رسائی کے لنکس

logo-print

عینی شاہدین اور انسانی حقوق کے لیے سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ صدر بشار الاسد کی طرف سے جمہوریت پسند مظاہرین پر گولی چلانے کے حکم کے بعد شام کی فوج کے بعض دستوں کے درمیان جنوبی شہر دیرا میں جھڑپیں ہوئی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ان جھڑپوں کا آغاز پیر کو کچھ فوجی دستوں کی طرف سے احتجاج میں شریک افراد پر فائرنگ کرنے سے انکار کے بعد ہوا۔

امریکی خبررساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ نے حزب اختلاف کے ایک ترجمان کے حوالے سے خبر دی ہے کہ فوج کی پانچویں ڈویژن میں شامل دستے مظاہرین کی حفاظت کر رہے ہیں اور اُنھوں نے چوتھی ڈویژن کی جانب سے لوگوں پر حملوں کے خلاف جوابی کارروائی بھی کی ہے۔ شامی فوج کی چوتھی ڈویژن کی کمان صدر کے بھائی مہر الاسد کر رہے ہیں۔

بدھ کو جاری کیے گئے ایک بیان میں فوج نے ان اطلاعات کو مسترد کیا کہ فوج دو حصوں میں بٹ گئی ہے۔

مزید برآں شام کی کالعدم تنظیم ’مسلم برادرہوڈ‘ نے برطانوی خبررساں ادارے کو ارسال کیے گئے ایک بیان میں شہریوں سے نماز جمعہ سے قبل سڑکوں پر نکل کر حکومت کے خلاف احتجاج میں شامل ہونے کی اپیل کی ہے۔

XS
SM
MD
LG