رسائی کے لنکس

logo-print

سوشانت سنگھ نے خود کشی کیوں کی؟ بالی وڈ میں بحث جاری


Sushant Singh Rajput

بھارت کی ریاست مہاراشٹرا کے وزیرِ داخلہ انیل دیش مکھ نے کہا ہے کہ بالی وڈ اسٹار سوشانت سنگھ راجپوت کی پوسٹ مارٹم رپورٹ سے واضح ہوتا ہے کہ انہوں نے خُود کشی ہی کی ہے لیکن پولیس پیشہ وارانہ مخاصمت کے حوالے سے بھی تحقیقات کرے گی۔

بھارتی خبر رساں ادارے 'اے بی پی لائیو' کی رپورٹ کے مطابق ریاست کے وزیرِ داخلہ نے کہا ہے کہ ذرائع ابلاغ میں آنے والی بعض خبروں میں نشان دہی کی گئی ہے کہ سوشانت سنگھ ذہنی دباؤ اور دیگر پریشانیوں کا شکار تھے۔

انیل دیش مکھ نے اس پریشانی کی وجہ فلم انڈسٹری میں پیشہ وارانہ مخاصمت کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ ممبئی پولیس اس حوالے سے بھی تحقیقات کر رہی ہے۔

پولیس کے مطابق بالی وڈ اداکار ذہنی پریشانی کے باعث ماہرین سے رابطے میں تھے لیکن وہ کسی قسم کی دوا استعمال نہیں کر رہے تھے۔

سوشانت سنگھ کی لاش اتوار کو ممبئی میں واقع ان کے فلیٹ سے برآمد ہوئی تھی اور پولیس نے ابتدائی تحقیقات کے بعد اسے خود کشی ڈکلیئر کردیا تھا۔

بالی وڈ اداکار کی آخری رسومات پیر کو ممبئی میں ادا کی گئیں جن میں شرکت کے لیے ان کے والد پٹنہ سے ممبئی پہنچے تھے۔ 34 سالہ اداکار کی آخری رسومات میں اہلِ خانہ کے علاوہ کئی فلمی ستارے شریک ہوئے۔

خبر رساں ادارے 'پنک وِلا' نے خود کشی کرنے والے اداکار کے قریبی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ سوشانت سنگھ راجپوت سارو گنگولی کی زندگی پر بننے والی مجوزہ فلم میں مرکزی کردار ادا کرنے کے خواہاں تھے۔

خیال رہے کہ سابق بھارتی کپتان دھونی پربننے والی فلم میں بھی انہوں نے مرکزی کردار ادا کیا تھا جس سے ان کی شہرت میں اضافہ ہوا تھا۔

رپورٹ کے مطابق سارو گنگولی نے سوشانت سنگھ کو فلم کے رائٹس دینے سے انکار کر دیا تھا۔ تاہم انہوں نے ہامی بھری تھی کہ اگر کبھی ان کو ایسا لگا کہ ان پر فلم بننی چاہیے تو وہ اس کے رائٹس انہیں دے دیں گے۔ دونوں کے درمیان یہ گفتگو دو برس قبل ہوئی تھی۔

دوسری جانب فلم 'ضلع غازی آباد' کے ڈائریکٹر آنند کمار نے کہا ہے کہ وہ بھارت کے مشہور فٹ بالر بھائی چنگ بھاٹیہ کی زندگی پر اپنی مجوزہ فلم میں سوشانت سنگھ کو مرکزی کردار دینے کے خواہش مند تھے۔

ان کے بقول ان دونوں کی آنکھوں اور جسامت میں بہت حد تک مماثلت تھی تاہم انہوں نے اس بارے میں سوشانت سنگھ سے بات نہیں کی تھی۔ آنند کمار کے بقول فلم کی ٹیم ان سے رابطہ کرنے والی تھی لیکن ان کی موت سے یہ منصوبہ ادھورا رہ گیا ہے۔

سوشانت سنگھ کی خود کشی کے بعد بھارت کے کئی سُپر اسٹارز اور مختلف شخصیات بالی وڈ میں اقربا پروری پر بھی تبصرے کر رہے ہیں کہ کس طرح سپر اسٹارز کے بچوں یا ایسے خاندانوں کے افراد کو جو فلم انڈسٹری سے وابستہ ہیں بالی وڈ میں جگہ بنانے اور اپنی جگہ برقرار رکھنے کے لیے زیادہ محنت نہیں کرنی پڑتی۔ لیکن وہ افراد جو خود محنت کرکے اس انڈسٹری تک پہنچتے ہیں، انہیں کچھ عرصے بعد انڈسٹری میں کام ملنا بند ہو جاتا ہے یا ان کی اس طرح پذیرائی نہیں کی جاتی جس طرح فلمی خاندانوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی ہوتی ہے۔

بھارتی سیاست دان اور کانگریس کے سابق رہنما سنجے نیروپم نے ایک ٹوئٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ سوشانت سنگھ کی فلم 'چھچھورے' کی کامیابی کے بعد انہوں نے سات فلمیں سائن کی تھیں لیکن چھ ماہ میں ان کے ہاتھ سے ساری فلمیں نکل گئیں۔

ہندی میں کی گئی ٹوئٹ میں انہوں نے سوال کیا کہ سوشانت کے ساتھ آخر ایسا کیوں ہوا؟

ان کا کہنا تھا کہ فلم انڈسٹری میں بے رحمی ایک الگ درجے پر ہے اور اسی بے رحمی کی وجہ سے اس اداکار کی موت ہوئی۔

مشہور اداکار پرکاش راج نے سوشانت سنگھ کی ایک ایسی ویڈیو بھی شیئر کی ہے جس میں وہ انڈسٹری میں اقربا پروری پر بات کر رہے تھے۔

پرکاش راج کا کہنا تھا کہ مجھے بھی انڈسٹری میں اقربا پروری کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ تاہم میں اس سے گزر گیا۔ میرے اندرونی زخم میری سوچ سے بھی گہرے ہیں لیکن سوشانت سنگھ یہ سب برداشت نہ کر سکے۔ ہمیں اس سے سیکھنا ہوگا۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا ہم اب بھی کھڑے نہیں ہوں گے تاکہ اس طرح کے خواب موت کا شکار نہ ہوں۔

فلم ساز شیکھر کپور نے سوشانت سنگھ کے حوالے سے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ میں جانتا ہوں کہ آپ کس تکلیف سے گزرے ہیں۔ میں ان لوگوں کی کہانیوں سے آگاہ تھا جو کسی کو آگے بڑھتے دیکھنا نہیں چاہتے۔

انہوں نے سوشانت سنگھ کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ آپ میرے کندھے پر سر رکھ کر رو سکتے تھے۔ کاش گزشتہ چھ ماہ میں آپ کے قریب ہوتا یا شاید آپ مجھ سے رابطہ کرتے۔

بالی وڈ اداکارہ سوارا بھاسکر نے ٹوئٹر پر لکھا کہ بھارت میں کئی مقامات پر ٹوئٹر پر کرن جوہر اور عالیہ بھٹ کو سوشانت سنگھ کی افسوس ناک خود کشی کا ذمہ دار قرار دیا جا رہا ہے۔

ان کے بقول کچھ پاگلوں کے لیے یہ غیر سنجیدہ اور اور بے معنی گفتگو ہے جب کہ کچھ لوگ اب اقربا پروری پر بالی وڈ کو گالیاں دے رہے ہیں۔ یہ دونوں ہی بے وقوفی اور منافقت کی انتہا پر ہیں۔

بالی وڈ اسٹار کنگنا رناوٹ نے بھی سوشانت کی خودکشی پر ایک ویڈیو پیغام جاری کیا ہے۔ انسٹاگرام پر پوسٹ کی جانے والی ویڈیو میں کنگنا رناوٹ نے انتہائی جذباتی انداز میں کہا کہ سوشانت سنگھ کی موت نے ہم سب کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ کچھ لوگ جو متوازی خیالات کی ترویج کے ماہر ہیں، وہ کہہ رہے ہیں کہ جن کا دماغ کمزور ہوتا ہے وہ ذہنی دباؤ کا شکار ہوتے ہیں اور خود کشی کر لیتے ہیں۔

سوشانت سنگھ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جس نے اپنی انجینئرنگ اعلیٰ درجے میں مکمل کی ہو اس کا دماغ کیسے کمزور ہو سکتا ہے؟

کنگنا رناوٹ نے کہا کہ سوشانت سنگھ کی اگر گزشتہ کچھ پوسٹس دیکھی جائیں تو وہ لوگوں سے کہہ رہے ہیں کہ میری فلموں کو دیکھیں کیوں کہ میرا کوئی گاڈ فادر نہیں ہے۔ ورنہ مجھے اس انڈسٹری سے نکال دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ سوشانت سنگھ نے اپنے انٹرویوز میں بھی اس بات کا اظہار کیا کہ فلم انڈسٹری انہیں اپناتی کیوں نہیں ہے۔

ان کے فلمی کیریئر کا ذکر کرتے ہوئے کنگنا رناوٹ کا کہنا تھا کہ 'گلی بوائے' جیسی واہیات فلم کو تو ایوارڈز ملتے ہیں لیکن سوشانت سنگھ کی 'چھچھورے' جو ان کے بقول ایک بہترین ڈائریکٹر کی بہترین فلم تھی اسے کوئی پذیرائی نہیں دی جاتی۔

انہوں نے ذرائع ابلاغ میں اداکاروں پر شائع ہونے والے مضامین اور خبروں پر بھی شدید تنقید کی۔

سوشانت سنگھ راجپوت کی موت کو تحقیقات مکمل کیے بغیر خود کشی قرار دینے پر بھی بعض حلقوں نے سوالات اٹھائے تھے۔

ممبئی پولیس نے بتایا تھا کہ سوشانت سنگھ اتوار کی صبح باندرہ میں واقع اپنی رہائش گاہ میں مردہ پائے گئے تھے۔ پولیس کے مطابق انہوں نے پنکھے سے رسی باندھ کر خود کشی کی تھی۔

حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ انہیں سوشانت سنگھ کے گھر سے خود کشی کے بعد کوئی تحریر نہیں ملی ہے۔

واضح رہے کہ 'چھچھورے' سوشانت سنگھ کی آخری فلم تھی جب کہ اس سے قبل انہوں نے کرن جوہر کی فلم 'ڈرائیو' میں بھی کام کیا تھا۔ چھچھورے' میگا بجٹ فلم تھی جو 2018 میں ریلیز ہونا تھی۔ تاہم مختلف وجوہات کے باعث اسے 2019 تک تھیٹرز میں ریلیز ہونے کا موقع نہیں ملا۔ نومبر 2019 میں اسے آن لائن اسٹریمنگ ویب سائٹ 'نیٹ فلکس' پر ریلیز کیا گیا تھا۔

فلمی مبصرین کے خیال میں یہی وہ وقت تھا جہاں سے سوشانت سنگھ کے زوال کی ابتدا ہوئی۔

سوشانت سنگھ کی پہلی فلم 'کائی پوچے' 2014 میں ریلیز ہوئی تھی۔ لیکن انہیں اصل شہرت 2016 میں ریلیز ہونے والی فلم 'ایم ایس دھونی: دی ان فولڈڈ اسٹوری' سے ملی۔ یہ فلم سابق بھارتی کپتان اور کرکٹر مہندرا سنگھ دھونی کی زندگی پر بنی تھی۔

پاکستان میں ان کی شہرت کی وجہ فلم 'پی کے' کا کردار 'سرفراز' بنا تھا جو ایک پاکستانی نوجوان تھا اور ایک بھارتی لڑکی کے عشق میں مبتلا تھا۔

دل بیچارہ'، 'شدھ دیسی رومینس' اور 'کیدار ناتھ' بھی ان کی کامیاب فلموں میں شمار ہوتی ہیں۔

فلموں میں آنے سے پہلے انہوں نے بہت سے ٹی وی سیریلز میں بھی کام کیا تھا جس میں 'کس دیس میں ہے میرا دل' اور 'پوتر رشتہ' شامل ہیں۔ ان میں 'پوتر رشتہ' سب سے زیادہ مقبول ہونے والی سیریل تھی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG