رسائی کے لنکس

logo-print

سپریم کورٹ آسیہ بی بی کی اپیل کا فیصلہ بدھ کو سنائے گی


پاکستان کی عدالتِ عظمیٰ توہینِ مذہب کے مقدمے میں گزشتہ کئی برسوں سے جیل میں قید مسیحی خاتون آسیہ بی بی کی سزائے موت کے خلاف اپیل کا فیصلہ بدھ 31 اکتوبرکو سنائے گی۔

پاکستان کی سپریم کورٹ کی طرف سے جاری کردہ ’سپلیمنڑی کاز لسٹ‘ کے مطابق، چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں آسیہ کی اپیل کی سماعت کرنے والا تین رکنی بینچ یہ ٖفیصلہ بدھ کو صبح 9 بجے سنائے گا۔

اس بینچ میں جسٹس آصف سعید کھوسہ اور جسٹس مظہر عالم خان میاں خیل بھی میں شامل ہیں۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے تین رکنی بینچ نے 8 اکتوبر کو سزا کے خلاف آسیہ بی بی کی درخواست پر ان کے وکیل اور استغاثہ کے دلائل سننے کے بعد مقدمے کا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔

آسیہ بی بی کا تعلق مسیحی برداری سے ہے اور انہیں 2010ء میں توہینِ مذہب کے الزام پر ایک مقامی عدالت نے موت کی سزا سنائی تھی۔ ان کی سزا کو بعدازں لاہور ہائی کورٹ نے بھی برقرار رکھا تھا۔

آسیہ بی بی پر الزام تھا کہ وہ جون 2009ء میں پنجاب کے ضلع شیخوپورہ میں واقع اپنے گاؤں کی خواتین کے ساتھ بحث و تکرار کے دوران پیغبرِ اسلام اور اسلام کی توہین کی مرتکب ہوئی تھیں۔

تاہم، آسیہ اس الزام سے انکار کرتی آئی ہیں۔ آسیہ بی بی کے خلاف توہینِ مذہب کا مقدمہ درج ہونے کے بعد سے وہ جیل ہی میں قید ہیں۔

پاکستان میں متعدد افرد کو توہینِ مذہب کے جرم میں ملک کی ذیلی عدالتیں سزائے موت سنا چکی ہیں۔ لیکن، اب تک ان میں سے کسی بھی مجرم کی سزا پر عمل درآمد نہیں ہوا ہے، کیونکہ ان کی ان سزاؤں کے خلاف اپیلیں اعلیٰ عدالتوں میں زیرِ سماعت ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG