رسائی کے لنکس

logo-print

سوٹزرلینڈ: تارکین وطن کی تعداد گھٹانے پر ریفرینڈم ناکام


ایک اندازے کے مطابق، ہر سال تقریباً 80000 پناہ گزیں ملک میں وارد ہوتے ہیں۔ یہ بھی تجویز دی گئی تھی کہ سوٹزرلینڈ بین الاقوامی ترقیات کے لیے مختص کی جانے والی اپنی بجٹ کا 10 فی صد بیرون ملک خاندانی منصوبہ بندی پر خرچ کرے، جسے ناقدین نے ’نوآبادیاتی‘ نوعیت کا انداز قرار دیا تھا

سوٹزلینڈ کے ووٹروں نے اِمی گریشن کے معاملے پر سخت قسم کی پابندیاں اپنانے کی تجویز کو واضح اکثریت سے مسترد کر دیا ہے، جس ریفرینڈم کو مخالفین نے غیر ملکیوں سے نفرت پر مبنی اور معیشت کے لیے تباہ کُن قرار دیا تھا۔

اِس میں تجویز کیا گیا تھا کہ پناہ گزینوں کی آبادی میں اضافے کی حد 0.2 فی صد کی شرح تک رکھی جائے، یعنی یہ کہ ہر سال 16000 افراد کو ملک آنے کی اجازت دی جائے۔ تجویز 74 فی صد ووٹوں سے مسترد ہوئی۔

ایک اندازے کے مطابق، موجودہ وقت میں ہر سال تقریباً 80000 پناہ گزیں ملک میں وارد ہوتے ہیں۔ یہ بھی تجویز دی گئی تھی کہ سوٹزرلینڈ بین الاقوامی ترقیات کے لیے مختص کی جانے والی اپنی بجٹ کا 10 فی صد بیرون ملک خاندانی منصوبہ بندی پر خرچ کرے، جسے ناقدین نے ’نوآبادیاتی‘ نوعیت کا انداز قرار دیا تھا۔

مجوزہ تجویز کے حامیوں کا کہنا تھا کہ پہاڑوں کے اِس دیس میں، غیر ملکیوں کی یلغار کے باعث ہی ملک کا سبزہ زار اور منظرنامہ بے رونق ہوتا جا رہا ہے۔

اس معاملے پر اِس سال سوٹزرلینڈ میں ہونے والا یہ دوسرا ریفرنڈم ہے، جس کے لیے آج اتوار کو ووٹ ڈالے گئے۔

فروری میں، ایک منصوبے کی منظوری دی گئی تھی جس میں یورپی یونین کی طرف سے آنے والے پناہ گزینوں کے لیے بھی کوٹہ مقرر کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔ سوٹزرلینڈ یورپی یونی کا رکن نہیں ہے۔ اس پر، اِن ملکوں سے سوٹزرلینڈ آنے والے لوگوں کی آزادانہ نقل و حمل کے بارے میں سوٹزرلینڈ کے عزم پر سوالات اٹھائے گئے تھے، جن پر ملک کے معاشی تعلقات کا انحصار ہے۔

دریں اثنا، ایک دوسری ووٹنگ کی 77 فی صد ووٹروں نے مخالفت کی تھی، جس میں ملک کے مرکزی بینک کے سونے کے ذخائر میں اضافے کے لیے کہا گیا تھا۔

تیسرا ریفرنڈم، جس میں تجویز دی گئی تھی کہ ٹیکس کے ضمن میں دولت مند پناہ گزینوں کو سوٹزرلینڈ میں حاصل نمایاں فوائد میں کمی لائی جائے۔ یہ بھی منظوری حاصل کرنے میں ناکام رہا۔

سوٹزرلینڈ میں براہِ راست جمہوریت کا نظام رائج ہے۔ یہ نظام اپنے شہریوں کو ’پاپولر ووٹ‘ کا حق دیتا ہے۔ تاہم، اِس کے لیے، درکار دستخطی حمایت کی خاطرخواہ تعداد حاصل ہونا لازم ہے۔

XS
SM
MD
LG