی وقت بطور حوالہ پیش کیا جا سکے گا جب کسی بھی شخص یا خاتون نے اپنی مرضی سے جائیداد میں حصہ نہ لیا ہو۔ اگر کسی شخص کا انتقال ہو گیا ہے تو قانون کے مطابق اگر کسی مرد نے اپنی بہنوں کا حق اُنہیں نہیں دیا تو ایسے میں قانون واضح ہے کہ اُن کے بچے جائیداد میں وراثت کے لیے دعوٰی کر سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ رواں سال اگست میں بلوچستان ہائی کورٹ نے وراثت میں خواتین کے حق سے متعلق ایک کیس میں فیصلہ دیا تھا کہ خواتین کو وراثت سے محروم رکھنے یا زبردستی حق سے دست بردار کرانے پر ریونیو افسر ملزمان کے خلاف فوجداری مقدمہ کرانے کا پابند ہو گا۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا تھا کہ خواتین سمیت تمام حق داروں کے نام منتقل کیے بغیر وراثتی جائیداد کی تقسیم نہیں کی جا سکتی۔ اس کے علاوہ کسی بھی خاتون کو شادی یا کسی بھی قسم کے تحفے اور رقم کی بنیاد پر جائیداد کے حق سے محروم نہیں کیا جا سکے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG