رسائی کے لنکس

logo-print

سوچی کا دورہ امریکہ، تعزیرات و معاشی امداد زیر بحث آنے کی توقع


میانمار کے ایک اہل کار نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ ’’میانمار کے لوگوں کی توقعات اب بہت ہی زیادہ ہیں، ہمارے جمہوری عمل میں پیش رفت کے حصول کے لیے معاشی ترقی انتہائی ضروری عمل ہوگا‘‘

میانمار کی ایک سیاسی رہنما آنگ سان سوچی بدھ سے دورہ امریکہ کا آغاز کریں گی، جس میں وہ اِس معاملے پر گفتگو کریں گی آیا ملک کے خلاف امریکی تعزیرات میں تبدیلی لانے سے ضروری معاشی افزائش کو فروغ ملے گا۔

اُن کا یہ امریکہ کا پہلا دورہ ہے، جنھوں نے مارچ کے اواخر میں ’نیشنل لیگ فور ڈیموکریسی (این ایل ڈی)‘ کی حکومت میں سرکاری مشیر اور وزیر خارجہ کا عہدہ سنبھالا۔

عشروں تک فوجی حکمرانی کے بعد میانمار کے جمہوری عبوری دور کے آغاز کو صدر براک اوباما کی میعاد مکمل کرنے والی انتظامیہ کی امور خارجہ پالیسی کی ایک اہم کامیابی خیال کیا جا رہا ہے جو ملک میں جاری عمل کی حمایت میں اقدام پر غور کر رہی ہے، جسے برما کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

سرکاری مشیر کے دفتر کی خاتون ترجمان، زوا ہَتے نے کہا ہے کہ آنگ سان سوچی ملک کی معیشت کے لیے امریکی اعانت کی خواہاں ہیں، جو سابق فوجی جنتا کی بدانتظامی اور بین الاقوامی اکیلا پن کی سزا کاٹ رہی تھی، تاکہ اُن لوگوں کی امیدوں پر پورا اترا جا سکے جنھوں نے گذشتہ سال ’این ایل ڈی‘ کو کثیر تعداد میں ووٹ دیے۔

اُنھوں نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ ’’میانمار کے لوگوں کی توقعات اب بہت ہی زیادہ ہیں، ہمارے جمہوری عمل میں پیش رفت کے حصول کے لیے معاشی ترقی انتہائی ضروری عمل ہوگا‘‘۔
ہَتے نے مزید کہا کہ ’’میانمار کو زیادہ تکنیکی اعانت کی ضرورت ہے، خصوصی طور پر مالی اور معاشی شعبے میں۔ تعزیرات کا معاملہ ایسا ہے جو زیرِ غور آئے گا‘‘، حالانکہ اُنھوں نے میانمار کو متاثر کرنے والی تعزیرات میں فوری تبدیلی کی توقع کا اظہار نہیں کیا۔

اُن کی ملاقاتوں میں صدر اوباما، نائب صدر جو بائیڈن، وزیر خارجہ کیری اور کانگریس کے سرکردہ ارکان کے ساتھ ملاقاتیں شامل ہوں گی، بشمول ری پبلیکن پارٹی کے سینیٹر جان مکین۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آنگ سان سوچی اُن کی حکومت کو درپیش دیگر چیلنجوں پر بھی بات چیت کریں گی۔

XS
SM
MD
LG