رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان میں جون کے بعد ریکارڈ 5329 کرونا کیس، طبی ماہرین کا ویکسی نیشن تیز کرنے پر زور


پاکستان میں گزشتہ سال جون کے بعد بدھ کو کرونا وائرس کے سب سے زیادہ 5323 کیس سامنے آئے ہیں جس کے باعث اسپتالوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے جب کہ طبی ماہرین ویکسی نیشن مہم تیز کرنے پر زور دے رہے ہیں۔

پاکستان میں 20 جون کو 5300 سے زائد کیس رپورٹ ہوئے تھے تاہم کرونا کی تیسری لہر میں شدت کے بعد ملک میں اب اس سے بھی زیادہ کیس رپورٹ ہو رہے ہیں۔

پاکستان میں بدھ کو اس مہلک وائرس سے 98 افراد ہلاک بھی ہو گئے ہیں۔

اگرچہ حکومت نے کرونا وبا سے بچاؤ کے لیے ویکسی نیشن مہم شروع کر رکھی لیکن ماہرین کے خیال میں یہ مہم خطے کے بعض دیگر ممالک کے مقابلے میں سست روی کا شکار ہے جسے ان کے بقول مزید تیز کرنے کی ضرورت ہے۔

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر قیصر سجاد نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر ویکسی نیشن مہم اسی رفتار سے جاری رہی تو پاکستانی عوام کی اکثریت کو ویکسین لگانے کے عمل میں مزید دو سے تین سال کا عرصہ لگ سکتا ہے۔

ڈاکٹر سجاد کا کہنا تھا کہ کرونا وائرس سے تحفظ کے لیے احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد کے ساتھ ساتھ اس وبا سے بچاؤ کی ویکسین بھی نہایت ضروری ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں 70 سے 75 فی صد آبادی کو کرونا سے بچاؤ کی ویکسین جلدازجلد لگ جانی چاہیے تاکہ وبا کا پھیلاؤ روکا جا سکے۔

البتہ، پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں کرونا وبا سے بچاؤ کے لیے ویکسی نیشن مہم حکومت کی طرف سے قائم کردہ مراکز میں جاری ہے اور حکومت تمام پاکستانی شہریوں کو مفت کرونا ویکسین فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

پاکستان کے وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر کا کہنا ہے کہ اب تک حکومت کی طرف سے قائم کردہ ویکسی نیشن مراکز میں 10 لاکھ سے زائد افراد کو کرونا سے بچاؤ کی ویکسین لگائی جا چکی ہے۔

اُن کے بقول کرونا ویکسی نیشن کے لیے 20 لاکھ افراد کا اندارج ہو چکا ہے جب کہ 50 سے 60 سال کی عمر کے افراد کی رجسٹریشن بھی جاری ہے۔

ڈاکٹر سجاد کہتے ہیں کہ اگرچہ حکومت کو مفت اور جلد ویکسین کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے کوششیں کرنی چاہئیں تاہم نجی شعبے میں بھی یہ کم قیمت میں دستیاب ہونی چاہیے۔

یادر رہے کہ حال ہی میں نجی شعبے کی طرف سے روس کی طرف سے درآمد کی جانے والی ویکسین کی قیمت لگ بھگ 12 ہزار مقرر کی گئی تھی جو ڈاکٹر سجاد کے خیال میں کافی زیادہ ہے۔

دوسری طرف ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے سندھ حکومت کی طرف سے چین کی تیار کردہ 'کین سائنو' ویکسین ایک نجی کمپنی کے ذریعے خریدنے کی اطلاعات پر تحفطات کا اظہار کیا ہے۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کی وائس چیئر پرسن جسٹس ریٹائرڈ ناصرہ جاوید اقبال نے اسد عمر کے نام لکھے گئے خط میں دعویٰ کیا ہے کہ سندھ حکومت نے ادویات کی ایک نجی کمپنی کے ذریعے 'کین سائنو' کی ایک کروڑ خوراکیں خریدنے کا آرڈر دیا ہے جو وفاقی حکومت کے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی ہے۔

جسٹس ناصرہ جاوید اقبال کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ادویات کی قیمتیں مقرر کرنے والے ادارے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی نے 'کین سائنو' ویکسین کی ایک خوراک کی قیمت 4225 روپے مقرر کی ہے۔ حالاں کہ اس کی قیمت صرف ایک ہزار روپے ہونی چاہیے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے ناصرہ جاوید اقبال نے کہا نجی کمپنیوں کو درمیان میں لانے کے بجائے حکومت براہِ راست ویکسین تیار کرنے والی کمپنیوں سے ویکسین خریدے۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشل کے خط پر تاحال اسد عمر یا پاکستان ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کی طرف سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے لیکن سندھ کے محکمہ صحت نے ایک بیان میں ٹرانسپیرنسی انٹرنیشل کے خط کو قیاس آرائی پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ویکسین کی خریداری کا کوئی آرڈر نہیں دیا۔

XS
SM
MD
LG