رسائی کے لنکس

کرونا کے باعث سوات کی سوغات 'ٹراؤٹ' مچھلی کے تاجر بھی پریشان


ٹراؤٹ مچھلی کا کاروبار کرنے والوں کا کہنا ہے کہ رواں سال ٹراوٹ مچھلی کی پيداوار بہت اچھی ہوئی ہے۔ کرونا وائرس کی وجہ سے خريدار نہیں ہيں۔

محمد رشيد 1988 سے سياحت کے لیے مشہور خيبر پختونخوا کی پُر فضا وادی سوات ميں ٹراؤٹ مچھلی کے کاروبار سے منسلک ہيں۔ لیکن گزشتہ چند ماہ سے کرونا وائرس کے باعث اُن کا کاروبار بھی متاثر ہوا ہے۔

محمد رشید کی عمر 67 سال ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے نجی سطح پر سوات ميں سب سے پہلے ٹراؤٹ کی افزائش کا کام شروع کيا تھا۔

وائس آف امريکہ سے بات کرتے ہوئے محمد رشید نے بتايا کہ رواں سال ٹراؤٹ مچھلی کی پيداوار بہت اچھی ہوئی ہے۔ اس وقت صرف سوات ميں ايک لاکھ کلو سے زائد ٹراؤٹ مچھلی دستياب ہے۔

ان کے بقول کرونا کے سبب خريدار کم ہونے کی وجہ سے ٹراؤٹ فارمز کے مالکان اور یہاں کام کرنے والے افراد شديد مالی بحران کا شکار ہو گئے ہيں۔

ان کا کہنا تھا کہ سوات ميں 150 سے زيادہ ٹراؤٹ فارمز ہيں جب کہ ہر سال اس مچھلی کی افزائش اور فروخت ميں اضافہ ہوتا ہے۔

محمد رشيد جو 'سوات فش فارمز ايسوسی ايشن' کے صدر بھی ہيں، دعویٰ کرتے ہيں کہ ان کے فارم کی 'سالمن ٹراؤٹ' پورے پاکستان ميں کسی جگہ بھی دستياب نہيں ہے۔

ان کے مطابق اس کی قيمت مارکيٹ ميں 6000 روپے کلو ہے۔ اس کے علاوہ براون ٹراؤٹ کی قیمت دو ہزار روپے کلو جب کہ رينبو ٹراؤٹ کی قيمت 1600 روپے فی کلو ہے۔

محمد رشيد بتاتے ہیں کہ ان کے کاروبار کا انحصار سياحت پر ہوتا ہے۔ گزشتہ سال عيد الفطر پر 20 لاکھ سے زائد افراد نے وادی سوات کا رُخ کيا تھا جس کی وجہ سے علاقے کے کاروبار ميں بہت زیادہ بہتری آئی تھی۔ لیکن رواں برس اب تک صرف دو فی صد سياحوں نے سوات کا رُخ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سوات کے ٹراؤٹ فارمز ميں مچھلی تيار ہونے کے باوجود خريدار نہيں ہيں۔ خريداروں کی عدم موجودگی کی صورت ميں انہيں مچھلی کو خوراک زيادہ فراہم کرنی پڑتی ہے۔

محمد رشيد کو خدشہ ہے کہ جولائی، اگست اور ستمبر ميں تيز بارشوں کے باعث یہ فارمز سيلاب کی نظر نہ ہو جائيں۔

ياد رہے کہ 2010 کے تباہ کُن سيلاب سے سوات کے علاقوں بحرين اور مدين کو شدید نقصان پہنچا تھا۔ سيلابی ريلے نے محمد رشيد کے ٹراؤٹ فش فارم کو بھی مکمل طور پر تباہ کر دیا تھا۔ جس کی وجہ سے انہيں اپنا کاروبار نئے سرے سے شروع کرنا پڑا تھا۔

اس سے قبل 2006 سے 2009 کےدرمیان دہشت گردی کے باعث سوات ميں مچھلی کے کاروبار کو شديد نقصان پہنچا تھا۔

محمد رشيد کے مطابق اگرچہ دہشت گردوں نے ان کے فارمز کو براہِ راست کوئی نقصان نہيں پہنچايا تھا ليکن مسلسل کرفيو اور علاقے ميں خوف و ہراس کی وجہ سے وہ اپنے کاروبار پر توجہ نہيں دے سکے تھے جس کی وجہ سے بڑی تعداد میں مچھلياں ضائع ہو گئی تھيں۔

کرونا وائرس کی وجہ سے سوات ميں اب تک 83 افراد ہلاک ہو چکے ہيں جب کہ متاثرہ مريضوں کی تعداد تقريبا 2300 تک پہنچ چکی ہے۔ ملک کے ديگر حصوں کی طرح سوات کے کئی علاقوں میں بھی اسمارٹ لاک ڈاون کی جا رہا ہے جس کی وجہ سے کاروباری طبقہ پريشان ہے۔

محمد رشيد کہتے ہیں کہ انہيں اپنے فارم کے لیے لاہور اور کراچی سے خوراک منگوانی پڑتی ہے۔ ذرائع آمد و رفت کے مسائل ہونے کی وجہ سے خوراک کی قيمت ميں کئی گنا اضافہ ہو گيا ہے۔

ٹراؤٹ مچھلی کو سوات کی تحصيل 'مدين' کی سوغات سمجھا جاتا ہے۔ يہاں پر ٹراؤٹ کی پہلی فش ہيچری 1950 ميں قائم کی گئی۔

سوات ميں ٹراؤٹ مچھلی کے لیے فارم دريائے سوات کے ٹھنڈے اور برفيلے پانی کے کنارے بنائے گئے ہيں۔

ياد رہے کہ يہ مچھلی صاف شفاف اور معتدل درجہ حرارت والے پانی ميں ہی زندہ رہ سکتی ہے جب کہ یہ پانی کے بہاؤ کے مخالف سمت ميں تیرتی ہے۔ اس لیے اسے زيادہ طاقت ور مچھلی تصور کيا جاتا ہے۔

خيبر پختونخوا ميں ٹراؤٹ مچھلی کی افزائش سوات کے علاوہ دير، شانگلہ، چترال، کوہستان اور مانسہرہ ميں کی جاتی ہے۔

محمد رفاقت گزشتہ 20 سال سے ٹراؤٹ مچھلی کی افزائش سے وابستہ ہيں۔ ان کے مطابق کرونا وائرس کی وجہ سے پيدا ہونے والی صورت حال انہوں نے اپنی زندگی ميں پہلے کبھی نہيں ديکھی۔

وائس آف امريکہ سے بات کرتے ہوئے محمد رفاقت نے بتايا کہ انہوں نے وادی کاغان ميں 30 تالابوں پر مشتمل ٹراؤٹ فارم بنايا ہے جب کہ اس کے لیے انہوں نے ايک کروڑ روپے کا قرضہ ليا ہے۔ ليکن سياحوں کی غير موجودگی ميں ان کے قرضے ميں مزيد اضافہ ہو رہا ہے جس کے باعث وہ غير يقينی صورت حال سے دوچار ہيں۔

محمد رفاقت کا کہنا تھا کہ سال اس سیزن ميں وہ 60 لاکھ روپے تک کما چکے ہوتے ہيں ليکن اس بار ان کی آمدنی نہ ہونے کے برابر ہے کيونکہ مانسہرہ سے آگے بالاکوٹ کے مقام پر سياحوں کی آمد روکنے کے لیے پوليس کی عارضی چوکی بنا دی گئی ہے۔

ان کے مطابق ٹراؤٹ مچھلی بہت حساس ہوتی ہے اور اس کی افزائش پر بہت وقت لگتا ہے۔ 500 گرام کی مچھلی کو تيار ہونے ميں تقريبا ڈيڑھ سال لگ جاتا ہے۔

محمد رفاقت نے مزيد بتايا کہ ان کے فارم پر 30 ہزار کلو مچھلی تيار ہے جب کہ خريدار موجود نہيں ہے جس کی وجہ سے آمدن نہيں ہو رہی اور مچھلی کی خوراک کا خرچہ بڑھتا جا رہا ہے۔

مدين ميں اپنے فارم پر موجود محمد رشيد حکومت سے مالی امداد کا مطالبہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ حکومت کو چاہیے کہ مچھلی کی خوراک اور مزدوروں کی تنخواہ کی مد ميں ان کی مدد کرے۔

سوات ميں پھلوں اور سبزيوں کے بعد سب سے زيادہ ریونیو ٹراؤٹ مچھلی کی فروخت سے حاصل ہوتا ہے۔ پاکستان میں آڑو کی سب سے زیادہ پیداوار سوات ميں ہی ہوتی ہے ليکن سياحوں کی پہلی ترجيح صاف اور ٹھنڈے پانی کی ٹراؤٹ مچھلی ہی ہوتی ہے۔

سوات کے اسسٹنٹ ڈائريکٹر فشريز جعفر يحيیٰ بھی محمد رشيد سے اتفاق کرتے ہيں۔ جعفر يحيیٰ کے مطابق مچھلیوں کے فارمز کے کاروبار کا تمام تر دار و مدار سياحت سے پر ہے ليکن اس سال کرونا وائرس کی وجہ سے سياح نہيں آ رہے۔ ٹراؤٹ مچھلی اور ہوٹل انڈسٹری سے وابستہ افراد شديد پريشانی کا شکار ہيں۔

وائس آف امريکہ سے بات کرتے ہوئے جعفر يحيیٰ نے مزيد بتايا کہ ٹراؤٹ مچھلی سوات کی بہترين سوغات ہے۔ سيزن کے دوران سياحوں کی کھانے ميں پہلی ترجيح ٹراؤٹ فش ہی ہوتی ہے۔

دوسری جانب ماحولیات کے ماہرين کہتے ہیں کہ بے تحاشا سياحت اور بہتر نظم و نسق نہ ہونے کی وجہ سے علاقے میں آلودگی ميں بے پناہ اضافہ ہوا ہے جس سے مقامی دريائی مچھلی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG