رسائی کے لنکس

سپریم کورٹ نے شاہد مسعود کی معافی کی پیشکش مسترد کردی


فائل فوٹو

دورانِ سماعت ڈاکٹر شاہد مسعود نے معافی مانگنے کی پیشکش کی تو چیف جسٹس نے کہا کہ معافی کا وقت گزر چکا۔ آپ اپنا مقدمہ لڑیں۔

سپریم کورٹ نے زینب قتل ازخود نوٹس کیس میں ٹی وی اینکر شاہد مسعود کی معافی مانگنے کی پیشکش مسترد کر دی ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے ہیں کہ زینب کے قتل کا 'ریڈ روم' اور 'ڈارک ویب' سے کیا تعلق؟ عدالت نے صرف زینب واقعے کو مدِ نظر رکھنا ہے۔ شاہد مسعود کے لیے معافی کا وقت بھی گزر چکا ہے۔

چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے قصور میں زیادتی کے بعد قتل کی جانے والی بچی زینب کے کیس میں ڈاکٹر شاہد مسعود کے انکشافات سے متعلق از خود نوٹس کی بدھ کو سماعت کی۔

دورانِ سماعت چیف جسٹس ثاقب نثار نے عدالت میں موجود ایک نجی ٹی وی کے میزبان شاہد مسعود کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ آگئی ہے۔ آپ کے الزامات درست نہیں۔

دورانِ سماعت ڈاکٹر شاہد مسعود نے معافی مانگنے کی پیشکش کی تو چیف جسٹس نے کہا کہ معافی کا وقت گزر چکا۔ آپ اپنا مقدمہ لڑیں۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ غلط بیانی کو تسلیم کریں، پھر معافی مانگیں۔ تسلیم کرنے کے بعد معافی مانگنے پر دیکھیں گے کیا کرنا ہے۔ اب معاملہ معافی پر ختم نہیں ہوگا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کے پروگرام کی ویڈیو بار بار دیکھی۔ آپ نے بار بار ازخود نوٹس لینے کی بات کی۔ الزام جھوٹے ثابت ہونے پر آپ نے پھانسی لگانے کی بات بھی کی۔

چیف جسٹس نے شاہد مسعود سے کہا کہ کیا آپ جے آئی ٹی کی رپورٹ پر تحریری اعتراضات دینا چاہتے ہیں؟ کیا آپ کیس کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں؟

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کچھ لوگوں کی رائے تھی کہ آپ کے الزامات سچ پر مبنی ہیں۔ آپ نے اپنی غلطی کو عدالت میں تسلیم نہیں کیا۔ آپ کی استدعا پرجے آئی ٹی تشکیل دی۔ آپ نے جو کہا ہم اس حد تک محدود رہیں گے۔ آپ کے الزامات کس حد تک درست ہیں، اس کا جائزہ لے رہے ہیں اور دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوتا نظر آئے گا۔

عدالت نے شاہد مسعود کا پروگرام نشر کرنے والے نجی ٹی وی چینل 'نیوز ون' کو بھی نوٹس جاری کردیا۔ عدالت نے جے آئی ٹی رپورٹ کی کاپی شاہد مسعود کو فراہم کرنے کا بھی حکم دیتے ہوئے کیس کی مزید سماعت پیر تک ملتوی کردی۔

ٹی وی اینکر شاہد مسعود نے گزشتہ ماہ اپنے پروگرام میں دعویٰ کیا تھا کہ زینب قتل کیس کے مرکزی ملزم عمران علی کے 37 بینک اکاؤنٹس ہیں اور وہ بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے والے ایک بین الاقوامی گروہ کا کارندہ ہے۔

شاہد مسعود نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ ملزم کو ایک بڑی سیاسی شخصیت اور رکنِِ اسمبلی کی پشت پناہی حاصل ہے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اینکر پریسن کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ملزم عمران کا کسی بینک میں کوئی اکاؤنٹ نہیں۔

تاہم شاہد مسعود کی جانب سے اپنے الزامات درست ہونے پر اصرار کے بعد سپریم کورٹ نے ان کے دعوؤں کا نوٹس لیتے ہوئے مزید تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی تھی جس نے اپنی رپورٹ گزشتہ جمعرات کو عدالت میں جمع کرائی تھی۔

کمیٹی میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے)، انٹیلی جنس بیورو اور اسلام آباد پولیس کے اعلیٰ افسران شامل تھے جنہوں نے اپنی رپورٹ میں شاہد مسعود کے تمام دعووں کو بے بنیاد قرار دیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG