رسائی کے لنکس

logo-print

مصر کے صدر محمد مرسی نے بدھ کے روز قاہرہ میں عرب لیگ کے اجلاس میں اپنے خیالات کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس بحران پرایک قرارداد لانا عربوں کی ذمہ داری ہے

مصر کے صدر نے کہاہے کہ شام کے راہنما بشارالاسد کو حالیہ تاریخ سے سبق حاصل کرنا چاہیے اور اس سے پہلے کہ بہت دیر ہوجائے انہیں اپنا عہدہ چھوڑ دینا چاہیے۔

دوسری جانب ترک وزیر اعظم نے اپنے ایک بیان میں شام کو ایک دہشت گردریاست قراردیتے ہوئے کہاہے کہ وہ بڑے پیمانے پر اپنے ہی عوام کا قتل عام کررہی ہے۔

مصر کے صدر محمد مرسی نے بدھ کے روز قاہرہ میں عرب لیگ کے اجلاس میں اپنے خیالات کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس بحران پرایک قرارداد لانا عربوں کی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے شام کی حکومت کے استعفے کے اپنے مطالبے کا ایک بار پھر اعادہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ شام میں تبدیلی کا وقت آگیا ہے اور اب اصلاحات کی باتوں میں اپنا وقت ضائع نہیں کرناچاہیے۔

مسٹر مرسی نے یہ بھی کہا کہ شام کے بحران پر بات چیت کے لیے قاہرہ میں تجویز کردہ چارملکی کمیٹی کا جلد اجلاس ہوگا۔ اس گروپ میں ترکی، سعودی عرب، ایران اور مصر شامل ہیں۔

ایک اور خبر کے مطابق ترک وزیر اعظم رجب طیب اردووان نے کہاہے کہ شام کی صورت حال پر بین الاقوامی عدم اتفاق سے مایوسی بڑھ رہی ہے۔

انہوں نے انقرہ میں حکمران جماعت کے ایک اجلاس میں کہا کہ ترکی ، شام میں ہونے والے واقعات سے اب مزید لاتعلق نہیں رہ سکتا۔
XS
SM
MD
LG