رسائی کے لنکس

logo-print

465 رنز کے تعاقب میں 55 اسکور پر پاکستان کا ایک کھلاڑی آؤٹ


پاکستان ٹیم پہلی اننگز میں 315 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی تھی، یوں اسے میچ جیتنے کیلئے 465 رنز کا ہدف ملا ہے۔

سڈنی ٹیسٹ کے چوتھے روز کھیل کے اختتام پر 465 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاکستان نے 55 رنز پر ایک وکٹ گنوا دی۔

پاکستان کو جیت کے لیے مزید 410 رنز درکار ہیں اور اس کی 9 وکٹیں ابھی باقی ہیں۔

شرجیل خان 40 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے جب کہ اظہر علی 11 اور نائٹ واچ مین یاسر شاہ 3 رنز کے ساتھ وکٹ پر موجود ہیں۔

اس سے قبل پاکستان ٹیم آسٹریلیا کے 538رنز کے جواب میں 315 رنز بناکر آؤٹ ہوگئی تھی، یونس خان نے ناقابل شکست 175رنز بنائے۔

آسٹریلیا کی جانب سے ہیزل ووڈ نے 4، لاین نے تین جبکہ اسٹارک اور اسٹیو او کوفی نے ایک، ایک وکٹ حاصل کی۔

پاکستان ٹیم کو فالو آن کا سامنا کرنا پڑا لیکن آسٹریلوی کپتان اسمتھ نے فالو آن کے بجائے 223رنز کی برتری کے ساتھ دوسری اننگز شروع کی اور تیز رفتار بیٹنگ کرتے ہوئے 2 وکٹوں کے نقصان پر241رنز بنالیے، یوں پاکستان کو میچ جیتنے کیلئے 465رنز کا مشکل ہدف ملا تھا۔

عثمان خواجہ نے ناقابل شکست 79،اسمتھ نے 59اور وارنر نے 55رنز بنائے۔یاسر شاہ اور وہاب ریاض نے ایک، ایک وکٹ حاصل کی۔

سڈنی کرکٹ گراؤنڈ پر کھیلے جا رہے سیریز کے تیسرے اور آخری ٹیسٹ میں آسٹریلیا نے دوسری اننگز کا آغاز انتہائی تیز رفتار انداز میں کیا اور صرف 9 اوور میں 71 رنز بنا ڈالے جس میں وارنر کی 23 گیندوں پر تین چھکوں اور آٹھ چوکوں کی مدد سے تیز رفتار نصف سنچری بھی شامل ہے ۔

یہ ٹیسٹ کرکٹ میں دوسری تیز ترین نصف سنچری ہے، ٹیسٹ میچ میں تیز ترین نصف سنچری کا اعزاز پاکستان کے مصباح الحق کے پاس ہے جو انہوں نے دو ہزار چودہ، پندرہ میں آسٹریلیا کے خلاف 21 گیندوں پر بنا کر حاصل کیا تھا۔

ڈیوڈ وارنر 55رنز بنا کر وہاب ریاض کی گیند پر کلین بولڈ ہوئے، تیز رفتار بیٹنگ کا سلسلہ یہیں نہ رکا، عثمان خواجہ اور اسٹیو اسمتھ نے بھی کھل کر اسٹروک کھیلے اور صرف 25 اوورز میں اسکور 174 رنز تک پہنچا دیا۔

اسمتھ 59 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے، ان کی اننگز میں ایک چھکا اور آٹھ چوکے شامل تھے۔

آسٹریلیا کا اسکور جب 241 رنز پر پہنچا تو کپتان اسٹیون اسمتھ نے اننگز ڈکلیئر کرنے کا اعلان کر دیا۔ عثمان خواجہ 79 اور ہینڈز کومب 40 رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ پویلین لوٹے۔

آسٹریلیا نے دوسری اننگز میں تیز رفتار بیٹنگ کرتے ہوئے 7اعشاریہ 53 کی شرح سے رنز بنائے جو ٹیسٹ کرکٹ میں بلند ترین شرح ہے۔

اس سے قبل ویسٹ انڈیز نے 1993 میں بھارت کے خلاف 6 اعشاریہ 82 کی شرح سے رنز بنائے تھے۔

XS
SM
MD
LG