رسائی کے لنکس

logo-print

فیصل آباد: جائیداد کے تنازع پر بھائی کے ہاتھوں دو بہنیں قتل


واقعے کے خلاف درج ایف آئی آر کا عکس

پاکستان میں خواتین سے تفریق وقت کے ساتھ کم ہونے کے بجائے بڑھ رہی ہےاور جائیداد کے تنازع پر بھائی کے ہاتھوں بہنوں کو قتل کرنے کے واقعات میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ فیصل آباد کا واقعہ اس کی تازہ مثال ہے۔

پاکستان میں خواتین کو ’غیرت‘ کے نام پرقتل کرنے کے ساتھ ساتھ جائیداد اور پیسے کے لین دین کے تنازع پر قتل کرنے کے واقعات تاحال کم نہیں ہوسکے ہیں۔

اس کی تازہ ترین مثال اتوار کورات گئے صوبہ پنجاب کے وسطی شہر فیصل آباد میں پیش آنے والا واقعہ ہے جس میں جائیداد کے تنازع پرہی بھائی نے اپنی دو بہنوں کو قتل کر دیا۔

واقعہ فیصل آباد کی تحصیل جڑانوالہ کے علاقے بلال پارک میں پیش آیا۔ فیصل آباد پولیس کے مطابق عاطف نامی شخص جائیداد میں سے اپنی بہنوں کو حصہ دینے پر تیار نہیں تھا ۔

پولیس کے مطابق عاطف اپنی دونوں بہنوں شازیہ اور نازیہ سے اپنے حصے کی جائیداد اُس کے نام منتقل مطالبہ کرنے کا مطالبہ کرتا رہتا تھا۔

شازیہ اور نازیہ کی والدہ رضیہ بی بی نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اس کی بڑی بیٹی نازیہ عراق کے الکفیل اسپتال میں نرس جبکہ دوسری بیٹی شازیہ کمبائنڈ ملٹری اسپتال کوئٹہ میں ترس تھی ۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ان دنوں یہ دونوں بہنیں اپنی چھٹیاں گزارنے گھر آئی ہوئی تھیں۔

رضیہ بی بی نے بتایا کہ عاطف اکثر دونوں بہنوں سے لڑتا رہتا تھا اوران سے جائیداد اپنے نام منتقل کرنے پر زور دیتا تھا۔ اتوار اور پیر کی درمیانی شب بہن بھائیوں میں جائیداد کے معاملے پر تلخ کلامی ہوئی اور بات ہاتھا پائی تک جا پہنچی جس کے بعد ملزم عاطف نے طیش میں آ کر اپنی دونوں بہنوں پر فائرنگ کر دی اور وہ موقع پر ہی دم توڑ گئیں۔

سی پی او فیصل آباد اشفاق خان نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ملزم عاطف فائرنگ کے بعد جائے واردات سے فرار ہوگیا جس کو پکڑنے کے لیے پولیس کی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے اور امید ظاہر کی کہ پولیس جلد ملزم کو تلاش کر لے گی۔

سی پی او فیصل آباد نے بتایا کہ واقع کے خلاف تھانہ سٹی میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے جبکہ لاشیں پوسٹ مارٹم کے لیے الائیڈ اسپتال فیصل آباد منتقل کر دی گئیں۔

عورتوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم عورت فاؤنڈیشن کی سابقہ ڈائریکٹر سمیرا سلیم نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا’ ایسے کیسز پاکستان میں عام ہیں حتیٰ کہ بہت سے کیسز رپورٹ بھی نہیں ہوتے۔ ‘

سمیرا سلیم نے مزید کہا کہ’ ان واقعات کا کیا کریں جو منظر عام پر نہیں آتے۔قوانین تو موجود ہیں کہ خواتین کو جائیداد میں حصہ دیا جائے لیکن ان پر عمل درآمد کرانے پر کوئی تیار نہیں۔ ہمارے معاشرے کا المیہ ہے کہ اسکولوں میں لڑکوں کو ایسی تعلیمات نہیں دی جاتیں اور والدین خود بیٹیوں کو کہتے ہیں کہ تم جائیداد میں حصہ لے کر کیا کرو گی ،اپنے بھائیوں کے نام کر دو۔‘

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG