رسائی کے لنکس

logo-print

شام: اقوام متحدہ کے مبصر مشن نے اپنا کام معطل کر دیا


وائٹ ہاؤس کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کے اس اعلان کے تناظر میں ’اگلا قدم ‘ اٹھانے کے لیے امریکہ اپنے بین الاقوامی ساجھے داروں سے مشورہ کر رہا ہے

پُرتشدد کارروائیوں نے سنگین صورتِ حال اختیار کرلی ہےجس کےباعث اقوام متحدہ کے مبصرین شام میں اپنا مشن ’ تا وقت ثانی‘ معطل کرنے پرمجبور ہوگئے ہیں۔

اِس بات کا اعلان اقوام متحدہ کے مبصر مشن کے سربراہ نے ہفتے کو جاری کیے گئے ایک بیان میں کیا۔

میجر جنرل رابرٹ موڈ نے گذشتہ 10روز سےتشدد کے واقعات میں ہونے والے اضافے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مناسب وقت پر مشن اپنی کارروائیاں پھر شروع کرے گا۔

اُن کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کے مبصرین گشت نہیں کریں گے اور تا وقتِ ثانی اپنے مخصوص مقامات پر ہی رہیں گے۔طرفین کے ساتھ رابطے کم کیے جائیں گے، جب کہ معطلی کے معاملے کا روزانہ کی بنیاد پر جائزہ لیا جائے گا۔

حکومت شام اور اپوزیشن فورسز کی طرف سے عمل میں لائی گئی جنگ بندی پر عمل درآمد کی نگرانی کے لیے اقوام متحدہ نے تقریباً 300غیر مسلح مبصرین شام بھیجے ہیں۔ یہ جنگ بندی کسی طور پائیدارنہیں رہی اور کچھ ہی روز قبل مبصرین کی ایک ٹیم پر اُس وقت حملہ کیا گیا جب وہ لتاکیہ میں الحفیح کے قصبے کے دورے پر وہاں پہنچی تھی۔

اقوام متحدہ کے مبصرین کے دستوں کو سڑک پر نصب بم حملوں کا ہدف بھی بنایا گیا ہے۔

ہفتے کو ایک غیر پیشہ ور شائق کا بنا ہوا ایک وڈیو جاری ہوا ہے جس میں تشددکے مزید واقعات کا پتا لگتا ہے اور جس میں دارلحکومت دمشق اور مرکزی صوبہ ٴ حمص کے مضافات میں زوردار لڑائی کا ثبوت ملتا ہے۔


شامی اپوزیشن کے عہدے دار جنھوں نے استنبول میں ایک اجلاس منعقد کیا، جس میں سیریئن نیشنل کونسل کے بصام عمادی نے بھی شامل تھے، بتایاہے کہ اُنھیں مشن کی معطلی کے بارے میں کوئی تعجب نہیں ہوا۔

اُن کے خیال میں ایسا کرنے میں مبصر مشن حق بجانب ہے۔ اُن کے بقول، اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ درست وقت ہےجب اس بات کا اعلان کیا جائے کہ مشن ناکام رہا ہے، اور یہ کہ مسٹر عنان کی ساری کی ساری جستجو بیکار ہوگئی ہے۔

سیریئن نیشنل کونسل کے سیاسی سربراہ، برہان غلیون نے کہا ہےکہ وہ مکمل طور پر مایوس نہیں ہیں۔ تاہم، اُن کا کہنا تھا کہ امن کو برقرار رکھنے کی خاطراقوام متحدہ کو اپنی حکمتِ عملی کو تبدیل کردینا چاہیئے۔

ہفتے کے روز واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کے اس اعلان کے تناظر میں ’اگلا قدم ‘ اٹھانے کے لیے امریکہ اپنے بین الاقوامی ساجھے داروں سے مشورہ کر رہا ہے۔

امریکہ نے ایک بار پھر حکومت شام سے مطالبہ کیا ہےکہ اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے ایلچی کوفی عنان کے جنگ بندی کے لیے پیش کردہ منصوبے پر عمل درآمد کے بارے میں اپنی یقین دہانی پر عمل پیرا ہو۔

XS
SM
MD
LG