رسائی کے لنکس

logo-print

عدم کشیدگی والے زون میں شامی خلاف ورزیاں، امریکہ ’’ٹھوس اور مناسب اقدام کرے گا‘‘


امریکی محکمہٴ خارجہ نے کہا ہے کہ جنوب مغربی شام کے ’ڈی ایس کیلیشن زون‘ کی حدود کے اندر ہونے والی خلاف ورزیوں کے جواب میں امریکہ شامی حکومت کے خلاف ’’ٹھوس اور مناسب اقدام کرے گا‘‘۔

گذشتہ برس امریکہ، اردن اور روس کی جانب سے مذاکرات کے نتیجے میں کشیدگی کم کرنے کا یہ سمجھوتا طے پایا تھا۔

جمعرات کو ایک بیان میں محکمہٴ خارجہ کی خاتون ترجمان، ہیدر نوئرٹ نے کہا ہے کہ کشیدگی کم کرنے کے اِس معاہدے اور جنگ بندی طے کرنے کے معاملات امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پوٹن کی ایما پر ہوئے تھے۔ اِن کا مقصد شام کے تنازعے کی شدت میں کمی لانے، زندگیاں ضائع ہونے سے بچانے اور بے دخل ہونے والوں کے لیے سازگار حالات پیدا کرنا تھا، تاکہ وہ رضاکارانہ طور پر بحفاظت اپنے گھروں کی جانب لوٹ سکیں۔

نوئرٹ نے کہا کہ ’’جنگ بندی والے اِس علاقے میں شامی حکومت کی جانب سے کسی طرح کی فوجی کارروائی کرنا طے کردہ عزم کی خلاف ورزی ہوگی‘‘۔

نوئرٹ نے کہا کہ امریکہ جنوب مغرب میں واقع ’ڈی ایس کیلیشن زون‘ میں استحکام اور جنگ بندی جاری رکھنے کے عزم پر عمل پیرا ہے۔

’ڈی ایس کیلیشن زون‘ اردن اور اسرائیل کے مقبوضہ ’گولان ہائٹس‘ کی سرحدوں کے علاقے پر مشتمل ہے۔ یہ ملک کا وہ علاقہ ہےجو بشار الاسد کی حکومت کے کنٹرول سے ابھی تک باہر ہے۔

نوئرٹ نے کہا کہ ضرورت اِس بات کی ہے کہ جنگ بندی کی حرمت کا خیال رکھا جائے اور اسے نافذ کیا جائے۔ اُنھوں نے روس پر زور دیا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل رُکن کی حیثیت سے، وہ حکومت ِشام پر اپنا سفارتی اور فوجی اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے حملے بند کرنے کے معاملے کو یقینی بنائے اور حکومت کو مجبور کرے کہ وہ مزید فوجی حملے بند کرے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG