رسائی کے لنکس

logo-print

شام: صورت حال خطرناک ہے، اقوام متحدہ کے امن کار کام نہیں کرسکتے


اقوام متحدہ کے امن کار مشن کے سربراہ کا کہنا ہے کہ شام کی صورتِ حال بہت ہی خطرناک ہوچکی ہے اور اقوام متحدہ کے مبصرین اپنا کام دوبارہ شروع کرنے سے قاصر ہیں۔

منگل کے روز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں سفارت کاروں کو دی جانے والی ایک بریفنگ کے دوران ہاروے لسوز نے کونسل کو بتایا کہ بڑھتے ہوئے تنازع کے پیشِ نظر شام میں مبصر مشن کا کام معطل رہے گا۔

اُنھوں نے مزید کہا کہ حکومت شام مبصرین کو سیٹلائٹ ٹیلی فونز استعمال نہیں کرنے دیتی ، جسے اُنھوں نے مبصرین کے کام کے لیے ایک ’اہم آلہ‘ قرار دیا۔

ابھی یہ بات واضح نہیں آیا یہ تعطلی کب تک جاری رہے گی۔
شام میں اقوام متحدہ کے مبصر مشن کےسربراہ میجر جنرل رابرٹ موڈ نے ملک میں موجود 300مبصرین کی سلامتی کو لاحق خطرات کے پیش نظر، 16جون کو مشن کی کارروائیاں معطل کرنے کا اعلان کیا۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ گذشتہ چند ہفتوں کے دوران حملہ آوروں نے مبصر مشن کے دستے کو متعدد بار گولہ باری اور بم دھماکوں کا نشانہ بنایا ہے۔

دریں اثنا، شامی آبزرویٹری فور ہیومن رائٹس نے ٹیلی فون پر وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ منگل کو ملک بھر میں ہونے والی جھڑپوں اور گولہ باری کے نتیجے میں 38افراد ہلاک ہوچکے ہیں، جن میں حکومت کے 21فوجی ، دو عدد بھگوڑے اور 15سولینز اور باغی شامل ہیں۔

رمی عبد الرحمٰن نے کہا ہے کہ درعا، حمص، حلب اور دیئر الزور کے شہروں کے علاوہ ہما اور ادلب کے صوبوں میں تشدد کے واقعات شامل ہیں۔ اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ دمشق کے مضافات میں باغیوں کے ساتھ جھڑپوں کے دوران فوج نے بھاری توب خانے کا استعمال کیا، جہاں فوجی عہدے داروں کےمتعدد خاندان رہائش پذیر ہیں۔

برطانیہ میں قائم آبزرویٹری کا شام میں رابطوں کا ایک جال بچھا ہوا ہے جن میں باغی، سرگرم کارکن اور سرکاری سکیورٹی ارکان شامل ہیں۔ گروپ نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ 15ماہ سے جاری تنازعے میں 15000سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

XS
SM
MD
LG