رسائی کے لنکس

logo-print

صوابی کی ضحیٰ کی موت زہر دینے سے ہوئی: میڈیکل رپورٹ


فائل فوٹو

صوبہ خيبر پختونخوا کے ضلع صوابی ميں سسراليوں کے ہاتھوں مبينہ طور پر بہو کے قتل کے مقدمے میں مقتولہ کو زہر دیے جانے کی تصدیق ہو گئی ہے۔

سوشل ميڈيا پر گزشتہ کئی روز سے 18 سالہ ضحٰی کی تصاوير گردش کر رہی ہیں جنہیں ان کے اہلِ خانہ کے دعوے کے مطابق سسرالیوں نے بدچلنی کا الزام لگا کر قتل کر دیا تھا۔

صوابی کے علاقے گندف کے پوليس افسر فاروق خان نے وائس آف امريکہ کو بتايا ہے کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد پوليس نے ايف آئی آر ميں نامزد دو ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے جب کہ ایک ملزمہ کو ضمانت قبل از وقت گرفتاری کی وجہ سے گرفتار نہیں کیا گیا۔

انہوں نے بتايا کہ ميڈيکل رپورٹ سے ضحیٰ کو زہر دینے کے الزام کی تصدیق ہو گئی ہے۔

مقتولہ ضحٰی کے والد رياض خان نے وائس آف امریکہ کو بتايا ہے کہ تين سال قبل انہوں نے اپنی بڑی بيٹی امن کا رشتہ بھی اسی گھرانے ميں کیا تھا۔

ان کے بقول اچھے تعلقات کی بنياد پر انہوں نے اپنی دوسری بيٹی ضحٰی کی شادی بھی اسی گھرانے کے ایک فرد شہباز خان سے 10 فروری کو کرائی تھی۔

ان کے بقول شہباز خان ان کی بيٹی کے ساتھ ايک ماہ رہے اور پھر بعد ميں روزگار کے سلسلے ميں امريکہ چلے گئے۔ جس کے بعد بیٹی کی ساس کا رويہ خراب ہوتا چلا گيا اور انہوں نے بیٹی پر بدچلنی کا الزام بھی لگايا۔

ضحیٰ کے قتل کی واردات 29 جون کو ہوئی۔ اس دن کے متعلق ان کی بڑی بہن امن نے وائس آف امريکہ کو بتايا کہ اس دن وہ طبیعت کی خرابی کی وجہ سے تاخیر سے بیدار ہوئی تھیں۔ معمول کے کاموں سے فارغ ہونے کے بعد وہ دن 12 بجے کے قریب اپنی بہن کے کمرے میں گئيں تو وہ اپنے خاوند کے ساتھ ویڈیو کال پر بات کر رہی تھیں۔

امن کے بقول اسی دوران اچانک ان سے فون گر گیا اور منہ سے جھاگ نکلنا شروع ہوا۔ امن کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے اپنی ساس کو آگاہ کیا تو انہوں نے اسے نظر انداز کر دیا۔ سہ پہر تک جب درد ناقابلِ برداشت ہو گیا تو مقامی ڈاکٹر کو گھر بلايا گیا جس نے وقتی طور پر درد کنٹرول کرنے کی دوا لکھ کر دی۔ لیکن اس سے بھی ضحیٰ کو افاقہ نہیں ہوا۔

امن کے بقول ان کے بار بار اصرار کے باوجود ان کی ساس، شوہر اور گھر کے باقی افراد نے ضحیٰ کی حالت پر کوئی توجہ نہیں دی بلکہ الٹا ان کی بہن کو ڈرامے باز کہتے رہے۔

ان کے بقول رات آٹھ بجے جب ضحیٰ کی حالت بہت ہی خراب ہو گئی تو ان کی ساس نے میرے اور میری بہن کے تمام زیورات اتارے اور اسے اسپتال لے گئیں۔

امن نے بتایا کہ ان کے بار بار اصرار کے باوجود انہیں اپنی بہن کے ساتھ اسپتال نہیں جانے دیا گیا۔ رات 10 بجے کے بعد انہیں ضحیٰ کی موت کی اطلاع ملی تو سسرال والوں نے انہیں تاکید کی کہ معاملے کو مزید پیچیدہ بنانے کے بجائے وہ پولیس کو یہی بتائیں کہ ان کی بہن نے خود زہر کھایا ہے۔

تاہم ان کے بقول انہوں نے پولیس کو واقعے کے بارے میں آگاہ کیا جس کے بعد پولیس نے تحقیقات شروع کیں اور اب میڈیکل رپورٹ سے بھی ثابت ہو گیا ہے کہ اسے زہر دیا گیا۔

ضحٰی کے والد رياض خان نے پوليس کی ابتدائی تفتيش پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ ان کے بقول ان کی بیٹی کو رواں ماہ اپنے شوہر کے پاس امريکہ چلے جانا تھا لیکن اب وہ منوں مٹی تلے چلی گئی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG