رسائی کے لنکس

logo-print

فلوریڈا ہائی اسکول شوٹنگ، ملزم کی عدالت میں پہلی پیشی


ملزم نکولس کروز

انیس برس کا جھگڑالو شخص کو، جس پر کئی افراد کو قتل کرنے کا الزام ہے، جمعرات کے روز مختصر پیشی پر عدالت میں حاضر کیا گیا۔ عدالت نے بغیر مچلکے کے اُنھیں حراست میں رکھنے کا حکم دیا۔

نکولس کروز پر قتل عمد کے 17 الزامات عائد کیے گئے جب اُنھیں فلوریڈا کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ اُن کے ہاتھ کمر سے بندھے ہوئے تھے، اور قید خانے کا نارنجی رنگ کا لباس پہنا ہوا تھا۔

اُن کے اٹارنی نے استغاثہ کی جانب سے کروز کو قید رکھنے کے استفسار کی مخالفت نہیں کی، جب تک وہ مزید عدالتی کارروائی کے لیے پیش کیے جاتے رہیں گے۔

مجسٹریٹ جج، کِم تھریسا مولیکا نے کروز سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ’’چند انتہائی سنگین جرائم کے ارتکاب کا آپ پر الزام لگایا گیا ہے‘‘۔

عدالت میں پیشی سے کچھ ہی گھنٹے قبل، صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس سے اس المیے کے بارے میں قوم سے خطاب کیا۔ اُنھوں نے کہا کہ ’’قوم صدمے کی کیفیت میں ہے‘‘۔

امریکی سربراہ نے کہا کہ بہت جلد وہ امریکہ بھر کے اہل کاروں کے ساتھ ملاقات کریں گے تاکہ ’’دماغی صحت کے مشکل معاملے کے حل میں‘‘ پیش رفت کی جا سکے، ’’جسے ہم اپنی اولین ترجیح‘‘ قرار دیں گے۔

اس سے قبل ایک ٹوئٹر بیان میں، ٹرمپ نے کہا کہ ’’بہت سارے اشارے ملتے ہیں کہ فلوریڈا کا حملہ آور دماغی دباؤ کا شکار تھا، یہاں تک کہ اُسے اپنے بُرے اور آوارہ گرد رویے کی بنا پر اسکول سے نکال دیا گیا تھا۔ ہمسایوں اور ہم جماعتیوں کو بخوبی معلوم تھا کہ وہ خود ایک مسئلہ ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ایسے معاملات بار بار حکام کو رپورٹ کیے جائیں‘‘۔

پولیس نے بدھ کی شام کروز کو پارک لینڈ میں ’مریجوری اسٹون مین ڈگلس ہائی اسکول‘ کے باہر گرفتار کیا، جو میامی کے شمال میں تقریباً 70 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

اُنھوں نے بتایا کہ کروز نے گیس ماسک پہنا ہوا تھا، اور اسکول کے باہر فائر کھولا اور عمارت کے اندر سے گولیاں چلائیں، بالآخر طالب علموں کے ایک گروپ کی آڑ میں چھپ کر عمارت سے باہر نکل گیا۔

عہدے داروں کی جانب سے جن 17 ہلاکتوں کی تصدیق کی گئی، شوٹنگ کی اس واردات میں زخمی ہونے والے مزید 15 افراد اسپتال داخل ہیں، جن میں چند کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG