رسائی کے لنکس

logo-print

چوروں سے شاہی تاج بھی محفوظ نہیں رہا


17 ویں صدی سے تعلق رکھنے والے سویڈن کے تاریخی تاج اور گلوب، جنہیں چور دن دھاڑے اڑا لے گئے۔ 31 جولائی 2018

چوروں کی دیدہ دلیری اور بے خوفی کا یہ عالم ہے کہ انہیں بادشاہوں کا بھی ڈر نہیں رہا اور وہ شاہی اثاثوں پر بھی ہاتھ صاف کرنے لگے ہیں۔

ہاتھ کی صفائی کا یہ عالم ہے کہ یورپ کی پولیس بھی، جسے ہیلی کاپٹر سے لے کر جدید ڈیجیٹل آلات کی سہولت حاصل ہے، یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ چور کدھر سے آئے اور کدھر غائب ہو گئے۔ گویا چور نہ ہوئے، چھلاوہ یا کوئی خلائی مخلوق ہوئے۔

اپنی نوعیت کی منفرد اور انوکھی چوری کا یہ واقعہ بدھ کی دوپہر یورپی ملک سویڈن میں پیش آیا اور چور سینکڑوں لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونک کر دو شاہی تاج اور ایک شاہی گلوب لے اڑے۔

خبروں میں بتایا گیا ہے کہ دونوں شاہی تاج اور گلوب سکاٹ ہوم سے تقریباً ایک سو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ایک تاریخی گرجا گھر سٹرنگس کیتھڈرل میں محفوظ کیے گئے تھے۔ شاہی نوادرات کے تحفظ کے لیے انہیں خصوصي شوکیسوں میں رکھا گیا تھا، تاکہ قدیم تاریخ سے دلچسپی رکھنے والے انہیں دیکھ سکیں۔

ان نوادرات کا تعلق 17 ویں صدی کے سویڈن کے حکمران کنگ کارل چہارم اور ان کی ملکہ کرسٹینا سے ہے۔ ان کے انتقال کے بعد یہ تاج بھی، اس زمانے کے رواج کے مطابق بادشاہ اور ملکہ کے زیر استعمال سامان کے ساتھ دفن کر دیے گئے۔ لیکن بعدازاں انہیں نکال کر کیتھیڈرل میں نمائش کے لیے رکھ دیا گیا۔

دونوں تاج اور گلوب سونے کے ہیں اور ان میں قیمتی ہیرے جواہرات جڑے ہیں۔

پولیس کو ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ چور کون تھے اور وہ کہاں غائب ہوئے، تاہم انہیں یہ اطمینان ہے کہ وہ یہ نوادرات بیچ نہیں سکتے۔

سویڈن پولیس نے ترجمان سٹیفن ڈینگراڈ نے کہا ہے کہ چوروں کو ابھی تک شناخت نہیں کیا جا سکا، لیکن انہوں نے جو چیزیں چرائی ہے ہیں وہ قومی اثاثہ ہیں۔ ان کی بین الاقوامی پہچان ہے اس لیے انہیں بیچنا بہت مشکل ہے۔

پولیس کو یہ بھی اندازہ نہیں ہے کہ مسروقہ مال کی مالیت کتنی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ کئی لوگوں نے چوروں کو گرجاگھر سے نکل کر ایک موٹر بوٹ میں فرار ہوتے ہوئے دیکھا ہے۔

عینی شاہدوں میں ٹام روسیل بھی شامل ہے۔ جب چور کیتھیڈرل سے نکلے تو وہ باہر بیٹھا کھانا کھا رہا تھا۔ اس نے میڈیا کو بتایا کہ میں نے دو افراد کو عمارت کے اندر سے بھاگ کر نکلتے ہوئے دیکھا۔ وہ تیزی سے جھیل میں کھڑی ایک موٹر بوٹ پر چھلانگ لگا کر سوار ہوئے اورپھر موٹر بوٹ تیزی سے غائب ہو گئی۔

جب روسیل سے پوچھا گیا کہ آپ کو کیسے پتا ہے کہ وہ چور تھے۔ تو ان کا کہنا تھا۔ ان کے چوروں والے تھے۔

پولیس نے ہیلی کاپٹروں کی مدد سے جھیل میں موٹر بوٹ ڈھونڈنے کی کوشش کی لیکن وہ نہیں ملی۔

موٹر بوٹ میں فرار ہونے والے چور تھے بھی یا نہیں، کوئی نہیں جانتا۔

ابھی تک چور تو نہیں ملے لیکن پولیس کا خیال ہے کہ جب وہ چوری کا مال بیچ نہیں سکیں گے تو ایک روز خود ہی کہیں چھوڑ جائیں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG