رسائی کے لنکس

logo-print

شام کی اسرائیلی ہوائی اڈے پر جوابی حملے کی دھمکی


تل ابیب اور یروشلم کے نزدیک واقع بن گوریان ایئرپورٹ جو اسرائیل کا سب سے بڑا اور مصروف ترین ہوائی اڈہ ہے۔

شام نے دمشق کے ہوائی اڈے پر اسرائیلی حملے کے جواب میں تل ابیب کے ہوائی اڈے کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔

اقوامِ متحدہ میں شام کے سفیر بشار الجعفری نے کہا ہے کہ اگر اسرائیل نے شام کی فضائی حدود کی خلاف ورزی جاری رکھی تو اسرائیلی سرزمین پر شام کا حملہ خارج از امکان نہیں۔

منگل کی شب مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال پر غور کے لیے ہونے والے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ماہانہ اجلاس سے خطاب میں شامی سفیر نے خبردار کیا کہ اگر سلامتی کونسل نے شام پر اسرائیل کے مسلسل حملوں کو روکنے کے لیے ضروری اقدامات نہ کیے تو ان کا ملک جوابی قدم اٹھائے گا۔

انہوں نے کہا کہ وہ سلامتی کونسل میں بیٹھے جنگ کے شوقین لوگوں پر واضح کردینا چاہتے ہیں کہ شام اپنے دفاع کا حق استعمال کرے گا اور دمشق کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر اسرائیل کے حملے کے جواب میں تل ابیب کے ہوائی اڈے کو نشانہ بنائے گا۔

اسرائیل کی فوج نے گزشتہ ہفتے کے اختتام پر شام کے دارالحکومت دمشق کے ہوائی اڈے سمیت ملک کے مختلف علاقوں پر فضائی حملے کیے تھے۔

شام کے سرکاری خبر رساں ادارے کی جاری کردہ تصویر جس میں 21 جنوری کو دمشق کے فضا میں میزائل کو پرواز کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔
شام کے سرکاری خبر رساں ادارے کی جاری کردہ تصویر جس میں 21 جنوری کو دمشق کے فضا میں میزائل کو پرواز کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔

اسرائیلی فوج نے کہا تھا کہ اس نے یہ حملے شام سے اسرائیلی علاقے پر فائر کیے جانے والےا یک راکٹ کے جواب میں کیے تھے جن کا نشانہ ایرانی فوج اور ملیشیا کے مبینہ ٹھکانے تھے۔

شام میں تشدد کی صورتِ حال پر نظر رکھنے والی ایک برطانوی تنظیم کے مطابق ان حملوں میں ہلاک افراد کی تعداد 21 ہوگئی ہے جن میں 15 غیر ملکی بھی شامل ہیں۔ برطانوی تنظیم کے مطابق ہلاک ہونے والے پندرہ میں سے 12 غیر ملکی ایران کی فوج پاسدارانِ انقلاب کے اہلکار تھے۔

اسرائیل شام میں گزشتہ چند برسوں کے دوران سیکڑوں فضائی حملے کرچکا ہے جن میں سے بیشتر کا نشانہ شام میں موجود ایرانی فوج اور اس کی حامی ملیشیاؤں کے ٹھکانے، اہلکار اور قافلے بنتے آئے ہیں۔ لیکن اسرائیلی فوج شاذ ہی ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔

منگل کو سلامتی کونسل سے اپنے خطاب میں شامی سفیر نے الزام لگایا کہ اقوامِ متحدہ نہ صرف یہ کہ اسرائیل کے خلاف کوئی اقدام کرنے میں ناکام رہی ہے بلکہ سلامتی کونسل کے مستقل ارکان کی جانب سے اسرائیل کی مسلسل حمایت اسرائیلی جارحیت کی حوصلہ افزائی کے مترادف ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ، برطانیہ اور فرانس شام کے خلاف اسرائیلی جارحیت کے حامی اور مددگار ہیں جن کی وجہ سے سلامتی کونسل نے نہ تو شام کی سرزمین پر کیے جانے والے حملوں کی کبھی مذمت کی اور نہ انہیں روکنے کا مطالبہ کیا۔

گولان ہائٹس کے علاقے میں تعینات اسرائیلی فوجی شامی علاقے کی جانب دیکھ رہے ہیں۔ (فائل فوٹو)
گولان ہائٹس کے علاقے میں تعینات اسرائیلی فوجی شامی علاقے کی جانب دیکھ رہے ہیں۔ (فائل فوٹو)

شامی سفیر نے خبردار کیا کہ اسرائیلی کارروائیوں کے جواب میں ان کا ملک گولان ہائٹس کا قبضہ واپس چھیننے پر بھی غور کر رہا ہے۔

اسرائیل نے 1967ء کی چھ روزہ جنگ کے دوران گولان ہائٹس کا علاقہ شام سے چھین لیا تھاجو اس کے بعد سے اسرائیل کا حصہ ہے۔

لیکن عالمی برادری اس علاقے کو تاحال مقبوضہ تصور کرتی ہے اور اقوامِ متحدہ بارہا اسرائیل سے گولان ہائٹس کا علاقہ شام کو واپس دینے کا مطالبہ کرچکی ہے۔

اپنے خطاب میں شام کے سفیر نے خبردار کیا کہ ان کا ملک "مشرقِ وسطیٰ کا نقشہ تبدیل کرنے کی کوششوں" کی سخت مخالفت کرے گا اور "اپنے اوپر مسلط کردہ بین الاقوامی دہشت گردوں کی جنگ "کا ڈٹ کر مقابلہ کرے گا۔

شام کے بحران میں اسرائیل کی مداخلت نے وہاں جاری بحران کو مزید پیچیدہ کردیا ہے۔ کئی عالمی طاقتوں اور علاقائی ملکوں کی فوجی موجودگی اور مسلسل سیاسی اور عسکری مداخلت کے باعث 2011ء سے شام میں جاری خانہ جنگی کے خاتمے کی تمام کوششیں اب تک ناکام رہی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG