رسائی کے لنکس

امریکہ: فلوریڈا کے اسکول میں فائرنگ سے 17 افراد ہلاک


فائرنگ کے واقعے کے بعد اسکول کو ایک ہفتے کے لیے بند کردیا گیا ہے۔

مسلح شخص کی شناخت نکولس کروز کے طور پر کی گئی ہے، جو اس سے قبل اِسی اسکول کا طالب علم تھا، اور جسے نامعلوم انضباطی وجوہ کی بنا پر اسکول سے نکالا گیا تھا۔ یہ بات واقعے کے کچھ گھنٹے بعد برووارڈ کاؤنٹی شیرف، اسکوٹ اسرائیل نے اخباری کانفرنس میں بتائی

انیس برس کے مسلح شخص نے بدھ کے روز فلوریڈا کے ایک ہائی اسکول میں گولیاں چلائیں، جس میں 17 افراد ہلاک ہوئے۔ پولیس حکام نے بتایا ہے کہ مشتبہ شخص اِسی اسکول کا ایک سابق طالب علم تھا، جسے انضباطی بنیاد پر تعلیمی ادارے سے نکالا گیا تھا، جنھیں گرفتار کر لیا گیا ہے۔

یہ واقعہ اُس وقت پیش آیا جب پارک لینڈ کے ’مریجوری اسٹون مین ڈگلس ہائی اسکول‘ میں چھٹی کا وقت قریب تھا۔ یہ اسکول میامی سے تقریباً 45 میل (72 کلومیٹر) دور واقع ہے۔

ٹیلی ویژن کی براہِ راست نشریات کی فوٹیج میں طالب علموں کی بھگدڑ اور چیخ و پکار سنی جا سکتی ہے، ایسے میں درجنوں پولیس اہل کار اور ہنگامی امداد سے تعلق رکھنے والے کارکنان علاقے میں پہنچ چکے تھے۔

مسلح شخص کی شناخت نکولس کروز کے طور پر کی گئی ہے، جو اس سے قبل اِسی اسکول کا طالب علم تھا، اور جنھیں نامعلوم انضباطی وجوہ کی بنا پر اسکول سے نکالا گیا تھا۔

یہ بات واقعے کے کچھ گھنٹے بعد برووارڈ کاؤنٹی شیرف، اسکوٹ اسرائیل نے اخباری کانفرنس میں بتائی۔

اس سے قبل موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق، بروورڈ کاؤنٹی کے پولیس سربراہ، اسکاٹ اسرائیل نے بتایا تھا کہ کم از کم 14 افراد کو، جنھیں ’’مختلف قسم کے زخم آئے ہیں‘‘، اسپتال منتقل کیا گیا ہے جب کہ ’’کچھ ہلاکتیں‘‘ واقع ہوئی ہیں۔

ایک طالب علم نے ایک ٹیلی ویژن رپورٹر کو بتایا کہ اُنھوں نے دو افراد کی لاشیں دیکھی ہیں، جب ایک اور شخص نے بتایا کہ تین لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔

پولیس شیرف نے کہا ہے کہ شوٹنگ میں ملوث مبینہ شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔ اُنھوں نے بتایا کہ اُن کے خیال میں مسلح شخص 18 برس کا اور سابق طالب علم ہے، جسے بغیر کسی واقعے کے گرفتار کیا گیا۔ حکام کے خیال میں گولیاں ایک ہی شخص نے چلائیں۔

ایف بی آئی موقعے پر موجود ہے جو پولیس کے ساتھ مل کر تفتیش میں سرکردہ کردار ادا کرے گی۔

ٹیلی ویژن وڈیو میں طالب علم ’مرجوری اسٹون مین ڈگلس ہائی اسکول‘ میں بھاگتے اور چیخ و پکار کرتے دکھائی دیتے ہیں، جو میامی کے شمال میں تقریباً 72 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ دکھانے کے لیے کہ وہ غیر مسلح ہیں، سب نے ہاتھ اٹھا رکھے ہیں۔

بدھ کے روز ہونے والا یہ المناک واقعہ اچانک نمودار ہوا، جس کا پہلے سے بظاہر کوئی انتباہ نہیں دیا گیا تھا۔ طالب علموں نے ٹیلی ویژن نیٹ ورکس کو بتایا کہ اسکول معمول کے مطابق چل رہا تھا جب فائر الارم کی آواز آئی۔ اُنھوں نے بتایا کہ عمارت سے جاتے ہوئے اُنھوں نے گولیاں چلنے کی آوازیں سنیں، جب کہ کئی ایک طالب علم محفوظ پناہ کی تلاش میں دوڑے۔

کئی بچے الماریوں میں چھپ گئے، جہاں سے اُنھوں نے اپنے موبائل فون پر اپنے والدین کو ٹیکسٹ مسیج بھیجے۔

صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے فلوریڈا کے حکام کو درکار وفاقی مدد فراہم کرنے کی پیش کش کی ہے۔ اپنے ٹویٹ میں صدر نے اہل خانہ کے لیے دعائیں اور تعزیت کے کلمات کہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG