رسائی کے لنکس

logo-print

صدر اسد کے ساتھ شام میں امن ، استحکام اور جمہوریت ناممکن ہے: ہلری کلنٹن


وزیر خارجہ کلنٹن نے کہا کہ مسٹر اسد نے اپنی بربریت اور دوغلے پن کو دگنا کردیا ہےاور اب وقت آگیا ہے کہ بین الاقوامی کمیونٹی ایک ایسے شام کے بارے میں منصوبہ بندی کرے جس میں مسٹر اسد نہ ہوں

شام میں بڑے پیمانے قتل عام کے ایک اور واقعہ کے بعد شام پرعالمی دباؤ میں اضافہ ہورہا ہے اور امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن نے کہاہے کہ صدر بشارلاسد کے اپنے عہدے پر موجودگی سے شام میں امن، استحکام یا جمہوریت نہیں آسکتی۔

شام میں 78 افراد کی ہلاکتوں کی رپورٹس کے بعد جمعرات کو ترکی کے دارالحکومت استنبول میں نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ کلنٹن نے کہا کہ مسٹر اسد نے اپنی بربریت اور دوغلے پن کو دگنا کردیا ہےاور اب وقت آگیا ہے کہ بین الاقوامی کمیونٹی ایک ایسے شام کے بارے میں منصوبہ بندی کرے جس میں مسٹر اسد نہ ہوں۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں بین الاقوامی کمیونٹی کو ایک ایسے منصوبے پر متحدکرنا ہے جس کا حصول ممکن ہو اور جس پر ان لوگوں کا اعتماد ہوجو شام کے اندر احتجاج کررہے ہیں ، اور جوان واقعات کے متاثرین میں شامل ہیں اور اپنے بین الاقوامی انسانی حقوق کے لیے جانیں گنوارہے ہیں۔

ہلری کلنٹن نے یہ بھی کہا کہ اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے مندوب کوفی عنان کی جانب سے دیا جانے والے امن منصوبہ بڑا اہم ہے اور وہ بین الاقوامی کمیونٹی اکھٹا کرنے کا آخری ذریعہ ہے تاکہ سیکیورٹی کونسل کے دیگر ارکان یہ جان سکیں کہ اس منصوبے کے بعد اب کس اقدام کی ضرورت ہے۔

سفارت کاروں کا کہناہے کہ توقع ہے کہ جمعرات کی شام مسٹر عنان اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کو شام پر بریفنگ دیں گے اور اس ملک سے متعلق اپنے ناکام امن منصوبے پر نئی تجاویز پیش کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ مسٹر عنان شام کے لیے ایک رابطہ گروپ کی تجویز دے سکتے ہیں جس میں سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان اور اہم علاقاتی قوتیں شامل ہوں،جو دمشق اور یا حزب اختلاف پر اپنا اثر ورسوخ رکھتی ہوں، مثال کے طورپر سعودی عرب ،ترکی اور ایران وغیرہ۔

XS
SM
MD
LG