رسائی کے لنکس

امریکہ: شام کیمیائی حملے کی تیاری کررہا ہے


شام کے صوبے ادلب کے قصبے خان شیخوں میں کیمیائی حملے کا نشانہ بننے والے زیر علاج افراد۔ اس حملے میں ایک سو سے زیادہ لوگ ہلاک ہوئے۔ اپریل 2017

وہائٹ ہاؤس کے پریس سیکرٹری شان سپائسر نے دمشق کو ایک تحریری انتباہ جاری کیا تھا کہ اگر شام کے صدر بشار الاسد اور ان کی فوج نے اگر کیمیائی ہتھیاروں کا دوسرا حملہ کیا تو انہیں اس کی بھاری قیمت چکانا ہو گی۔

امریکی فوجی عہدے داروں نے کہا ہے کہ شام کے ایک ہوائی اڈے پر ایسی سرگرمیاں دکھائی دے رہی ہیں جن سے وہائٹ ہاؤس کے پیر کے اس بیان کی تائید ہوتی ہے جس میں صدر بشار الاسدکو کیمیاوی ہتھیاروں کے کسی دوسرے حملے سے باز رہنے کے لیے کہا گیا تھا۔

وہائٹ ہاؤس کے پریس سیکرٹری شان سپائسر نے دمشق کو ایک تحریری انتباہ جاری کیا تھا کہ اگر شام کے صدر بشار الاسد اور ان کی فوج نے اگر کیمیائی ہتھیاروں کا دوسرا حملہ کیا تو انہیں اس کی بھاری قیمت چکانا ہو گی۔

اقوام متحدہ کے لیے امریکی سفیر نکی ہیلی نے منگل کے روز ایوان کی ایک کمیٹی کو بتایا کہ وہائٹ ہاؤس کے پیغام کا مقصد شام کے اتحادیوں، روس اور ایران کو شام کے صدر کے لیے ان کی مسلسل حمایت کے حوالے سے خبر دار کرنا بھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ اسد بے انتہا ظالم ہیں ۔ میرا خیال ہے کہ وہ کئی حوالوں سے ظالم ہیں ۔میں اسد کی موجودگی میں کسی مستحکم شام کی توقع نہیں کر تی۔

منگل کے روز اسد نے امریکی رویے پر کسی قسم کا خوف ظاہر نہیں کیا ۔ انہوں نے روس کی مسلح أفواج کے چیف آف سٹاف کے ہمراہ اپنے ملک میں ایک روسی ہوائی اڈے کا دورہ کیا۔

دمشق اور ماسکو ان امریکی الزامات کی ترديد کر رہے ہیں کہ شام کی فوج کسی دوسرے کیمیائی حملے کا ارادہ رکھتی ہے۔

کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کو اپنی ساکھ کے لیے کسی ایسے سخت بیان کی شفافیت کے لیے بہتر طور پر تیار ہونا چاہیے تھا جیسا کہ اس نے پیر کی رات جاری کیا تھا۔

بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی روک تھام کے شعبے کی ایک سابق امریکی ڈپٹی اسسٹنٹ سیکرٹری ربیکا ہیرسمن کہتی ہیں کہ صدر کے لیے اس ضمن میں رد عمل ظاہر کر نے کی اہلیت کے حوالے سے بہت زیادہ گنجائش باقی نہیں رہی ہے کہ کیا کچھ اور کس پیمانے کا واقعہ یا حملہ ہوتا ہے یا یہ کہ حملہ ہوتا بھی ہے یا نہیں ہوتا۔

صدر ٹرمپ شام کے خلاف فوجی حملوں کا حکم دینے کے لیے پہلے ہی اپنی رضامندی ظاہر کر چکے ہیں جیسا کہ انہوں نے اپریل میں شام کے ایک کیمیائی ہتھیاروں کے حملے کے بعد دیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG