رسائی کے لنکس

logo-print

شام کے بے سہارا باشندے کرونا وائرس کا آسان ہدف


سول ڈیفنس کا ایک رکن ملک کے اندر بے گھر ہونے والے شامی باشندوں کے پناہ گزین کیمپ باب النور کو کرونا وائرس کے خطرے سے بچانے کے لیے جراثیم کش ادویات کا سپرے کر رہا ہے۔ 26 مارچ 2020

کرونا وائرس کی عالمی وبا کے نتیجے میں بیرون ملک مقیم شامی باشندے اپنے وطن میں ضرورت مندوں کی مدد کے لئے سرگرم ہو گئے ہیں۔ اس مہم کا آغاز کاوا ہیسو نے سوشل میڈیا پر اپنے ملک میں کرونا وائرس کے متعلق آگاہی پیدا کر نے سے کیا تھا، لیکن اب ان کی اس مہم نے شام کے بے سہارا لوگوں کی امداد کے لئے ایک تحریک کی شکل اختیار کر لی ہے۔

اسپورٹس کے شیدائی جانتے ہیں کہ کاوا ہسو فٹبال کے ایک جانے پہنچانے کھلاڑی ہیں جو اس وقت ہالینڈ میں مقیم ہیں۔ انھوں نے اپنے مجبور ہم وطنوں کے لئے اس مشکل گھڑی میں جو مہم چلائی تھی اس میں سینکڑوں شامی شامل ہو گئے ہیں۔

ہیسو نے وائس اف امریکہ کو بتایا کہ مجھے اس بات کا خیال اس وقت آیا جب مجھے یہ فکر ہوئی کہ کرونا وائرس کی وجہ سے وہ غریب جو اپنے گھروں سے باہر نہیں نکل پا رہے ہوں گے، ان کا کیا بنے گا اور وہ اپنے اہل خانہ کے لئےخوراک کا کس طرح بندوبست کر سکیں گے۔

شام کے شمال مشرق کے علاقے میں لاک ڈاون ہے جس کے نتیجے میں بتایا جاتا ہے کہ ہزاروں لوگ اپنے اپنے گھروں میں قید ہو کر رہ گئے ہیں۔

ہیسو نے، جن کی عمر 35 سال ہے بتایا کہ وہ اس بات کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں کہ بیرون ملک خوش حال شامی باشندے اپنے وطن میں کسی ایک ضرورت مند خاندان کی گزر بسر کا ذمہ اٹھا لیں۔ اس طرح ہزاروں لوگوں کو فاقہ کشی سے بچایا جا سکتا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ دنیا بھر میں ان کے بہت سے ساتھی کھلاڑیوں، آرٹسٹوں اور دوسری شخصیات نے اس کا مثبت جواب دیا ہے۔

کرونا وائرس نے جب کہ دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے، جنگ سے اجڑا ہوا شام بھی اس سے مثتثنٰی نہیں اور اقوام متحدہ نے بے گھر شامی باشندوں، خاص کر ان کے بارے میں جو شمال مغربی صوبے ادلب میں رہتے ہیں، سخت تشویش کا اظہار کیا ہے، اس لئے کہ وہ پہلے ہی سے تباہ حالی کا شکار ہیں۔

وائس آف امریکہ کی ایک رپورٹ کے مطابق عالمی ادارے میں انسانی ہمدردی کے امور کے رابطہ دفتر کے ایک ترجمان نے لاکھوں عام شامی باشندوں اور خاص کر شمال مغرب میں نو لاکھ سے زیادہ بے گھر ہونے والے افراد کے بارے میں اپنی پریشانی کا اظہار کیا ہے۔

شام میں دس سال کی جنگ نے ملک میں صحت کی دیکھ بھال کے نظام کو زیادہ تر تباہ و برباد دیا ہے اور اب ایسے خدشات بڑھ رہے ہیں کہ لاکھوں بےخانماں افراد کو کرونا وائرس لگنے کا زیادہ خطرہ ہے۔

اتوار کے دن شامی حکام نے بتایا کہ کرونا وائرس کے دس تصدیق شدہ کیسز سامنے آئے ہیں۔ تاہم صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تعداد کہیں زیادہ ہو سکتی ہے اس لئے کہ ملک میں جانچ پڑتال کے انتظامات محدود ہیں۔ حکام نے وائرس سے ایک شخص کی ہلاکت کی بھی خبر دی ہے۔

شامی فٹبال کھلاڑی ہیسو کا کہنا ہے کہ مخیئر لوگوں کے حوصلہ افزا ردعمل کے بعد وہ اپنی امدادی مہم کا دائرہ ان شامیوں تک بڑھا رہے ہیں جو مشرق وسطی میں بے سروسامانی کی حالت میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اور جو کرونا وائرس کا آسانی سے شکار ہو سکتے ہیں۔

تجزیہ کار کہتے ہیں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان تباہ حال شامیوں پر طویل جنگ کی ہولناکیوں کے بعد اب ایک نئی افتاد آن پڑی ہے اور وہ یقینا انسانی برداری کی توجہ کے مستحق ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG