رسائی کے لنکس

logo-print

شام امن مذاکرات سے پہلے 'مشاورتی اجلاس' میں شرکت پر رضا مند


روس کے وزیرخارجہ سرگئی لاوروف نے اسی ماہ کہا تھا کہ وہ چاہتے ہیں شام کی حزب مخالف کے گروپ آپس میں کسی ایک سوچ پر متفق ہو جائیں تاکہ پھر دمشق کی حکومت سے براہ راست بات چیت کا انتظام کیا جائے۔

شام نے ماسکو میں ہونے والی "ابتدائی مشاورت" میں شرکت کرنے پر رضا مندی ظاہر کی ہے۔ اس مشاورت کا مقصد خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے آئندہ سال ہونے والی امن بات چیت کو دوبارہ شروع کرنا ہے۔

لیکن مغرب کی حمایت یافتہ شامی حزب مخالف کے ارکان نے روس کے اس منصوبے کو یہ کہہ کر مسترد کیا ہے کہ اس میں کوئی "منصوبہ" نہیں تھا۔

شام کے سرکاری ٹی وی نے وزارت خارجہ کے ایک ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ "شام ماسکو میں ہونے والی ابتدائی مشاورت میں شرکت کے لیے تیار ہے تاکہ عوام کی امنگوں کے مطابق بحران سے نکلنے کی راہ تلاش کی جائے۔"

شام کے صدر بشارالاسد کے قریبی اتحادی روس نے امن مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے کے لیے کوشش کی ہے۔ یہ مذاکرات رواں سال فروری میں جینیوا میں تعطل کا شکار ہوگئے تھے۔

روس کے وزیرخارجہ سرگئی لاوروف نے اسی ماہ کہا تھا کہ وہ چاہتے ہیں شام کی حزب مخالف کے گروپ آپس میں کسی ایک سوچ پر متفق ہو جائیں تاکہ پھر دمشق کی حکومت سے براہ راست بات چیت کا انتظام کیا جائے۔

لیکن لاوروف نے یہ واضح نہیں کیا کہ حزب مخالف کے کون کون سے گروپس کو اس میں حصہ لینا ہے۔ بعض گروپوں کو دمشق کی حکومت سننے کو تیار ہے جب کہ انھیں حزب مخالف کے جلاوطن گروپ تسلیم نہیں کرتے۔

حزب مخالف کی نیشنل کونسل کے ترکی میں مقیم رہنما ہادی الباہرہ نے عرب لیگ سے سربراہ نبی العرابی سے ہفتہ کو قاہرہ میں ملاقات کی تھی۔ نیوزکانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ "جیسا کہ قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں لیکن اس بارے میں کوئی منصوبہ نہیں ہے۔"

"روس کے پاس کوئی واضح منصوبہ نہیں ہے، اور اس کی طرف سے بلایا جانے والا اجلاس صرف اجلاس ہے جس کا نہ تو کوئی لائحہ عمل ہے اور نہ ہی منصوبہ۔"

XS
SM
MD
LG