رسائی کے لنکس

آلودہ پانی کی فراہمی، وزیرِ اعلیٰ سندھ اور مصطفیٰ کمال عدالت طلب


سپریم کورٹ کراچی رجسٹری کی عمارت (فائل فوٹو)

پیر کو سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں سندھ میں پینے کے پانی میں آلودگی اور اور نکاسیٔ آب کی ناگفتہ بہ صورتِ حال سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی۔

پاکستان کی سپریم کورٹ نے صوبۂ سندھ میں صاف پانی کی فراہمی اور نکاسیٔ آب سے متعلق مقدمے میں صوبے کے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ اور سابق ناظم کراچی مصطفیٰ کمال کو طلب کرلیا ہے۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیے ہیں کہ کراچی میں پانی کا مسئلہ 'واٹر بم' کی صورت اختیار کررہا ہے۔ حکومت ذمےداری ادا کرنے میں ناکام ہو تو عدلیہ کو مداخلت کرنا ہی پڑتی ہے۔

پیر کو سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں سندھ میں پینے کے پانی میں آلودگی اور اور نکاسیٔ آب کی ناگفتہ بہ صورتِ حال سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی۔

سماعت چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں عدالتِ عظمیٰ کے تین رکنی بینچ نے کی۔.

سماعت کے دوران درخواست گزار شہاب اوستو ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ کراچی کا 80، حیدرآباد کا 85، لاڑکانہ کا 88 اور شکار پور کا 78 فی صد پینے کا پانی آلودہ ہے۔ سندھ کے 29 اضلاع میں لوگ آلودہ پانی پینے پر مجبور ہیں جس کے باعث 80 لاکھ شہری ہیپاٹائٹس کے مرض میں مبتلا ہوگئے ہیں۔

درخواست گزار کے دلائل پر چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ سندھ ہو یا پنجاب، فیکٹریوں کی آلودگی سے زندگی متاثر ہو رہی ہے۔ ہوا کی آلودگی کے باعث کینسر جیسی بیماریاں جنم لے رہی ہیں۔ پانی اور ہوا کی آلودگی پر کوئی سمجھوتا نہیں کریں گے۔ ہم کسی کے لیے ضد رکھنے والے نہیں۔ ہم نہیں چاہتے کہ فیصلہ دیں تو کوئی کہتا پھرے کہ فیصلہ کیوں دیا۔ ہم ٹھوک بجا کر،سوچ سمجھ کر، سب کو سن کر فیصلہ دیں گے۔

عدالت کی جانب سے مقرر کردہ پانی کمیشن کی سفارشات پر عمل درآمد نہ ہونے پر بھی بینچ نے برہمی ظاہر کی اور پیش کی گئی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ یہ مسئلہ انسانی جانوں کا ہے، اس میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ عدالت نے معاملے پر وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کو بدھ کو طلب کرلیا ہے۔

عدالت کو بتایا گیا کہ ہر روز کروڑوں گیلن آلودہ پانی بغیر صاف کیے بغیر سمندر میں چھوڑا جارہا ہے۔ شہر میں تین ٹریٹمنٹ پلانٹس ہیں جن میں سے دو غیرفعال جبکہ ایک کی زمین پر قبضہ ہوچکا ہے۔

عدالت کے استفسار پر بتایا گیا کہ ٹریٹمنٹ پلانٹ کی زمین سابق ناظمِ کراچی اور پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ مصطفیٰ کمال نے لائنز ایریا ری سیٹلمنٹ پراجیکٹ کی مد میں الاٹ کی۔

عدالت نے استفسار کیا کہ فلاحی مقاصد کے لیے رکھی جانے والی زمین کس قانون کے تحت رہائشی مقاصد کے لیے الاٹ کی گئی؟ عدالت نے قابلِ اطمینان جواب نہ ملنے پر سابق ناظم کراچی مصطفیٰ کمال کو بھی آئندہ سماعت پر طلب کرلیا ہے۔

دوسری جانب شہر میں کثیر المنزلہ عمارتوں کی تعمیر نہ کرنے کے خلاف درخواستوں کی سماعت پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کراچی میں کثیر المنزلہ عمارت بنالیتے ہیں لیکن پینے کا پانی کہاں ہے؟ لائنوں کے ذریعے شہریوں کو پانی دینا ریاست کا کام ہے، بلڈرز کا نہیں۔ ہم عوام کے جانوں کا تحفظ کریں گے، کسی بلڈرز کا نہیں۔

چیف جسٹس پاکستان کا کہنا تھا کہ کراچی میں پانی کا مسئلہ واٹر بم کی صورت اختیار کررہا ہے،۔ کراچی کی صورتِ حال دیکھ کر بہت دکھ ہوا۔ کوئی مرغیوں کا پنجرا بھی بناتا ہے تو دانا پانی کا خیال رکھا جاتا ہے۔ ہم کراچی اور پاکستان کے مفاد پر کوئی ضرب آنے نہیں دیں گے۔

بینچ کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ سندھ جب عدالت آئیں گے تو اس سے متعلق بھی ان سے استفسار کیا جائے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG