رسائی کے لنکس

logo-print

ایک بیان میں ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ شام میں گرفتار کیے جانے والے افراد کےحوالے سے حکومت انسانیت کے خلاف جرائم کی مرتکب پائی گئی ہے

ایک ایسے وقت میں جب کہ شام میں جاری پکڑ دھکڑ کی سرکاری کاروائیاں بند کرانے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں ، انسانی حقوق کی ایک بین الاقوامی تنظیم نے الزام لگایا ہے کہ صدر بشار الاسد کے خلاف جاری تحریک کے دوران گرفتار کیے جانے والے شامی باشندوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتارہاہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ شام میں گرفتار کیے جانے والے افراد کے خلاف حکومت انسانیت کے خلاف جرائم کی مرتکب ہوئی ہے۔

بدھ کو عالمی تنظیم کی طرف سے جاری ہونے والی رپورٹ میں شام کے 25 افراد کے انٹرویوز شامل کیے گئے ہیں جنہوں نے بتایا کہ اپنی جان بچانے کے لیے ہمسایہ ملک اردن میں فرار ہونے سے قبل انہیں حراستی مراکز میں انہیں تشدد کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔

یہ رپورٹ ایک ایسے وقت پر منظر عام پر آئی ہے جب اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے شام کے لیے خصوصی مندوب کا کہناہے کہ مسٹر اسد کی حکومت نے بحران کے خاتمے کے لیے ان کے منصوبوں پر اپنے موقف کا اظہار کردیا ہے لیکن سوالات بدستور باقی ہیں۔

مسٹر کوفی عنان کے ایک ترجمان نے کہاہے کہ اقوام متحدہ کے سابق سربراہ ان تجاویز پر دمشق کی وضاحت چاہتے ہیں جو انہوں نے اختتام ہفتہ پیش کی تھیں۔

شام نے ان تجاویز پر منگل کو اپنی رائے بھیج دی تھی۔

منگل کے روزشام کے ایک ترجمان احمد فوزی نے کہا کہ شام کی سنگین اور الم ناک صورت حال کے پیش نظر وقت سب سے اہم ہے۔

XS
SM
MD
LG