رسائی کے لنکس

logo-print

کانگریس نے نگرانی کے اصلاحاتی بل کی منظوری دے دی


بل کے حق میں67 اور مخالفت میں 32 ووٹ پڑے۔ نئی قانون سازی کے تحت، اب ٹیلی فون ادارے خود ریکارڈ رکھا کریں گے۔ لیکن، وارنٹ جاری ہونے کی صورت میں، حکومت کو ریکارڈ کی پڑتال کی اجازت ہوگی

گیارہ ستمبر 2001ء کے بعد وضع کیے جانے والے نگرانی کے پروگرام کو پھر سے زندہ کرنے اور تشکیل دینے کے بعد، کانگریس نے یہ قانون سازی صدر کے دستخط کے لیے روانہ کردی ہے۔ دو روز قبل، اس کی میعاد ختم ہونے پر یہ معاملہ عارضی طور پر معطل رہا۔

منگل کے روز ایوان کی ووٹنگ کے لیے پیش ہونے پر بل کے حق میں 67 اور مخالفت میں 32 ووٹ پڑے۔

ایوان نے پہلے ہی اس کی منظوری دے دی ہے اور صدر براک اوباما اس پر فوری طور پر دستخط کا ارادہ رکھتے ہیں۔

ایک وقت تھا جب ’نیشنل سکیورٹی ایجنسی‘ کی جانب سے ٹیلی فون ریکارڈ اکٹھا کرنے کا پروگرام خفیہ تھا، جب دو برس قبل ادارے کے کنٹریکٹر، ایڈورڈ سنوڈن نے یہ راز افشا کیا۔

اب اس کی جگہ ایک ایسا پروگرام لے گا جس کے تحت، ٹیلی فون ادارے خود ریکارڈ رکھا کریں گے، لیکن وارنٹ جاری ہونے کی صورت میں، حکومت کو اُن کی پڑتال کی اجازت ہوگی۔

سینیٹ میں ریپبلیکن قائدین نے ایوان نمائندگان مین پیش ہونے والے اِس بل کی مخالفت کی، لیکن سینیٹروں کی جانب سے اس میں تبدیلی لانے کی کوششیں ناکام ہونے کے بعد، اُسے بغیر ترمیم کے منظور کیا گیا۔

اس سے قبل، منگل ہی کے روز، سینیٹ میں اس اقدام کے حق میں 83 اور مخالفت میں 14 ووٹ پڑے۔ اس قانون سازی کو ’یو ایس اے فریڈم ایکٹ‘ بھی کہا جاتا ہے۔

سینیٹ کے قوائد کے تحت، ترامیم پر ووٹ سے قبل ہونے والی کارروائی 30 گھنٹے تک جاری رہتی ہے۔

نگرانی سے متعلق قوانین کی میعاد اتوار کو ختم ہوگئی تھی، اس لیے نیشنل سکیورٹی ایجنسی (این ایس اے) نے ریکارڈ اکٹھا کرنے کا کام روک دیا تھا۔

’یو ایس اے فریڈم ایکٹ‘ اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ فون کالز کا ذخیرہ رکھنے کا اختیار، این ایس اے کی جگہ مواصلاتی اداروں کو ہوگا۔

ساتھ ہی، کم از کم عارضی طور پر، این ایس اے نے اپنے دیگر دو پروگراموں کو بھی روک دیا ہے، جن میں ’لون ولف‘ ٹریکنگ اور رومنگ وائرٹیپ پروگرام شامل ہیں، جن پر کبھی بھی عمل نہیں کیا گیا۔

سینیٹ کی ریپبلیکن قیادت اس بِل میں ترامیم کی خواہاں ہے، تاکہ اسے شروع کرنے کے لیے زیادہ وقت دیا جائے اور اس بات کی یقین دہانی چاہتے ہیں کہ منظوری کے بعد، اس پر اُسی جذبے سے کام کیا جائے۔

XS
SM
MD
LG