رسائی کے لنکس

logo-print

صوابی: پی ٹی ایم رہنماؤں کی عبوری ضمانت منظور


علی وزیر اور محسن داوڑ (فائل فوٹو)

دونوں ارکانِ قومی اسمبلی سمیت پختون تحفظ تحریک کے لگ بھگ دو درجن اہم رہنماؤں پر 10 اگست کو صوابی میں جلسہ کرنے کے الزام میں مقدمات درج کیے گئے تھے۔

خیبر پختونخوا کے ضلع صوابی کی ایک عدالت نے جنوبی وزیرستان سے رکن قومی اسمبلی اور پختون تحفظ تحریک (پی ٹی ایم) کے رہنما علی وزیر اور ان کے ساتھیوں کی عبوری ضمانت منظور کرلی ہے۔

علی وزیر اور پی ٹی ایم کے ایک اور رہنما اور رکنِ قومی اسمبلی محسن داوڑ کو حکام نے ایک روز قبل پشاور کے باچا خان انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر دبئی جانے سے روک دیا تھا۔

ایئرپورٹ پر تعینات وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے افسران نے دونوں رہنماؤں کو بتایا تھا کہ ان کے خلاف درج مقدمات کے باعث ان کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل ہیں جس کی وجہ سے انہیں بیرونِ ملک سفر کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

بعد ازاں ایف آئی اے حکام نے علی وزیر اور محسن داوڑ کو ان کے چھ دیگر ساتھیوں سمیت باقاعدہ طور پر حراست میں لے کر ہوائی اڈے سے وفاقی تحقیقاتی ادارے کے مرکز منتقل کردیا تھا جہاں سے انہیں جمعے کو رات گئے ذاتی ضمانت پر رہا کردیا گیا تھا۔

محسن داوڑ اور علی وزیر دبئی میں آباد پختون تارکینِ وطن کی جانب سے متحدہ عرب امارات کے یومِ آزادی کے سلسلے میں منعقد کردہ ایک تقریب میں شرکت کے لیے جا رہے تھے۔

جمعے کی شب رہائی کے بعد ہفتے کو پی ٹی ایم رہنما صوابی پہنچے جہاں انہوں نے مقامی عدالت سے اپنی ضمانت کرائی۔

محسن داوڑ نے وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ صوابی میں درج مقدمات میں وہ پہلے ہی ضمانت کراچکے تھے جب کہ عدالت نے ہفتے کو علی وزیر کی عبوری ضمانت بھی منظور کرلی ہے۔

ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں نام شامل ہونے سے متعلق محسن داوڑ کا کہنا تھا کہ وہ اس سلسلے میں دیگر سیاسی جماعتوں کے ارکانِ پارلیمان سے رابطہ کریں گے اور ان کی مشاورت سے یہ معاملہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں اٹھائیں گے۔

دونوں ارکانِ قومی اسمبلی سمیت پختون تحفظ تحریک کے لگ بھگ دو درجن اہم رہنماؤں پر 10 اگست کو صوابی میں جلسہ کرنے کے الزام میں مقدمات درج کیے گئے تھے۔

ان مقدمات کے سلسلے میں پی ٹی ایم کی خاتون رہنما گلالئی اسماعیل کو بھی سات نومبر کو لندن سے واپسی پر اسلام آباد کے ہوائی اڈے سے گرفتار کیا گیا تاہم بعد میں انہیں تحریک کے دیگر رہنماؤں کے ساتھ صوابی کی عدالت نے ضمانت پر رہا کردیا تھا۔

دریں اثنا پی ٹی ایم کے بانی منظور پشتین نے اپنے ایک ٹوئٹ مین الزام عائد کیا ہے کہ تنظیم کے کئی رہنماؤں کو کوہاٹ میں حکام نے حراست میں لے لیا ہے۔

منظور پشتین کے اس دعوے کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG