رسائی کے لنکس

راحیل شریف اور شجاع پاشا کی بیرونِ ملک ملازمت کا ریکارڈ طلب


جنرل راحیل شریف کے حق میں ہونے والے ایک مظاہرے کا منظر (فائل فوٹو)
جنرل راحیل شریف کے حق میں ہونے والے ایک مظاہرے کا منظر (فائل فوٹو)

عدالت نے پاک فوج کے تمام کمیشنڈ افسران اور ان کی بیگمات کی شہریت کی تفصیلات بھی طلب کی ہیں۔ عدالت نے سیکریٹری دفاع کو آئندہ سماعت پر تفصیلات فراہم کرنے کا حکم دیا ہے۔

سپریم کورٹ نے دہری شہریت کیس میں پاکستان کے سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف اور سابق ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی لیفٹننٹ جنرل شجاع پاشا کی بیرون ملک ملازمتوں کا نوٹس لے لیا ہے۔

عدالت نے سابق فوجی افسران کو بیرونِ ملک ملازمت کے لیے جاری 'نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ' (این او سی) کی تفصیلات بھی طلب کرلی ہیں۔

واضح رہے کہ پاک فوج کے سابق سربراہ جنرل راحیل شریف سعودی عرب کی سربراہی میں قائم مسلم ملکوں کے اتحاد کی فوج کے سربراہ ہیں جب کہ لیفٹننٹ جنرل (ر) شجاع پاشا متحدہ عرب امارات میں مبینہ طور پر ایک نجی سیکیورٹی فرم میں ملازمت کر رہے ہیں۔

سپریم کورٹ میں دہری شہریت سے متعلق کیس کی سماعت بدھ کو چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔

طلبی پر سیکریٹری دفاع بھی عدالت میں پیش ہوئے۔ جب سماعت شروع ہوئی تو چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی 'آئی ایس آئی؛ کے سابق سربراہ لیفٹننٹ جنرل شجاع پاشا ریٹائرمنٹ کے چند دن بعد ہی بیرونِ ملک ملازمت کے لیے چلے گئے تھے۔ اتنے بڑے اور اہم ادارے کے سربراہ یوں چلے جاتے ہیں۔ کیا قانون میں اس کی کوئی ممانعت نہیں؟ سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف بھی اسی طرح بیرونِ ملک ملازمت کے لیے چلے گئے۔

اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ قانون کے مطابق وفاقی حکومت سول سرونٹ ملازمین کو بیرونِ ملک ملازمت کی خصوصی اجازت دے سکتی ہے۔ ملازمت ختم ہونے کے دو سال بعد کوئی بھی سرکاری ملازم بیرونِ ملک جاسکتا ہے۔

چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا اس قانون کے ہونے کے باوجود سرکاری ملازمین کو ملازمت کے فوری بعد باہر جانے کی اجازت ہوسکتی ہے؟ کیا اس قانون کا اطلاق مسلح افواج پر نہیں ہوتا؟ میرا نہیں خیال کہ وفاقی کابینہ نے کوئی ایسی خصوصی اجازت دی ہے۔ ہم ایجنسیوں کے لوگوں کی بہت قدر کرتے ہیں۔ ان لوگوں کو تو کئی کئی سال تحفظ ملنا چاہیے۔ ان کے پاس بڑی حساس معلومات ہوتی ہیں۔ خدا نخواستہ کچھ ہو نہ جائے۔ معاملے پر غور کرنا ہوگا۔

چیف جسٹس کے استفسار پر اٹارنی جنرل نے بتایا کہ ریاست کے ساتھ وفاداری ہر شہری کا فرض ہے۔ سرکاری ملازمین کی وفاداری مکمل طور پر پاکستان کے ساتھ ہونی چاہیے۔

عدالتی استفسار پر سیکریٹری دفاع نے عدالت کو بتایا کہ جنرل راحیل شریف کو وفاقی حکومت نے این او سی جاری کیا تھا جب کہ سابق آئی ایس آئی چیف لیفٹننٹ جنرل پاشا کے این او سی کے حوالے سے یقین سے نہیں کہہ سکتا۔

انہوں نے بتایا کہ فوجی افسران غیر ملکی خواتین سے بغیر اجازت شادی نہیں کر سکتے۔ غیر ملکی خواتین سے شادی کی اجازت آرمی چیف سے لینا ہوتی ہے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا فوجی افسران پر ریٹائرمنٹ کے دو سال بعد تک غیر ملکی نوکری کی پابندی کا اطلاق نہیں ہوتا؟ سرکاری افسران ریٹائرمنٹ کے بعد دو سال تک بیرونِ ملک نوکری نہیں کر سکتے۔

آئی ایس ائی کے سابق سربراہ لیفٹننٹ جنرل (ر) شجاع پاشا
آئی ایس ائی کے سابق سربراہ لیفٹننٹ جنرل (ر) شجاع پاشا

سول سرونٹ کی دہری شہریت سے متعلق چیف جسٹس نے کہا کہ کئی افسروں نے تاحال اپنی شہریت ظاہر نہیں کی۔ کسی کو اندازہ ہی نہیں تھا کہ کئی سرکاری افسر غیر ملکی ہیں۔ دوہری شہریت کا مقصد ریٹائرمنٹ کے بعد دوسرے ملک میں رہنا ہوتا ہے۔

عدالت نے دوہری شہریت کے حامل 27 سول افسران کو نوٹس جاری کرتے ہوئے انہیں آئندہ سماعت پر ذاتی حثیت میں طلب کرلیا ہے جب کہ عدالت نے سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف اور جنرل راحیل شریف اور لیفٹننٹ جنرل شجاع پاشا کی بیرونِ ملک ملازمتوں کا بھی نوٹس لیتے ہوئے وفاقی حکومت کی جانب سے دونوں افسران کو بیرونِ ملک ملازمت کے لیے جاری این او سی کی تفصیلات بھی طلب کرلی ہیں۔

عدالت نے پاک فوج کے تمام کمیشنڈ افسران اور ان کی بیگمات کی شہریت کی تفصیلات بھی طلب کی ہیں۔ عدالت نے سیکریٹری دفاع کو آئندہ سماعت پر تفصیلات فراہم کرنے کا حکم دیا ہے۔ کیس کی آئندہ سماعت 27 اگست کو ہوگی۔

سپریم کورٹ نے 2012ء میں ججوں اور سول افسران کی دہری شہریت سے متعلق از خود نوٹس لیا تھا جب کہ گزشتہ سماعت پر عدالت نے پاک فوج میں دہری شہریت کے حامل افسران کی تفصیلات بھی سیکریٹری دفاع سے طلب کی تھیں۔

XS
SM
MD
LG