رسائی کے لنکس

logo-print

شام حمص سے شہریوں کے انخلا پر رضا مند


کارکنوں کے مطابق حمص اور باغیوں کے زیر قبضہ دیگر علاقوں میں ایک ہزار خاندان پھنسے ہوئے ہیں

شام نے کہا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی درخواست پر باغیوں کے مرکزی شہر حمص سے شہریوں کو نکالنے کے لیے تیار ہے۔ اس شہر میں جون کے اوائل سے سرکاری افواج نے حکومت مخالف تحریک کو کچلنے کے لیے شدید بمباری شروع کر رکھی تھی۔

وزارت خارجہ نے منگل کے روز کہا کہ اس نے ملک میں موجود اقوام متحدہ کے مبصرین اور مقامی حکام سے حمص سے آبادی کے انخلا کا بندوبست کرنے کے لیے رابطہ کیا ہے۔ حزب مخالف کے کارکنوں کے تخمینے کے مطابق اس علاقے میں ایک ہزار خاندان پھنسے ہوئے ہیں۔

لیکن حکومت کا کہنا ہے کہ مبصرین کی کوششوں کو ’’مسلح دہشت گرد گروپوں‘‘ کی وجہ سے کامیابی حاصل نہیں ہوسکی ہے۔ حکومتی بیان میں باغیوں پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ حمص میں شہریوں کو ’’انسانی ڈھال‘‘ کے طور پر استعمال کررہے ہیں۔

اقوام متحدہ کے مبصرین کے سربراہ رابرٹ موڈ نے شام کی حکومت اور باغیوں سے درخواست کی تھی کہ حمص کے لڑائی والے علاقوں سے زخمیوں، عورتوں اور بچوں کو نکالنے کی اجازت دی جائے۔

برطانیہ میں قائم سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق حمص اور باغیوں کے زیر قبضہ دیگر علاقوں میں درجنوں زخمی بغیر کسی طبی امداد اور ادویات کے پھنسے ہوئے ہیں۔

XS
SM
MD
LG