رسائی کے لنکس

logo-print

شام میں داعش کی دائمی شکست اور سیاسی نظام کی مکمل بحالی کا عزم


شام کے علاقے سویدا میں داعش کی قید سے رہا ہونے والی ایک خاتون اور اس کے بچے۔ 20 اکتوبر 2018

شام میں جاری لڑائی آٹھویں سال میں داخل ہو گئی ہے اور امریکہ کی حمایت یافتہ شامی فوجیں علاقے سے داعش کو نکالنے کے لئے بڑے حملے کر رہی ہیں۔ ادھر شام کے تنازعے کے حل کے سلسلے میں امریکہ نے تجاویز بھی پیش کی ہیں۔

شام کے لئے امریکہ کے خصوصی نمائندے جیمز جیفرے نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ امریکہ شامی فوجوں کی حمایت جاری رکھے گا۔ سفیر جیمز جیفرے کہتے ہیں کہ امریکہ جس چیز کا متلاشی ہے وہ داعش کی دائمی شکست اور شام میں سیاسی نظام کی مکمل بحالی ہے جسے دوبارہ تبدیل نہ کیا جا سکے اور جس کی سربراہی خود شامی عوام کریں۔ انہوں نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کو اس کے لئے مدد فراہم کرنی چاہئیے اور اس تنازعے کو بڑھنے سے روکا جانا چاہئیے۔

اقوام متحدہ خصوصی نمائندے کا اندازہ ہے کہ 2011 میں اس تنازعے کے پیدا ہونے کے بعد سے اب تک چار لاکھ سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں جبکہ 50 لاکھ مرد، عورتیں اور بچے ملک سے بھاگنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔

اس انسانی بحران کے سلسلے میں بین الاقوامی برادری نے مدد فراہم کی ہے۔ تاہم اہل کاروں کا کہنا ہے کہ شام کے حالات کو مزید خراب ہونے سے روکنے میں صدر اسد کی حکومت رکاوٹ ہے۔

سفیر جیمز جیفرے کا کہنا ہے کہ امریکہ نے پناہ گزینوں کو وطن واپسی پر مجبور نہیں کیا ہے اور نہ ہی مختلف ملکوں کی حکومتوں نے واپس جانے کے لئے ان کی حوصلہ شکنی کی ہے یا انہیں روکا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ یہ فیصلہ پناہ گزینوں کو رضاکارانہ طور پر خود کرنا چاہئیے۔ ان کی واپسی کا عمل محفوظ اور باعزت حالات میں ہونا چاہئیے۔ یہ ایسا نہیں ہونا چاہئیے کہ کچھ لوگ بھوک و افلاس سے تنگ آ کر واپس لوٹنے پر مجبور ہوں۔

جب ان سے امریکی فوجوں کی شام سے واپسی کے ٹائم فریم کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے داعش کا اثر و رسوخ ختم کرنے کے سلسلے میں طویل عرصے کے چیلنجوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ داعش کی دیرپا شکست محض ان کے آخری بچے کھچے عناصر کو ختم کرنے سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے جو پلٹونوں اور کمپنی کی سائز میں یوفریٹس شہر کے قرب و جوار میں قلعہ بند ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکی فوج کی موجودگی شمال مشرقی شام میں فعال باقی بچے ہوئے دستوں سے نمٹنے کے لئے ضروری ہے۔

درایں اثنا کیمیائی ہتھیاروں کی نگرانی کے ایک بڑے یورپی ادارے کے ماہرین اگلے سال کے آغاز میں یہ تحقیقات شروع کریں گے کہ 2014 سے شروع ہونے والے مہلک زہریلی گیس کے حملوں کے ذمہ دار کون ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG